حدیث

اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیوں کہ مجھے جہنم کے اندر تمھاری تعداد سب سے زیادہ دیکھائی گئى ہے"۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ إِلَى المُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقُلْنَ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ العَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ»، قُلْنَ: وَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ شَهَادَةُ المَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ» قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ» قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَلِكِ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم عید الاضحی یا عید الفطر کے دن عید گاہ کی جانب نکلے اور اس دوران عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: "اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو، کیوں کہ مجھے جہنم کے اندر تمھاری تعداد سب سے زیادہ دیکھائی گئى ہے"۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم لعن طعن زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند اور تجربہ کار آدمی کے عقل کو ماؤف کردینے والا نہیں دیکھا"۔ عورتوں نے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! ہمارے دین اور ہماری عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا عورت کی گواہی مرد کی آدھی گواہی کے برابر نھیں ہے؟" انہوں نے کہا: جی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی اس کی عقل کی کمی ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟" عورتوں نے کہا: جی ایسا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی اس کے دین کی کمی ہے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم عید کے دن عید گاہ کی جانب نکلے۔ چوں کہ آپ نے عورتوں سے وعدہ کر رکھا تھا کہ انھیں الگ سے دین کی باتیں بتائيں گے، اس لیے اس دن وعدہ پورا کر دیا۔ اس درمیان آپ نے کہا: اے عورتو! تم صدقہ کیا کرو اور زیادہ سے زیادہ مغفرت طلب کیا کرو کہ یہ دونوں گناہوں کی معافی کے دو عظیم ترین اسباب ہیں۔ کیوں کہ میں نے اسرا کی رات جہنم کے اندر تمھاری تعداد زیادہ دیکھی۔ اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک عقل وخرد کی مالک با وقار عورت نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جہنم کے اندر ہماری تعداد زیادہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: اس کی کئی وجوہات ہیں: تم بہ کثرت لعن طعن اور گالی گلوج کرتی ہو اور شوہر کے حق کا انکار کرتی ہو۔ پھر آپ نے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم (عورتوں) سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقل مند، دور اندیش اور ضبط کے مالک شخص کی عقل کو ماؤف کر دینے والا نہيں دیکھا۔ اس عورت نے عرض کیا: ہماری عقل اور ہمارے دین کی کمی کہاں سے عیاں ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا: جہاں تک عقل کی کمی کی بات ہے، تو دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ یہ عقل کی کمی ہوئی۔ جب کہ دین کی کمی یہ ہے کہ اس کے اعمال صالحہ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ حیض کی وجہ سے وہ کئی دنوں تک نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں اس کے کئی روزے چھوٹ جاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ حیض کی وجہ سے نماز اور روزہ چھوڑنے کی بنا پر عورت کو برا بھلا نہیں کہا جائے گا اور اس کی پکڑ بھی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ یہ فطری چیز ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے انسان فطری طور پر مال کا گرویدہ، جلد باز اور نادان ہوا کرتا ہے... لیکن آپ نے اس کی تنبیہ فرمائی تاکہ عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ہوشیار رہا جائے۔

فوائد

  • عورتوں کا عید کی نماز کے لیے نکلنے اور ان کے لیے الگ سے وعظ ونصیحت کا بندوبست کرنا مستحب ہے۔
  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر کی نافرمانی اور کثرت سے لعنت کرنا گناہ کبیرہ ہے؛ کیوں کہ جہنم کی دھمکی اس بات کی علامت ہے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔
  • اس حدیث میں ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کا بیان ہے۔ لہذا جس نے اپنی عبادت کو بڑھایا اس کے ایمان اور دین میں اضافہ ہوا اور جس نے اپنی عبادت میں کمی کی اس کے دین میں کمی آئی۔
  • نووی کہتے ہیں: عقل میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایمان میں بھی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عورتوں کے اندر موجود کمی کو بیان کرنے کا مقصد اس پر ان کی ملامت کرنا نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ کمی ان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ یہاں اسے بیان کرنے کا مقصد ان کے فتنے میں پڑنے سے آگاہ کرنا ہے۔ اسی وجہ سے عذاب کی وجہ شوہر کی ناشکری بتائی گئی ہے، ان کے اندر موجود کمی نہيں۔ دین کی کمی کا انحصار انھیں باتوں پر نہيں ہے جن سے گناہ ہوتا ہے، بلکہ اس کا دائرہ اس سے کہيں زیادہ وسیع ہے۔
  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر بات کا مطلب واضح نہ ہوتا ہو تو متعلم عالم سے اور تابع متبوع سے وضاحت طلب کر سکتا ہے۔
  • اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی ہے، کیوں کہ اس کے اندر ضبط وحافظہ کی کمی پائی جاتی ہے۔
  • ابن حجر عسقلانی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث "مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ" کے بارے میں لکھتے ہیں: مجھے لگتا ہے جہنم کے اندر عورتوں کی اکثریت ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ کیوں کہ جب یہ عورتیں عقل مند انسان کی عقل کو ماؤف کر دینے کا سبب ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نامناسب بات یا نامناسب کام کر بیٹھتا ہے، تو گویا کہ اس گناہ میں وہ بھی شریک ہوئیں۔
  • عورت کے لیے حیض کے ایام میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ یہی حال نفاس والی عورت کا بھی ہے۔ دونوں پاک ہو جانے کے بعد روزے کی قضا کریں گی، نماز کی نہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلاق کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی پھٹکاروملامت کے خواتین کے سوالوں کے جواب مرحمت فرمادیے۔
  • ابن حجر کہتے ہيں: صدقہ عذاب کو دور کرتا ہے۔ وہ کبھی کبھی مخلوقوں کے درمیان ہونے والے گناہ کو بھی مٹا دیتا ہے۔
  • نووی کہتے ہيں: عورتوں کا دینی نقص حیض کے دنوں میں نماز اور روزہ چھوڑنے کی وجہ سے ہے۔ کیوں کہ جس کی عبادت زیادہ ہوتی ہے، اس کا دین اور ایمان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جس کی عبادت کم ہوتی ہے، اس کے دین میں کمی آجاتی ہے۔ پھر دینی نقص کبھی گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ جیسے نماز اور روزہ جیسی واجب عبادتوں کو بلا عذر چھوڑ دینا۔ کبھی گناہ کا سبب نہیں بھی بنتا۔ جیسے ایسے شخص کا جمعہ اور جہاد چھوڑنا، جس پر دونوں واجب نہ ہوں۔ جب کہ کبھی کبھی انسان اس کا مکلف ہوتا ہے جیسے حائضہ عورت کا نماز اور روزہ چھوڑنا۔
تشریح: العربية

خَرَجَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم في يومِ عيدٍ إلى المصلى، وكان قد وَعَدَ النساءَ بأن يُفْرِدَهُن بالموعظة، فأنجزه ذلك اليوم، وقال: يا جماعةَ النساء تَصدقن، وأكثِرْن الاستغفار؛ فهما من أعظم أسباب حط الخطايا، فإني رأيتكن ليلة الإسراء أكثرَ أهل النار. فقالت امرأة منهن ذات عقل ورأي ووقَار: وما لنا يا رسول الله أكثر أهل النار؟ قال: لأمور: تُكثرن اللعن والسَّبّ، وتَجْحَدْنَ حقَّ الزوج. ثم وَصَفهن بقوله صلى الله عليه وسلم: ما رأيت مِن ناقصات عقل ودين أَغْلَبَ لذي لُبٍّ وعقل وحزم وضبط لأمره منكن. قالت: يا رسول الله، وما نقصان العقل والدين؟ قال: أما نقصان العقل فشهادة امرأتين تَعدل شهادة رجل واحد؛ فهذا نقصان العقل، ونقصان الدين هو نقصان العمل الصالح حيث تَمكُثُ ليالي وأيامًا لا تصلي بسبب الحيض، وتفطر أيامًا من رمضان بسبب الحيض، فهذا نقصان الدين، إلا أنهن لا يُلَمْنَ على ذلك ولا يؤاخَذْن عليه؛ لأنه من أصل الخِلْقَة، كما أن الإنسان فُطِرَ وخُلِقَ يُحِبُّ المال وعجول في أموره وجهول… وغير ذلك، لكن نَبَّه على ذلك تحذيرًا من الافتتان بهن.

  • استحباب خروج النساء إلى صلاة العيد، وأن يُفْردْن بالموعظة.
  • كُفران العَشير وكثرة اللعن من الكبائر؛ لأن التَّوعُّد بالنار من علامة كون المعصية كبيرة.
  • فيه بيان زيادة الإيمان ونقصانه، فمن كَثُرت عِبادته زاد إيمانه ودِينه، ومن نَقصت عِبادته نَقص دِينه.
  • قال النووي: العقل يقبل الزيادة والنقصان، وكذلك الإيمان، وليس المقصود بذكر النقص في النساء لومَهن على ذلك؛ لأنه من أصل الخِلقة، لكن التنبيه على ذلك تحذير من الافتتان بهن، ولهذا رتَّب العذاب على ما ذُكر من الكفران وغيره لا على النقص، وليس نقص الدين مُنحصرًا فيما يحصل به الإثم بل في أعم من ذلك.
  • فيه مُراجعة المُتعلم العالم والتَّابع المَتْبُوع فيما قاله إذا لم يظهر له معناه.
  • فيه أن شهادة المرأة على نِصف شهادة الرَّجل وذلك لقِلَّة ضبطِها.
  • قال ابن حجر في قوله: "ما رأيت من ناقصات... إلخ" ويظهر لي أن ذلك من جملة أسباب كونهن أكثر أهل النار؛ لأنهن إذا كُنّ سببًا لإذهاب عقل الرجل الحازم حتى يفعل أو يقول ما لا ينبغي فقد شَارَكْنَه في الإثم وزِدْن عليه.
  • تحريم الصلاة والصوم على المرأة في زمن حيضها، ومثلها النفساء، ثم تقضيان الصيام فقط حال طهرهما.
  • حسن خُلق النبي صلى الله عليه وسلم فقد أجَاب النِّساء عن أسئلتِهن من غير تَعْنِيف ولا لَوْم.
  • قال ابن حجر: أن الصدقة تدفع العذاب، وأنها قد تكفر الذنوب التي بين المخلوقين.
  • قال النووي: نقصان الدين عند النساء بسبب تركهن الصلاة والصوم في زمن الحيض؛ فإن من كثرت عبادته زاد إيمانه ودينه، ومن نقصت عبادته نقص دينه، ثم نقص الدين قد يكون على وجه يأثم به كمن ترك الصلاة أو الصوم أو غيرهما من العبادات الواجبة عليه بلا عذر، وقد يكون على وجه لا إثم فيه كمن ترك الجمعة أو الغزو أو غير ذلك مما لا يجب عليه بلا عذر، وقد يكون على وجه هو مُكَلَّف به كترك الحائض الصلاة والصوم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید