ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن حَمْنَة بنت جَحش رضي الله عنها قالت: كنت أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شَدِيدة، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أَسْتَفْتِيه وأُخْبِرُه، فَوجدْتُه في بيت أختي زينب بنت جَحش فقلت: يا رسول الله، إني امرأة أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شديدة، فما تَرى فيها، قد مَنَعَتْنِي الصلاة والصوم، فقال: «أَنْعَتُ لك الكُرْسُف، فإنه يُذهِبُ الدَّم». قالت: هو أكثر من ذلك، قال: «فاتَّخِذِي ثوبا». فقالت: هو أكثر من ذلك إنما أَثُجُّ ثَجًّا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سَآمُرُك بأمْرَين أيهما فَعَلْتِ أجْزَأَ عَنْكِ من الآخر، وإن قَوِيتِ عليهما فأنتِ أعْلَم». قال لها: «إنما هذه رَكْضَةٌ من رَكَضَات الشيطان فَتَحَيَّضِي ستَّة أيام أو سبعة أيَّام في عِلْم الله، ثم اغْتَسِلِي حتى إذا رأيت أنك قد طَهُرْتِ، واسْتَنْقَأْتِ فصلِّي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي، فإن ذلك يُجْزِيكِ، وكذلك فافْعَلي في كل شهر كما تحيض النساء، وكما يَطْهُرْن مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وإن قَوِيت على أن تُؤَخِّري الظهر وتُعَجَلِّي العصر فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين الظهر والعصر، وتُؤَخِّرِين المغرب وتُعَجِّلين العشاء، ثم تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين فافْعَلي، وَتَغْتَسِلِينَ مع الفجر فافْعَلي، وصُومي إن قَدِرت على ذلك»، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «وهذا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إليَّ».
ترجمہ
حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت ہی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لیے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں پایا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ميں ايسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمھیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو۔“ (یعنی تم اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے جو چاہو کرو)۔” چنانچہ آپ ﷺنے حمنہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: “یہ استحاضہ تو دراصل شیطانی کچوکا ہے لہٰذا تم (ہر مہینہ) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات روز حیض کے ایام شمار کرو۔ پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘
تشریح
حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ’’مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا۔‘‘ یعنی ان کا خون بہت لمبے عرصے تک جاری رہتا اور بہت شدت اور تیزی سے نکلتا تھا۔ ’’میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ ” یعنی حمنہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس یہ دریافت کرنے آئیں کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے اور اس سلسلے میں ان پر کیا کرنا واجب ہے۔ ’’چنانچہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، جس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔‘‘ ” یعنی وہ اس آنے والےخون کی وجہ سے نماز روزے سے رکی ہوئی تھیں اس خیال سے کہ یہ حیض کا خون ہے اور شروع میں انہیں ایسے ہی لگا تھا۔ بعد ازاں نبی ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ان کا اس انداز میں بہنے والا خون حیض کا نہیں بلکہ شیطان کے کچوکے کا اثر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیوں کہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘ یعنی روئی کا استعمال کرو بایں طور کہ اسے اپنی شرم گاہ پر رکھ کر باندھ لو تاکہ خون رک جائے۔ ’’انھوں نے کہا: وہ تواس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ یعنی نکلنے والا خون بہت زیادہ اور شدید ہے اور روئی سے مقصد پورا نہیں ہوگا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر کپڑا رکھ لو۔‘‘ یعنی روئی کے ساتھ ساتھ کپڑا بھی رکھ لو تاکہ یہ دبیز (موٹا) ہوجائے اور اس سے خون رک جائے۔ ’’تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔‘‘ یعنی خون کثرت اور زور سے بہ رہا ہے، لھٰذا وہ نہ تو روئی سے رکنے والا ہے اور نہ ہی کپڑے سے، کیونکہ وہ بہت زیادہ ہے۔ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ یعنی دو حکموں میں سے کسی ایک کا، اور ان دونوں کی تفصیل اس طرح ہے: پہلا: ہر نماز کے لیے غسل کیا جائے۔ دوسرا: ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھی جائیں اور تیں بار غسل کیا جائے۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کے لیے۔ ’’ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے دوسرے کی طرف سے کافی ہو گا۔‘‘ یعنی تمہیں ان دونوں باتوں میں اختیار ہے کہ جو چاہو کر لو۔ ’’اگر تم میں ان دونوں کو کرنے کی طاقت ہے تو تم بہتر جانتی ہو۔‘‘ یعنی پہلے اور دوسرے دونوں کاموں کو کرنے کی اگر تم میں طاقت ہے تو تم اپنے بارے میں زیادہ جانتی ہو۔ بہر حال ان میں سے جو چاہو اختیار کر لو۔ ’’پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ در اصل شیطان کے کچوکے مارنے کا اثر ہے۔‘‘ یعنی شیطان کو ان کے دین، پاکیزگی اور نماز کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالنے کا موقع مل گیا یہاں تک کہ اس نے انہیں ان کی عادت بھلوا دی اور وہ اندازہ کرنے کے زمرے میں ہو گئی۔ گویا یہ شیطان کی طرف سے ایک ٹھوکر ہے۔ جبکہ یہ بات اس کے منافی نہیں کہ اس کا سبب "عاذل" نام کی ایک رگ بھی ہو جیسا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: ’’میں ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا ہے، جس کی وجہ سے میں پاک نہیں ہوتی۔ تو کیا میں نماز کو چھوڑے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ سے بہنے والا خون ہے۔‘‘ چنانچہ یہ کہا جائے گا کہ شیطان اس رگ پر لات مارتا ہے جس سے یہ پھٹ جاتی ہے۔ راجح یہی ہے کہ وہ حقیقت میں لات مارتا ہے کیونکہ یہ معنیٰ مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ’’چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو۔‘‘ یعنی چھے یا سات دن تک یہ سمجھو کہ تم حیض میں ہو اور ان میں نماز و روزے کو ترک کر دو۔ یہ اس اعتبار سے ہے کہ عموماً عورتوں کو چھ یا سات دن ہی حیض آتا ہے۔ ’’اللہ کے علم میں‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کے شریعت کی رو سے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ’’چھے یا سات دن‘‘ میں (یا) بیانِ شک کے لیے نہیں ہے، بلکہ تنویع کے لیے اور یہ اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ بعض عورتوں کو چھے دن حیض آتا ہے اور بعض کے ایامِ حیض سات دن ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی ان قریبی رشتہ دار خواتین کو دیکھے گی جو اس کی ہم عمر ہوں اور ان کا مزاج اس سے ملتا جلتا ہو۔ (اور پھر فیصلہ کریں گی کہ ان کے ایام حیض چھے دن ہوں گے یا سات دن)۔ ’’پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی چھے یا سات دن گزر جائیں تو پھر حیض ختم ہو جانے کی وجہ سے تم پر غسل کرنا واجب ہو گا۔ پھر چھے یا سات دن گزرنے کے بعد جتنے دن بچیں گے جو یا تو تیئیس دن ہوں گے یا پھر چوبیس دن، وہ ایامِ طہر ہوں گے۔ ان میں تم وہ سب کچھ کرو گی جو حیض سے پاک عورتیں کرتی ہیں یعنی نماز پڑھو گی اور روزہ رکھو گی۔ تمہارے لئے ایسا کرنا کافی ہے۔ ’’اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ ‘‘ یعنی ہر مہینے میں چھے یا سات دن حیض کے شمار کرو جیسا کہ دیگر عورتوں کے دن ہوتے ہیں۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھو۔ اس طرح سے تمہاری مدتِ طہر اتنی ہی ہو گی جتنی عموماً دیگر عورتوں کی ہوتی ہے یعنی تیئیس یا چوبیس دن۔ ’’اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘ يعنی اگر تم میں اس بات کی قدرت ہو کہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو اور اسی طرح مغرب کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عشاء کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو، جسے علماء جمعِ صوری کہتے ہیں، جب کہ فجر کی نماز کے ليے الگ سے غسل کرليا کرو، اگر تم میں ایسا کرنے کی طاقت ہو تو ایسا کرلو۔ اس طرح سے مستحاضہ عورت تین دفعہ غسل کرے گی۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے اور دو دو نمازوں کے مابین جمعِ صوری کرے گی۔ ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔” یعنی ظہر اور عصر کی نمازوں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا اور تمہارا تین دفعہ غسل کرنا بایں طور کہ ایک غسل ظہر اور عصر کے لئے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لئے اور ایک غسل فجر کے لئے مجھے زیادہ پسند ہے۔ پہلی بات ہر نماز کے لیے غسل کرنا ہے لیکن اس حدیث میں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم سنن ابو داود کی ایک اور روایت میں ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کریں۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر تم میں طاقت ہو تو پھر ہر نماز کے لئے غسل کرو، ورنہ ایک غسل کے ساتھ دو دو نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھ لو۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر نماز کے لیے غسل کرنے میں واضح مشقت ہے اسی لیے نبی ﷺ نے دوسری صورت کے بارے میں فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘ یعنی ان دونوں میں سے یہ مجھے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ پہلی صورت سے زیادہ سہل اور آسان ہے۔
تشریح: العربية
معنى حديث حَمنة رضي الله عنها "كُنت أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شَدِيدة" أي أن الدم كان ينزل منها ويستمر لمدة طويلة بشِّدة وقوة عند خروجه. "فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أَسْتَفْتِيه وأُخْبِرُه" ثم إنها جاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم تسأله عن الحكم الشَّرعي، وما الذي يجب عليها. "فقلت: يا رسول الله، إني امرأة أُسْتَحَاض حَيْضَة كثيرة شديدة، فما تَرى فيها قد مَنَعَتْنِي الصلاة والصوم" يعني: أن الدم النازل منها جعلها تتوقف عن الصلاة والصوم بناء على أنه دمُ حيض، وهذا هو المتبادر لها في أول الأمر، ثم بَيَّنَ لها النبي صلى الله عليه وسلم أن الدم النازل منها بهذه الصفة إنما هو ركَضة من الشيطان وليس بِدَم حيض. فقال: «أَنْعَتُ لك الكُرْسُف، فإنه يُذهب الدَّم». أي: استخدمي القُطن؛ وذلك بأن تجعله على فَرجها وتَشُّده عليه حتى يُمسك الدم. "قالت: هو أكثر من ذلك" أي: أن الدم النازل كثير وشديد والقطن لا يمكن أن يؤدى به الغَرَضُ. قال: «فاتَّخِذِي ثوبا». أي: أضيفي إلى القطن ثوبا حتى يكون كثيفا يمسك به الدم. "فقالت: هو أكثر من ذلك إنما أَثُجُّ ثَجًّا" أي: أن الدم يَصُّب منها بكثرة وقوة، فلا يَسْتَمْسك بالقُطن ولا بالثياب؛ لأنه ينزل بغزارة وبكثرة. "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «سَآمُرُك بأمْرَين»" يعنى: أحد حكمين، وهما كما سيأتي : الأول: الاغتسال لكل صلاة. والثاني: أن تجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء وتغتسل ثلاث مرات للظهر والعصر غسلا واحدا، وللمغرب والعشاء غسلا واحدا، وللفجر غسلا واحدا. "أيهما فعلت أجزأ عَنكِ من الآخر" يعني: أنتِ بالخيار بين هذين الأمرين. "وإن قَوِيتِ عليهما فأنتِ أعْلَم "أي: قَدِرتِ عليهما، أي الأول والثاني فأنت أعلم بحالك، فاختاري أيهما شئت منهما. "ثم قال لها: «إنما هذه رَكْضَةٌ من رَكَضَات الشيطان »" والمعنى: أن الشيطان قد وجد سبيلا إلى التَّلبيس عليها في أمْرِ دينها وطهرها وصلاتها؛ حتى أنْسَاها عادتها، وصارت في التقدير كأنها ركْضَة منه، ولا ينافي أن يكون عِرْق يقال له العَاذِل كما جاء في حديث فاطمة بنت أبي حُبيش رضي الله عنها في قولها :" إني امرأة استحاض فلا أطهر أفأدع الصلاة؟ قال: لا إنما ذلك عِرْق، وليس بحيض " فَيُحمل على أن الشيطان رَكَضَه حتى انْفَجَر، والأظهر أنها ركضة منه حقيقة؛ إذ لا مانع من حملها عليه. "فَتَحَيَّضِي ستَّة أيام أو سبعة أيَّام" أي: دَعِي الصلاة والصوم واعتبري نفسك حائضا مدة ستة أيام أو سبعة أيام، فتجلسها وتترك الصلاة فيها، وهذا باعتبار أن غالب عادة النساء ستة أيام أو سبعة أيام. "في عِلْم الله" أي: في حكم الله وشرعه، وقوله :"ستة أيام أو سبعة أيام" "فأو" هنا ليست للشك إنما هي للتنويع والدلالة على أن بعض النساء يحِضْن ستة أيام، وبعضهن يحِضْن سبعة أيام فترجع إلى قريباتها من النساء من هي في سِنْها، وأقرب إلى مِزَاجِها. "ثم اغْتَسِلِي حتى إذا رأيتِ أنك قد طَهُرْتِ، واسْتَنْقَأْتِ فصلِّي ثلاثا وعشرين ليلة أو أربعا وعشرين ليلة وأيامها وصومي فإن ذلك يُجْزِيكِ" يعني: إذا مضت ستة أو سبعة أيام وجب عليك الاغتسال من الحيض، ثم ما زاد على ستة أيام أو سبعة أيام وهي: إما ثلاثة وعشرون يوما أو أربعة وعشرون يوما، فهي أيام طُهر افعلي فيها كل ما تفعله الطاهرات من الصوم والصلاة، فإن هذا يكفي عنكِ. "وكذلك فافْعَلي في كل شَهر كما تحيض النساء، وكما يَطْهُرْن مِيقَاتُ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ" يعني: تحيضي كل شهر ستة أيام أو سبعة أيام كعادة النساء، ثم اغتسلي وصلي، وهكذا وقت طهرك يكون بقدر ما يكون عادة غالب النساء من ثلاث وعشرين أو أربع وعشرين. "وإن قَوِيت على أن تُؤَخِّري الظهر وتُعَجلي العصر فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين الظهر والعصر، وتُؤَخِّرِين المغرب وتُعَجِّلين العشاء، ثم تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بين الصلاتين فافْعَلي، وَتَغْتَسِلِينَ مع الفجر فافْعَلي، وصُومي إن قَدِرتِ على ذلك». والمعنى: إذا قَوِيت على أن تؤخري الظهر إلى آخر وقتها وتصلي العصر في أول وقتها وكذا تؤخري المغرب إلى آخر وقتها وتصلي العشاء في أول وقتها -وهذا ما يسمَّى عند العلماء بالجمع الصُّورِيَّ- وأمَّا الفجر: فتغتسل للصلاة غسلا واحدا، فإن قَدِرت على ذلك فافعلي، وعلى هذا : تغتسل المستحاضة ثلاث مرات للظهر والعصر غسلا واحدا وللمغرب والعشاء غسلا واحدا وللفجر غسلا واحدا وتجمع بين الصلاتين جمعا صوريا. "وهذا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إليَّ" يعني أن هذا الأمر أحبُّ إليَّ، وهو : كونها تجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء وتغتسل ثلاث مرات للظهر والعصرغسلا واحدا، وللمغرب والعشاء غسلا واحدا، وللفجر غسلا واحدا. وأما الأمر الأول، فهو الغسل لكل صلاة، لكن ليس في هذا الحديث ذكر الاغتسال لكل صلاة، إلا أنه قد جاء في رواية أخرى عند أبي داود أنها تغتسل لكل صلاة، وهي قوله: "إن قَوِيت فاغتسلي لكل صلاة وإلا فاجْمَعي بين الصلاتين بغسل واحد" ولا شك أن الاغتسال لكل صلاة مشَقَّة ظاهرة ولهذا قال صلى الله عليه وسلم في الأمر الثاني: "وهذا أعجب الأمرين إليَّ" يعني: أحبهما إليَّ؛ لأنه أسهل وأخَف من الأول.
- وجودُ المستحاضات زمن النَّبيِّ -صلى الله عليه وسلم-، وقد ذكر بعض العلماء أن اللاتي استحضن في عهده -صلى الله عليه وسلم- بلغْنَ تسعا من النسوة وعدَّهن.
- ينبغي للجاهل أن يَسأل العالم فيما يَشتبه عليه في عبادته، حتى يعبد الله على بصيرة.
- جواز إطلاق الفتيا في سؤال النبي -صلى الله عليه وسلم-، بمنعى أنه يصح أن نقول: إن الرسول -صلى الله عليه وسلم- مفتٍ، وهذا أمر لا إشكال فيه.
- أن الشيطان قد يُسَلَّط على بني آدم تسلطا حِسِّيا؛ لأنها كونها تمرض بركضة من الشيطان يدل على أن للشيطان تَسَلُّطا على بني آدم.
- المستحاضة التي ليس لها عَادة مُتَقررة أو كان لها عادة ونسيتها، وليس لها تمييزٌ صالح تَعرِف به دم الحيض من دم الاستحاضة، فتتحيض غالب عادة النساء، وهي ستَّة أيَّام أو سبعة.
- فيه استحباب تَحَفُّظ المستحاضة لمنع الدم من الخروج والتَّلوث به.
- أنَّ دم الحيض يمنع من الصلاة، ونحوها ممَّا يُشترط له الطهارة من الحيض.
- أنَّ دَم الاستحاضة لا يمنع من الصلاة، ونحوها من العبادات الواجب لها الطهارةُ.
- عدم مُعاتبة الجاهل إذا ترك واجباً وجاء يسأل عن الحكم الشرعي.
- فيه أن غالب عادة النساء ستَّة أيام أو سبَّعة أيام.
- فيه أن غالب النساء يَحِضْن في الشهر مرة واحدة؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم- :" فافْعَلي في كل شَهر كما تَحيض النِّساء ".
- جواز العمل بالظن الغالب.
- فيه أن حَمْنة -رضي الله عنها- لم يكن لها عادة سابقة؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- ردَّها إلى عادة غالب النساء.
- وجوب الاغتسال على المُستحاضة إذا طَهرت من حيضها.
- في الحديث مشروعية اغتسال المستحاضة لكل صلاة كما في الرواية الأخرى.
- فيه أن المستحاضة مُخَيَّرة بين أمرين: الاغتسال لكل صلاة، وبين أن تغتسل للظهر والعصرغسلا واحدا وللمغرب والعشاء غسلا واحدا والفجر غسلا واحدا.
- فيه اختيار النبي -صلى الله عليه وسلم- الأرفق بحالها، ولهذا قال :" وهذا أعجب الأمرين إليَّ ".
- أن الأصل في الدِّم النازل من المرأة، دم حيض؛ لأنها -رضي الله عنها- تركت الصلاة والصوم بناء على أن الدم الخارج منها دم حيض.
- أن مَرْجع الصحابة -رضي الله عنهم- في الاستفتاء إلى النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- جواز جمع المستحاضة بين الصلاتين؛ لمشقة الاغتسال لكل صلاة.
- بيان تفاضل الأعمال وأن بعضها أفضل من بعض؛ لقوله: "وهو أعْجَب الأمرين إليَّ ".