حدیث

ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن حذيفة رضي الله عنه مرفوعًا: «فُضِّلْنَا على الناس بِثَلاث: جُعِلَت صُفُوفَنا كصفُوف الملائِكة، وجُعلت لنَا الأرض كُلُّها مسجدا، وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُورا، إذا لم نَجِد الماء. وذَكر خِصْلَة أُخرى».

ترجمہ

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے“۔ آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔

تشریح

اس حدیث میں اس امت کے مقام ومرتبے اور بعض امتیازی خصوصیات کی بنا پر باقی امتوں پر اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی“ یعنی تمام سابقہ امتوں پر اللہ تعالی نے ہمیں تین خصلتوں کے ساتھ فضیلت بخشی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس امت کی خصوصیات صرف تین تک محدود ہیں، کیوں کہ آپ ﷺ پر اس امت کی خصوصیات کا نزول درجہ بدرجہ ہوتا تھا اور ان کے نازل ہونے پر جو بات مناسب ہوتی، اس کے بارے میں آپ ﷺ بتادیا کرتے تھے۔ ”ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند رکھی گئیں“ وہ اس طرح کہ نماز میں ہم ایسے کھڑے ہوتے ہیں، جیسے فرشتے اپنے رب کےحضور کھڑے ہوتے ہیں، بایں طور کہ وہ پہلے اگلی صف کو پورا کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد والی صفوں کو اور صف میں باہم جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سنن ابی داود اور دیگر کتب ِحدیث میں اس کی تصریح آئی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): کیا تم اس طرح سے صفیں نہیں باندھوں گے، جیسے فرشتے اپنے رب کے حضور صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ آپ ﷺنے فرمایا: پہلے وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ سابقہ امتیں ایسے نہیں کرتی تھیں، بلکہ وہ لوگ جیسے بھی ہوتے، نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ ”ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیاگیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی اللہ تعالی نے زمین کی تمام جگہوں کو نماز کے لیے موزوں قرار دے دیا۔ چنانچہ نمازی جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، وہیں نماز ادا کر سکتا ہے اور لوگوں کو سہولت اور آسانی کے پیش نظر کسی جگہ کو نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا، بخلاف سابقہ امتوں کے۔ وہ لوگ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔ اسی لیے مسند احمد میں اس حدیث کی کچھ روایات میں آیا ہے کہ ”مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”کوئی بھی نبی اس وقت تک نماز نہ پڑھتا جب تک کہ وہ اپنے محرابِ عبادت تک نہ پہنچ جاتا“۔ تاہم اس حدیث کے عموم کی ان مقامات کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے، جن میں نماز پڑھنے سے شارع علیہ السلام نے منع فرمایا ہے، جیسے غسل خانہ، قبرستان، اونٹوں کے باڑے اور ناپاک جگہیں۔ ”اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی تیمم کی طرف منتقل ہونےکے لیے پانی کا نہ ملنا شرط ہے۔ اس کی دلیل بھی قرآن میں ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”اورتمھیں پانی نہ ملے، تو پاک مٹی کا قصد کرو“۔ اس پر علما کا اجماع ہے۔ جس شخص کو پانی کے استعمال سے کوئی ضرر پہنچتا ہو، اس کا بھی وہی حکم ہے، جو اس شخص کا ہے، جسے پانی دستیاب نہ ہو۔ ”اور آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا“ ما قبل گزرنے والی عبارت میں دو خصلتوں کا بیان ہے؛ کیوں کہ زمین کے بارے میں جو آیا کہ وہ مسجد ہے اور حصول طہارت کا ذریعہ ہے، یہ دونوں ایک ہی خصلت شمار ہوتی ہیں، جب کہ تیسری خصلت کا یہاں بیان نہیں ہے۔ اس کا ذکر سنن نسائی کی روایت میں ہے، جو اسی راوی یعنی ابو مالک سےمروی ہے، جو مسلم شریف کی اس حدیث کا بھی راوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سورۂ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش تلے موجود خزانے سے دی گئی ہیں، جس میں سے نہ تو مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا اور نہ ہی میرے بعد کسی کو اس میں سے دیا جائے گا“۔

تشریح: العربية

هذا الحديث لبيان شرف هذه الأمة وتفضيلها على باقي الأمم ببعض المميزات، وقوله -عليه الصلاة والسلام- : "فُضِّلْنَا على الناس بِثَلاث" أي: أن الله تعالى فَضَّلَنا على جميع الأمم السابقة بثلاث خِصال، وليس فيه انْحِصار خصوصيات هذه الأمة في الثلاث؛ لأنه عليه الصلاة والسلام كان تنزل عليه خصائص أُمَّته شيئاً فشيئاً، فيُخْبِر عن كل ما نَزَل عليه عند إنزاله مما يناسبه. "جُعِلَت صُفُوفَنا كصفُوف الملائِكة" وهي: أن وقُوفَنَا في الصلاة، كما تَقِف الملائكة عند ربِّها، وهو أنهم يُتِمُّون المُقدم، ثم الذي يَلِيه من الصفوف ثم يَرُصُّون الصَّفَّ كما ورد التصريح بذلك في سنن أبي داود وغيرها (ألا تصفون كما تَصُف الملائكة عندَ ربِّها؟) فقلنا: يا رسول الله، وكيف تَصُفُّ الملائكة عند ربِّها؟ قالَ: (يتمون الصفوف الأولى، ويتراصون في الصَفِّ). وهذا بخلاف الأمم السابقة، فإنهم كانوا يَقِفُون في الصلاة كيف ما اتَفق. "وجُعلت لنَا الأرض كُلُّها مسجداً، وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُوراً أي: أنَّ الله تعالى جعل الأرض كلها مواضع صالحة للصلاة، فيصلِّي في أي مكان تُدركه الصلاة فيه، فلا يختص به موضعٌ دون غيره تخفيفاً عليهم وتيسيراً لهم، بخلاف الأمم السابقة، فإنهم لا يصلون إلا في الكنائس والبِيَع؛ ولذا جاء في بعض روايات هذا الحديث عند أحمد: (وكان مَنْ قبلي إنَّما يُصلون في كنائسهم) وفي رواية أخرى: (ولم يَكن أحَدٌ من الأنبياء يصلِّي حتى يبلغ مِحْرَابه). لكن خُصَّ من عموم هذا الحديث ما نَهَى الشَّارع عن الصلاة فيه، كالحمام والمقبرة وأعطان الأبل والمواضع النجسة. "وجُعلت تُرْبَتُهَا لنا طَهُورا" يعني أن الانتقال إلى التيمم مشروط بعدم وجود الماء، وقد دَلَّ على ذلك أيضا القرآن، قال تعالى: (فلم تجدوا ماءا فتيمموا صعيداً طيباً) وهذا محل إجماع من العلماء، ويلحق بفاقد الماء، من تَضرر باستعماله. "وذَكر خِصْلَة أُخرى" ما تقدم خَصْلَتان؛ لأن ما ذُكِر عن الأرض من كَونها مسجدًا وطهورًا خَصْلَة واحدة وأما الثالثة فَمَحْذُوفة هُنا، وجاء ذِكْرُها في رواية النسائي من طريق أبي مالك الراوي هُنا في مسلم قال: (وأُوتِيتُ هؤلاء الآيات آخر سورة البقرة من كَنْز تحت العَرْش لم يُعْطَ منه أحَدٌ قَبْلِي، ولا يُعْطَى منه أحَدٌ بَعْدِي).

  • تَفْضِيل نَبِيِّنا -صلى الله عليه وسلم- على سائر الأنبياء، وخصائصُه كثيرة، صنِّفت فيها الكتب، ولعلَّ أوسعها "الخصائص الكبرى" للسيوطي.
  • فيه أن هذه الأُمَّة خَير الأُمَم، حيث إن الله تعالى خَصها بخصائص لم تكن في الأُمَمِ السابقة.
  • فيه اصْطِفَاف الملائكة عند قيامهم لطاعة ربهم.
  • الاقتداء بأفعال الملائكة في صلاتهم وتعبُّداتهم.
  • فيه أنَّ الأرض كلَّها جُعِلت للنبي -صلى الله عليه وسلم- ولأمَّته مسجدًا، فمن أدركته الصلاة في أي موضع صلى فيه، غير المواضع المنهي عن الصلاة فيها.
  • فيه أنَّ الله تعالى يسَّر أمْرَ هذا النبيِّ الكريمِ، وَأَمْرَ أمَّته، فجعَل له صعيدَ الأرض طهورًا؛ فقال: "وجعلت تُربتها لنا طهورًا؛ إذا لم نجد الماء".
  • أنَّ الأصل في الأرض الطهارة؛ فتجوزُ الصلاة فيها، والتيمُّم منها.
  • أنه لا يصح التيمم مع وجود الماء.
  • فيه دليل على أنَّ التيمُّم رافعٌ للحدث كالماء؛ لاشتراكهما في الطهورية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید