حدیث

یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام )حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نَذْكُرُ إلا الحج، حتى جِئْنَا سَرِف فَطَمِثْتُ، فدخل عليَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبْكِي، فقال: «ما يُبْكِيك؟» فقلت: والله، لوَدِدْتُ أنَّي لم أكُن خرجت العَام، قال: «ما لك؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قلت: نعم، قال: «هذا شيء كَتَبه الله على بنات آدم، افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تَطُوفي بالبيت حتى تَطْهُري» قالت: فلمَّا قدمت مكة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه «اجْعَلُوها عُمرة» فأحَلَّ الناس إلا من كان معه الهَدْي، قالت: فكان الهَدْي مع النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وذَوِي اليَسَارَة، ثم أهَلُّوا حين راحُوا، قالت: فلمَّا كان يوم النَّحر طَهَرْت، فأمَرَني رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْتُ، قالت: فَأُتِيَنَا بِلَحم بَقَر، فقلت: ما هذا؟ فقالوا: أَهْدَى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن نِسَائه البقر، فلمَّا كانت ليلة الحَصْبَةِ، قلت: يا رسول الله، يرجع الناس بحجة وعُمرة وأرجع بِحَجَّة؟ قالت: فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فَأَرْدَفَنِي على جَمَلِه، قالت: فإني لأذْكُر، وأنا جَارية حَدِيثَةُ السِّن، أَنْعَسُ فيُصِيب وجْهِي مُؤْخِرَة الرَّحْل، حتى جِئْنَا إلى التَّنْعِيم، فَأَهْلَلْتُ منها بِعُمْرة؛ جزاء بِعُمْرَة الناس التي اعْتَمَرُوا.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے، ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا۔ جب سرف کے مقام پر پہنچے، تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺمیرے پاس آئے جبکہ میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کونسی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلی ہوتی! آپ نے پو چھا: تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فر مایا: یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ جیسے حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: جب میں مکہ پہنچی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو۔ چنانچہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام لوگ حلال ہو گئے۔ قربانی کے جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں۔ جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا۔ اور جب قربانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے طواف کر لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت لا یا گیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قر بانی دی ہے۔ جب محصب (مینا سے روانگی) کی رات آئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں؟ تو آپ ﷺنے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا۔ وہ کہتی ہیں: مجھے یا د پڑتا ہے کہ میں (اس وقت) نو عمر لڑکی تھی، (راستے میں) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ (بار بار) کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکرا رہا تھا، حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا، عمرے کا تلبیہ پکارا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ”ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے۔ ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا“ یعنی مدینہ سے۔ آپ ﷺ مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھنے کے بعد نکلے تھے۔ سنیچر کا دن تھا اور ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھی تھی۔ ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ایک روایت میں ہے: ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ جب کہ ان سے ایک اور صحیح حدیث میں اس طرح آیا ہے: ”ہم میں سے کچھ عمرہ کا تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ حج کا اور میں عمرہ کا تلبیہ کہہ رہی تھی“، اس طرح ان کے یہ اقوال: ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ مندرجہ ذیل احوال میں سے کسی ایک حالت سے خالی نہیں: پہلی حالت: اصل میں اس سے ان کی مراد فریضۂ حج ہے۔ اس قسم کا بیان نہیں جس کا انھوں نے احرام باندھا تھا۔ دوسری حالت: اس سے ان کی مراد گھر سے نکلتے وقت اور میقات پر پہنچ کر احرام باندھنے سے پہلے تک کا حال بیان کرنا ہے۔ تیسری حالت: ان کے علاوہ دیگر صحابہ کا حال بیان کرنا مقصود ہو گا۔ خود ان کے بارے میں نہیں۔ ”یہاں تک کہ ہم سرف کے مقام تک پہنچ گئے“ یہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔ ”فَطَمِثْتُ“ یعنی وہ حائضہ ہو گئیں۔ ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کون سی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی!“ یعنی جب انھیں حیض آ گیا، تو وہ رونے لگیں اور یہ خواہش کرنے لگیں کہ کاش وہ اس سال حج کا ارادہ نہ کرتیں! کیوں کہ ان کا یہ خیال تھا کہ وہ حائضہ ہونے کی وجہ سے حج کے تمام اعمال سے منقطع ہو جائیں گی اور اس وجہ سے بہت بڑی خیر سے محروم رہ جائیں گی۔ ”فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟“ یعنی حائضہ تو نہیں ہو گئی؟ میں نے کہا: ہاں! آپﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے“ یعنی حیض ایک طے شدہ امر ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم کے لیے لکھ دیا ہے، یہ نہ تیرے ساتھ خاص ہے اور نہ تیرے ہاتھ میں کچھ ہے۔ اس لیے رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام ) حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو“ رسول اللہ ﷺ نے انھیں بتادیا کہ حیض مناسک حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں اور نہ ہی احرام کے لیے مخل ہے۔ اس لیے دیگر حاجی جو کچھ کریں، تم بھی کرتی جاؤ۔ جیسے وقوف عرفہ ومنیٰ، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار وغیرہ۔ طواف کے علاوہ دیگر تمام ارکانِ حج ادا کر سکتی ہیں۔ جب تک پاک ہونے کے بعد غسل نہیں کر لیتیں، طواف کرنے سے اجتناب کریں گی۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو“ یعنی نبی کریم ﷺ جب مکہ پہنچے، تو جو لوگ اپنے ساتھ قربانی نہیں لائے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرے کا بنا لیں؛ چنانچہ جس نے حج کے لیےاحرام باندھا تھا، لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا، وہ اپنے احرام کو بدل کر عمرہ کا احرام کر لے۔ وہ طواف کرے، سعی کرے، بال کٹوائے اور حلال ہو جائے۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ حلال ہو جائے۔ ۔ہم نے کہا کہ کس طرح حلال ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مکمل حلال۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام صحابہ حلال ہو گئے۔ اور قربانی کا جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں“ یعنی جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں، وہ طواف، سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو گئے۔ جب کہ نبی کریم ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور وہ صحابہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے فراوانی سے نوازا تھا، حالت احرام میں باقی رہ گئے؛ کیوں کہ وہ اپنے ساتھ قربانیاں لائے تھے اور قربانی لانے والے کے لیے عمرہ کے بعد احرام اتارنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر میں قربانی لے کر نہ آیا ہوتا، تو میں بھی وہی کرتا، جو تمھیں کرنے کا حکم دیا ہے“۔ ”جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا“ یعنی جن لوگوں نے طواف کر لیا، سعی کر لی اور بال کٹوا لیے، انھوں نے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یعنی ترویہ کے دن منی کی طرف نکلتے وقت حج کا تلبیہ پکارا۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب قر بانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی“ یعنی قربانی کے دن حیض سے پاک ہو گئیں۔ یہ دس ذی الحجہ کا دن تھا۔ اس دن کا نام ”یوم نحر“ قربانیوں کو نحر کرنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے طواف افاضہ کر لیا“ یعنی یوم نحر کو جب حیض سے پاک ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ نے انھیں طواف افاضہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ اس سے فارغ ہو گئیں۔ ”ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟“ یعنی ان کے اور ان کے ساتھ موجود دیگر عورتوں کے لیے گائے کا گوشت بھیجا گیا، تو انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا۔ ”جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے“ یعنی نبی کریم ﷺ نے اپنی ہر بیوی کی طرف سے ایک ایک گائے قربانی کی ہے۔ ”جب محصب کی رات آئی“ یعنی جب منیٰ سے روانگی کی رات آئی۔ یہ ایام تشریق کے بعد والی رات ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ حجاج منی سے نکل کر محصب آکر رات گزارتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہﷺ محصب کی رات کچھ دیر سوئے اور سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ آئے اور طواف کیا۔ ”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ (دونوں) کر کے لو ٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟“ یعنی وہ مستقل حج اور مستقل عمرہ کر کے لوٹیں گے؛ کیوں کہ انھوں نے حج تمتع کیا تھا اور میں الگ سے عمرہ کیے بغیر ہی لوٹ جاؤں گی؛ کیوں کہ وہ قارن تھیں اور حج قران میں عمرہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”لوگ دو اجر لے کر لوٹیں اور میں ایک ہی اجر کے ساتھ لوٹوں؟“، وہ چاہتی تھیں کہ انھیں بھی حج کے علاوہ الگ سے عمرہ کی سعادت نصیب ہو، جیسے دیگر امہات المؤمنین اور صحابہ کو نصیب ہوئی تھی، جنھوں نے اپنے حج کے احرام کو عمرہ کے کے احرام میں بدل لیا، عمرہ مکمل کر کے یوم الترویہ سے پہلے حلال ہو گئے، پھر ترویہ کے دن مکہ سے حج کا احرام باندھا۔ اس طرح انھیں الگ الگ حج اور عمرہ ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ جب کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا عمرہ حج قران ہی میں شامل تھا۔ چنانچہ واپسی کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمھارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہے۔ یعنی دونوں مکمل ہو گئے ہیں اور یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور دیگر لوگوں کی طرح الگ عمرہ کرنے کی خواہش پر مصر رہیں۔ ”وہ کہتی ہیں: آپ ﷺ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا“ یعنی نبی کریم ﷺ نے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ مجھے تنعیم لے جائیں؛ تاکہ میں وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آؤں؛ تاکہ باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی الگ عمرے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ چنانچہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سوار کر لیا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے۔ ”وہ کہتی ہیں: مجھے یاد پڑتا ہے، میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی، راستے میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ بار بار کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا“ یعنی جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا اور تنعیم کی طرف چلے تو راستے میں شدید اونگھ کی وجہ سے ان کا سر ادھر ادھر گرتا اور کجاوے سے ٹکرا جاتا۔ ”حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا“ یعنی جب وہ مقام تنعیم پہنچ گئے، تو انھوں نے وہاں سے مستقل عمرہ کے لیے احرام باندھا، اس عمرہ کے بدلے میں جو لوگ پہلے ہی کر چکے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے عمرے کی ادائیگی کے بعد فرمایا: ”یہ تمھارے اس عمرے کے بدلے میں ہے“ یعنی یہ عمرہ اس عمرے کی جگہ ہے، جو تم حج سے الگ مستقل طور پر کرنا چاہتی تھی اور حیض کی وجہ سے کر نہیں پائی تھی۔

تشریح: العربية

معنى حديث عائشة رضي الله عنها : "خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نَذْكُرُ إلا الحج". أي: من المدينة وكان خروجه صلى الله عليه وسلم يوم السَبت لخمس ليالٍ بَقَيْنَ من ذي القِعدة بعد أن صلى بها الظهر أربع ركعات، ثم سَار إلى ذي الحليفة فَصَلى بها العصر ركعتين. "لا نَذْكُرُ إلا الحج". وفي رواية :"لا نَرَى إلا الحج". لكن جاء عنها في حديث آخر صحيح: "فمنَّا من أهَلَّ بِعمرة، ومنَّا من أهَلَّ بحج، وكنت ممن أَهَلَّ بِعمرة"، وعلى هذا يكون قولها رضي الله عنها : "لا نَذْكر إلا الحج"، وقولها: "لا نَرى إلا الحج" لا يخلو من الأحوال التالية: الحال الأولى: تريد بذلك فريضة الحج من حيث الأصل، لا بيان نوع النُّسك الذي أحرموا به. الحال الثانية: تريد بذلك عند خروجهم وقبل وصولهم إلى الميقات، والدخول في الإحرام. الحال الثالثة : تريد بذلك حال غيرها من الصحابة، ولم تقصد نفسها. "حتى جِئْنَا سَرِف". يعني: حتى وصلوا موضِعا يُقال له: "سَرِفُ"، وهو مَوضع قريب من مكة. "فَطَمِثْتُ" يعني: حاضت رضي الله عنها . "فدخل عليَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبْكِي، فقال: «ما يُبْكِيك؟» فقلت: والله، لوَدِدْتُ أنَّي لم أكُن خرجت العَام". لما حصل معها ما حصل بَكَت رضي الله عنها وتَمَنَّت أنها لم تحج معهم هذه السَّنة؛ ظنا منها أنها لما حاضت قد تنقطع عن أعمال الحج، ويفوتها بذلك الخير. " قال: «ما لك؟ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟»". أي: حِضْت . " قلت: نعم، قال: «هذا شيء كَتَبه الله على بَنَات آدم»". أي: أن الحيض أمْر مُقَدَّر ومكتوب على بنات آدم، فليس خاصًا بك وليس بيدك؛ فلا داعي للبكاء. "افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تَطُوفي بالبيت حتى تَطْهُري". فأخبرها النبي صلى الله عليه وسلم بأن الحيض لا يمنعها من المضي في نسكها، ولا يُخِلُّ بإحرامها، وأنها تفعل ما يفعله الحاج: من الوقوف بعرفة ومنى ومزدلفة ورمي الجماروسائر أفعال الحج غير الطواف، فإنها تمتنع منه حتى تَطْهر من حيضها وتغتسل. "قالت: فلمَّا قَدمت مكة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه «اجْعَلُوها عُمرة»". تعني لما قَدِم النبي صلى الله عليه وسلم مكة أمَر من لم يسوقوا الهدي أن يجعلوا إحرامهم عمرة، فمن أحرم بالحج ولم يكن ساق الهدي فإنه يَقْلب إحرامه بالحج عمرة، فيطوف ويسعى ويقصر، ثم هو قد حَلَّ من إحرامه، وفي رواية أخرى لمسلم: "فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يَحِلَّ منَّا من لم يكن معه هدى، قال: فقلنا: حِلُّ ماذا؟ قال: "الحِلُّ كُلُّه". "قالت: فأحَلَّ الناس إلا من كان معه الهَدْي، قالت: فكان الهَدْي مع النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وذَوِي اليَسَارَة". تعني أن من لم يكن معه الهدي حلُّوا من إحرامهم بعد أن طافوا وسعوا وقصروا، وبقي النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر رضي الله عنهما ومن ساق الهدي ممن وسَّعَ الله عليهم بقوا على إحرامهم؛ لأنهم ساقوا الهدي ومن ساق الهدي لم يَجز له فسخ إحرامه إلى عمرة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : "لولا أني سُقْتُ الهَدْي، لفعلت مثل الذي أمَرْتُكم به". "قالت: ثم أهَلُّوا حين راحُوا". تعني أن الذين طافوا وسعوا وقصروا، أهلوا بالحج حين راحُوا إلى منى وذلك يوم التروية، وهو اليوم الثامن من ذي الحِجة. "قالت: فلمَّا كان يوم النَّحر طَهَرْت". أي: أنها طَهَرت من حيضها يوم النحر، وهو يوم العاشر من ذِي الحِجَّة، سُمي بذلك؛ لنَحر الأضاحي فيه. "فأمَرَني رسول الله صلى الله عليه وسلم فَأَفَضْتُ". أي: بعد أن طَهَرت من حيضها رضي الله عنها يوم النَّحر أمَرَها النبي صلى الله عليه وسلم بأداء طواف الإفاضة فَفَعَلت. "قالت: فَأُتِيَنَا بِلَحم بَقَر، فقلت: ما هذا؟". يعني: أُرسل لها ولمن معها من النساء لحم بقر، ثم إنها سَألت عنه. "فقالوا: أَهْدَى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن نِسَائه البَقر". أي: أن النبي صلى الله عليه وسلم نَحَر عن كل واحدة من نسائه بقرة. "فلمَّا كانت ليلة الحَصْبَةِ". يعني لمَّا كانت ليلة النزول من منى، وهي الليلة التي بعد أيام التشريق وسميت بذلك؛ لأنهم نَفَروا من منى فنزلوا في المُحَصَّب وباتوا به، وفي البخاري : "أن النبي صلى الله عليه وسلم رقَد رقْدَةً في المُحصَّب، ثم ركِبَ إلى البيت فطاف به". "قلت: يا رسول الله، يرجع الناس بِحَجَّة وعُمرة وأرجع بِحَجَّة؟". أي يرجعون بحج منفرد وعمرة منفردة؛ لأنهم كانوا متمتعين، وأرجع أنا وليس لي عمرة منفردة؛ لأنها كانت قارنة، والعمرة في القران داخلة في الحج بالنية، وفي رواية لمسلم "أيرجع الناس بأجرين وأرجع بأجر؟"، فهي أرادت أن يكون لها عمرة منفردة عن الحج، كما حصل لسائر أمهات المؤمنين وغيرهن من الصحابة الذين فسخوا الحج إلى العمرة، وأتموا العمرة وتحللوا منها قبل يوم التروية، ثم أحرموا بالحج من مكة يوم التروية، فحصل لهم عمرة منفردة وحجة منفردة، وأما عائشة فإنما حصل لها عمرة مندرجة في حجة بالقران، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم يوم النفر يسعك طوافك لحجك وعمرتك، أي: وقد تما وحسبا لك جميعا، فأبت وأرادت عمرة منفردة كما حصل لباقي الناس. "قالت: فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر، فَأَرْدَفَنِي على جَمَلِه". أي : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أخاها عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنهما بأن يخرج بها إلى التَّنْعِيم؛ لتأتي منه بعمرة، حتى تكون مثل بقية الناس، فأردفَها رضي الله عنه خَلفه كما في رواية مسلم الأخرى. "قالت: فإني لأذْكُر، وأنا جَارية حَدِيثَةُ السِّن، أَنْعَسُ فيُصِيب وجْهِي مُؤْخِرَة الرَّحْل". أي: عندما أردفها عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنه خلفه، وسار بها إلى التنعيم كانت تَنْعَس حتى أنها رأسها يسقط من شِدَّة النُّعاس، فيضرب في مؤخرة الرَّحْل. "حتى جِئْنَا إلى التَّنْعِيم، فَأَهْلَلْتُ منها بِعُمْرة؛ جزاء بِعُمْرَة الناس التي اعْتَمَرُوا". أي لما وصلا إلى التنعيم، أهلت رضي الله عنها بعمرة مستقلة بأعمالها مقام عمرة الناس التي اعتمروها أولا. وفي رواية في الصحيحين أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لها بعد أن أدَّت العمرة : "هذه مكان عمرتك" أي: هذه العمرة مكان العمرة التي كنت تريدين حصولها منفردة غير مندرجة مع الحج، فمنعك الحيض من القيام بها.

