حدیث

پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو؛ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر جندب بن جنادة رضي الله عنه قال: اجتمعت غنيمة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «يا أبا ذر اُبْدُ فيها» فبَدَوْتُ إلى الرَّبذَة فكانت تُصيبني الجنابة فأمكث الخَمْسَ والسِّتَّ، فأتيتُ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «أبو ذر» فَسَكَتُّ فقال: «ثَكِلَتْكَ أمك أبا ذر لأمِّكَ الوَيْلُ» فدعا لي بجارية سوداء فجاءت بِعُسٍّ فيه ماء فستَرتْنِي بثَوب واستَتَرْتُ بالرَّاحلة، واغتسلتُ فكأني أَلقَيْتُ عني جَبَلًا فقال «الصعيدُ الطيِّبُ وُضُوءُ المسلم ولو إلى عشر سنين، فإذا وجدتَ الماء فأَمِسَّهُ جِلدَكَ فإن ذلك خَيرٌ».

ترجمہ

ابو ذر جندب بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال غنیمت جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو ذر! انھیں لے کر دیہات کی طرف چلے جاؤ“۔ چنانچہ میں مقام ربذہ کی طرف آ گیا۔ وہاں مجھے جنابت لاحق ہوتی اور میں پانچ چھے دن ویسے ہی رہ جایا کرتا تھا۔ پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابو ذر ہو؟ میں چپ رہا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں تجھے گم کرے، تیری ماں کے لیے خرابی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے میرے لیے ایک سیاہ فام باندی کو بلایا، جو ایک بڑے برتن میں پانی لے آئی۔ پھر ایک کپڑے کے ذریعے میرے لیے پردہ کیا۔ میں نے سواری کی اوٹ لی اور غسل کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا میں نے کوئی پہاڑ اتار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے۔ پھر جب تم پانی پا جاؤ، تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو۔ اس لیے کہ یہ بہتر ہے۔“

تشریح

یہ حدیث شریعت اسلامیہ کے امتیازات میں سے ایک امتیاز کی نشان دہی کرتی ہے۔ وہ ہے پانی کی غیر موجودگی میں تیمم کے ذریعے پاکی حاصل کرنے کی طرف رہ نمائی۔ ”الصعيد الطيب“: یعنی زمین کی پاک مٹی یا اس طرح کی کوئی اور شے جو زمین کے اوپر ہو اور اسی کی جنس سے ہو۔ اسے صعید کا نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ لوگ اس پر چلتے اور چڑھتے ہیں۔ ”وَضوء المسلم“: ان الفاظ میں پاک مٹی کو طہارت کے حصول میں پانی کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے تیمم پر وُضو کے پانی کا اطلاق کیا؛ کیوں کہ یہ اس کا قائم مقام ہے۔ پانی کے بدلے میں تیمم کرنے کے سلسلے میں یہ فراہم کردہ آسانی تب تک جاری رہتی ہے، جب تک عذر باقی رہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے“ یا بیس یا تیس یا اس سے بھی زیادہ سال نہ ملے۔ یہاں دس سے مراد کثرت کا بیان ہے نہ کہ تحدید۔ اسی طرح اگر اسے پانی تو مل رہا ہو، لیکن (پانی کے استعمال میں) کوئی حسی یا شرعی مانع ہو، تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیمم وضو کے قائم مقام ہے، اگرچہ اس سے حاصل شدہ طہارت ہلکی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرورت کی وجہ سے طہارت ہے؛ تاکہ نماز کا وقت نکلنے سے پہلے اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ اس کے باجود جب پانی مل جائے اور اس کی استعمال پر قدرت حاصل ہو جائے، تو تیمم ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کی اس بات کی طرف راہ نمائی فرمائی کہ حصول طہارت میں جو شے اصل ہے -یعنی پانی کا استعمال-، اس کی طرف رجوع کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمھیں پانی مل جائے، تو اسے اپنے جسم پر بہاؤ“ یعنی حصول طہارت کے لیے وضو یا غسل کرتے ہوئے جسم تک اسے پہنچاؤ اور اس پر اسے انڈیلو۔ ترمذی شریف کی ایک روایت میں ہے: ”جب اسے پانی مل جائے، تو وہ اسے اپنی جلد پر بہائے، یہ اس کے لیے زیادہ اچھا ہے“ آپ ﷺ نے بتایا کہ پانی کو دیکھتے ہی تیمم ختم ہو جاتا ہے، بشرطے کہ اسے پانی کے استعمال کی قدرت بھی ہو؛ کیوں کہ موجودگی سے مراد قدرت ہی ہے۔

تشریح: العربية

يبين هذا الحديث معلماً من معالم يسر هذه الشريعة، وهو الإرشاد إلى طهارة التيمم عند فقد الماء. (الصعيد الطيب): أي تراب الأرض الطهور ونحوه مما علا فوق الأرض من جنسها، سمي به لأن الآدميين يصعدونها ويمشون عليها. (وَضوء المسلم) وفي هذا الكلام تشبيه الصعيد الطيب بالماء في الطهارة، فأطلق الشارع على التيمم أنه وضوء لكونه قام مقامه. وهذا التخفيف بالبدلية مستمر ما وجد العذر؛ ولذلك قال عليه الصلاة والسلام: (وإن لم يجد الماء عشر سنين) أو عشرين أو ثلاثين أو أكثر فالمراد بالعشر التكثير لا التحديد، وكذا إن وجده وهناك مانع حسي أو شرعي. فهذا يفيد أن التيمم يقوم مقام الوضوء ولو كانت الطهارة به ضعيفة لكنها طهارة ضرورة لأداء الصلاة قبل خروج الوقت. ومع ذلك فالترخص بالتيمم منقطع لحظة وجود الماء والقدرة على استعماله؛ ولذلك أرشد النبي صلى الله عليه وسلم أبا ذر بضرورة الرجوع إلى الأصل في الطهارة -وهو استعمال الماء- فقال عليه -الصلاة والسلام-: (فإذا وجدت الماء فأصبه بشرتك) أي أوصله إليها وأسِلْه ُعليها في الطهارة من وضوء أو غسل، وفي رواية الترمذي: "فإذا وجد الماء فليمسه بشرته فإن ذلك خير" فأفاد أن التيمم ينقضه رؤية الماء إذا قدر على استعماله؛ لأن القدرة هي المرادة بالوجود.

  • مشروعية التيمم عند فقد الماء، وعدم حصوله.
  • أن التيمم طهور، وكاف عن الماء في رفع الأحداث، مهما طالت المدة عند الماء.
  • جواز التيمم على جميع ما تصاعد على وجه الأرض، من أي نوع من أنواع التربة، وعلى كل ما على الأرض من طاهر، من فرش ولبد وحيطان وصخور وغيرها.
  • إذا وجد الماء، بطل التيمم، فيجب على المسلم العدول عن التيمم إلى استعمال الماء، لما يستقبل من العبادات التي من شرطها الطهارة، وذلك أن وجود الماء يرفع استصحاب الطهارة التي كانت بالتراب، كما هو المفهوم من الحديث .
  • قوله الله -صلى الله عليه وسلم-: عشر سنين، ليس توقيتاً لنهاية مدة التيمم، وإنما مثال لطول المدة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید