ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أُمِّ عَطِيَّةَ رَضي الله عنها، وكَانَتْ بايَعَت النبيَّ صلى الله عليه وسلم، قالت: كُنَّا لا نَعُدّ الكُدرَةَ والصُّفْرَةَ بعدَ الطُّهرِ شيئًا.
ترجمہ
ام عطیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا، جنھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) گدلے اور پیلے رنگ کے پانی کو کچھ شمار نہيں کرتے تھے۔
تشریح
صحابیہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ عورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں حیض سے پاک ہونے کے بعد فرج سے نکلنے والے سیاہی مائل یا زردی مائل پانی کو حیض نہیں سمجھتی تھیں۔ چنانچہ اس کی وجہ سے نماز اور روزہ نہیں چھوڑتی تھیں۔
فوائد
- حیض سے پاکی کے بعد، عورت کی شرمگاہ سے جو پانی نکلتا ہے اس کا اعتبار نہیں ہے، گرچہ اس میں خون سے حاصل ہونے والا گدلہ پیلہ رنگ ہی کیوں نہ ہو۔
- لیکن اگر حیض اور معمول کے دوران گدلے اور زرد رنگ کا مادہ نکلے، تو اسے حیض ہى سمجھا جائے گا؛ کیونکہ یہ اپنے وقت پر آنے والا خون ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں پانی کی ملاوٹ ہے۔
- عورت پاک ہو جانے کے بعد آنے والے گدلے اور زرد رنگ کے مادے کی وجہ سے نماز اور روزہ نہيں چھوڑے گی۔ وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرے گی۔
تشریح: العربية
أَخْبَرتْ الصحابيّةُ أُمُّ عَطية رضي الله عنها أنَّ النساء في عَهد النبيِّ صلى الله عليه وسلم لا يَعْتَبِرْنَ الماءَ الذي يَخرُج من الفَرْج -والذي يَميل لونُه إلى السواد، أو إلى الاصفرار- بعدَ رؤية الطُّهرِ مِن الحيض: حيضًا، فلا يَتْرُكْنَ الصَّلاة ولا الصوم لأجله.
- الماء الذي ينزل من فرج المرأة -بعد الطهر من الحيض- لا يُعتبر ولو كان فيه الكدرة والصفرة المكتسبة من الدم.
- نزول الكدرة والصفرة زمن الحيض والعادة يعتبر حيضًا؛ لأنه دم في وقته، إلا أنه ممتزج بماء.
- لا تترك المرأة الصلاة ولا الصوم لأجل الكدرة والصفرة التي بعد الطهر، بل تتوضأ وتصلي.