  • مشروعية خروج النساء للحج متى ما توفرت شروطه، ومنها المحرم.
  • جواز السفر يوم السبت، وكانت أكثر أسفاره -صلى الله عليه وسلم- يوم الخميس.
  • جواز استعمال: "لو" إذا لم يترتب عليها محذور شرعي، ويؤكده قوله -صلى الله عليه وسلم-: "لو استقبلت من أمري ما استدبرت" الحديث.
  • حرص عائشة -رضي الله عنها- على إكمال الطاعة على أفضل وجه، ولهذا تمنت أنها لم تحج معهم تلك السَّنة، ظنًّا منها أنها لن تكمل نسكها؛ بسبب حيضها.
  • تسمية الحيض نفاساً.
  • أنه ينبغي تَسْلِية المُصَاب بذكر ما كان مثل مُصيبته أو أشد.
  • أن دم الحيض دم طبيعة بخلاف من قال أنه دَم عقوبة عُوقبت به نساء بني إسرائيل، والحديث يرده؛ لأنه قال: "كتبه الله على بنات آدم".
  • أن ما قُدِّر على بَني آدم رجالهم ونِسَائهم لا يمكن تخلُّفه بحال من الأحوال.
  • صحة جميع أعمال الحج من الحائض والنفساء: من الوقوف بعرفة، والمبيت بمزدلفة، ورمي الجمار، والمبيت بمنى، والسعي بين الصفا والمروة.
  • إدخال الحج على العمرة؛ لأن عائشة -رضي الله عنها- أحرمت بعمرة وعندما حاضَت مُنعت من الطواف لأداء العمرة؛ فأدخلت الحج على العمرة، فصارت قارنة.
  • أن جميع أعمال الحج لا تُشترط لها الطهارة من الحَدَث الأكبر عدا الطواف بالبيت.
  • اشتراط الطهارة من الحدث الأكبر للطواف؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري) فدل ذلك على أن الطهارة شرط لصحة الطواف.
  • لا تشترط الطهارة للإحرام، فيصح أن يحرم الإنسان وهو على غير طهارة، والأفضل أن يكون على طهارة إن أمكن ذلك.
  • أن الحائض ممنوعة من دخول المسجد.
  • قَلْب الإحرام بالحج إلى عمرة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: (اجْعَلُوها عُمرة) وكان ذلك واجبًا على الصحابة -رضي الله عنهم- في ذلك العام.
  • أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان قارنا في حَجَّته.
  • أن أبا بَكر وعمر وجمع من الصحابة -رضي الله عنهم- المَيْسُوِرين منهم قَرَنوا بين الحج والعُمرة.
  • أن الأفضل في حق من كان بمكة أن يُحرم بالحج يوم التروية ولا يُقَدِّمه عليه؛ لقولها -رضي الله عنها-: "أحرموا حين راحُوا"، ورواحهم كان يوم الثامن، وهو يوم التروية.
  • استحباب المُبادرة بطواف الإفاضة يوم النَّحَر.
  • لا حرج في السؤال عمَّا خَفِي أمره؛ لأن عائشة -رضي الله عنها- سألت عن اللحم الذي أرسل لها؛ لجهلها بحاله.
  • جواز إهداء البقر.
  • وجوب الهَدي على القَارن؛ لأن عائشة -رضي الله عنها- حَجَّت قارنة وأهدى عنها -عليه الصلاة والسلام-.
  • لا يلزم الزوج أن يهدي زوجته، وما فعله -صلى الله عليه وسلم- مع نسائه، فهذا من كريم خلقه، وحسن عشرته.
  • نزوله -صلى الله عليه وسلم- المُحَصَّب؛ لكونه أسمح لخروجه، ولا علاقة له بالمناسك إلا من جهة التخفيف على الحجيج.
  • دليل على جواز الإرْدَاف إذا كانت الدَّابة مُطيقة، وقد تظاهرت الأحاديث الصحيحة بذلك .
  • جواز إردَاف الرجل المرأة إذا كانت من محارمه والخلوة بها.
  • وجوب خروج المكي ومن أخذ حكمه من مكة، إذا أراد أن يحرم بعمرة، فيخرج إلى أدنى الحِل، سواء كان التنعيم أو غيره.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید