حدیث

میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ميمونة رضي الله عنها قالت: «صَبَبْتُ للنبي صلى الله عليه وسلم غُسْلا، فَأَفْرَغ بيمينه على يساره فغَسَلَهُما، ثم غَسل فَرْجَه، ثم قال بِيَدِه الأرض فَمَسَحَها بالتُّراب، ثم غَسلها، ثم تَمَضْمَضَ واسْتَنْشَقَ، ثم غَسَل وجْهَه، وأفَاضَ على رأسِه، ثم تَنَحَّى، فغسل قَدَمَيه، ثم أُتِيَ بمنْدِيل فلم يَنْفُضْ بها».

ترجمہ

میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ آپ ﷺ نے پہلے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر بہا یا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مار کر مٹی کے ساتھ اسے رگڑا اور پھر اسے دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر آپ کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: میمونہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے پانی تیار کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے برتن کو تھاما اور اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک ساتھ دونوں ہاتھوں کو دھویا؛ کیوں کہ ہاتھ پانی منتقل کرنے کا آلہ ہیں۔ چنانچہ ان کی اچھی طرح سے طہارت و صفائی کے لیے آپ ﷺ نے انھیں دھونا پسند فرمایا۔ ”دونوں ہاتھوں کو دھویا“ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دو یا تین دفعہ دھویا۔ اپنے ہاتھ دھو لینے کے بعد شرم گاہ پر منی وغیرہ کی گندگی کے اثرات کو دور کرنے لیے آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ یہاں شرم گاہ سے مراد سامنے کی شرم گاہ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے (جس میں یہ الفاظ ہیں کہ): ”پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اوراس سے اپنے عضو تناسل كو دھويا“۔ ”ثم قال بِيَدِه الأرض“ یعنی اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا۔ یہاں ہاتھ سے مراد بایاں ہاتھ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور زور سے رگڑا۔ آپ ﷺ نے اسے مٹی کے ساتھ رگڑا، تا کہ اس کے ساتھ لگی گندگی اور بدبو زائل ہو جائے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اس پر لگی مٹی اور میل کچیل دور کرنے کے لیے دھویا۔ اپنے ہاتھوں سے لگے میل کچیل کو دھولینے اور صاف کر لینے کے بعد آپ ﷺ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے وضو بھی فرمایا، تاہم صحیح بخاری و صحیح مسلم میں میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور ایک اور روایت میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر تین چلو ہتھیلی بھر کر ڈالے اور پھر سارےجسم کو دھویا۔ ایک دفعہ پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے، بشرطے کہ پانی سارے جسم تک پہنچ جائے۔ پھر آپ ﷺ نے غسل کی جگہ سے دور ایک دوسری جانب ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، یعنی جب آپ ﷺ اپنے وضو اور غسل سے فارغ ہو چکے، تو آپ ﷺ نے دوسری دفعہ اپنے پاؤں دھوئے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس رومال لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پانی کی تری کو اس سے خشک نہ کیا اور نہ ہی اس سے پونچھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک اور حدیث میں ہے : پھر میں آپ ﷺ کے پاس رومال لائی، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: آپ ﷺ کے پاس ایک رومال لایا گیا، لیکن آپ ﷺ نے اسے چھویا تک نہیں اور اس طرح سے پانی جھٹکنے لگے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: تخبر ميمونة أنها هيَّأت له الماء لأجل أن يَغتسل به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجَنَابة، فتناول الإناء بيمينه، فصبَّه على يساره، ثم غسل كلتا يديه معاً؛ لأن اليدين آلة لنقل الماء، فاستحب غسلهما تحقيقا لطهارتهما، وتنظيفا لهما. فَغَسَلهُما، وفي رواية أخرى عن ميمونة رضي الله عنها عند البخاري: "فغسل يديه مرتين أو ثلاثا". وبعد أن غَسل يديه غَسل فَرْجَه بشماله لإزالة ما لوثه من آثار المَني وغيره، والمراد بالفَرْجِ هُنا: القُبل، يوضحه رواية البخاري: " ثم أفرغ على شِماله، فغسل مَذَاكِيرَه ". ثم قال بِيَدِه الأرض والمراد ضرب بها الأرض واليد هنا: " اليَد اليُسرى، يوضحه رواية البخاري: " ثم ضَرب بِشِمَاله الأرض، فدَلَكَها دَلْكَا شديدا ". فَمَسَحَها بالتُّراب لِيُزِيل ما قد يعَلق بها من آثار مُسْتَقْذَرة أو روائح كَرِيهة، ثم غَسل يَده اليُسرى بالماء لإزالة ما عَلَق بها من تُراب وغيره مما يُسْتَقْذَر، وبعد أن غسل يديه ونَظَّفَها مما قد يعَلق بها تمضمض وستنشق، ثم غَسَل وجْهَه. وليس فيه أنه توضأ -عليه الصلاة والسلام- ، لكن في حديثها الآخر عند البخاري ومسلم :" ثم توضأ وضوءه للصلاة "وهكذا جاء عن عائشة رضي الله عنها . ثم صَبَّ الماء على رأسه، وفي روايتها الأخرى: " ثم أَفْرَغ على رأسه ثلاث حَفَنَات مِلءَ كَفِّه، ثم غَسَل سَائر جَسَده ". ويُكتفى بالمرة الواحدة، إذا عَمَّت جميع البَدن. ثم تحول إلى جهة أخرى بعيدا عن موضع الاغتسال فغسل قَدَمَيه بعد أن فَرَغ من وضوءه واغتساله، غسل قَدَميه مرة ثانية. ثم أُتِيَ بمنْدِيل فلم يَنْفُضْ بها ولم يَتَمَسَّح بالمِنْدِيل من بَلَلِ الماء، وفي رواية أخرى عنها رضي الله عنها : " ثم أَتَيْتُه بالمِندِيل فَرَدَّه " وفي رواية أخرى : " أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ فلم يَمَسَّه وجعل يقول: بالماء هكذا " يعني يَنْفُضُه.

  • في هذا الحديث بيان لصِفَةُ غُسْل النَّبي -صلى الله عليه وسلم- من الجَنابة.
  • فيه جواز تصريح المرأة بما قد يُسْتَحَيا منه لبيان الحق.
  • استحبابُ البداءة بغَسْلِ يديه؛ لأنَّ اليَدين هما أداةُ غَرْفِ الماء، وأداةُ دلك الجسد، فينبغي طهارتهما قبل كُلِّ شيءٍ، والمرادُ باليدين عند الإطلاق هما الكَفَّان.
  • فيه استعمال اليَد اليُسرى لإزالة الأذى.
  • فيه دليل على بَدَاءة الجُنب بغسل فَرْجَه ويزيل ما عليه من أثَر الخارج.
  • استحباب ضَرب اليَّد على الأرض أو الجدار إذا كان من الطِّين لإزالة اللزوجة العالقة بها، من غسل الفَرْج المتلوِّث بالنجاسة أو المني، فإن تَعَذر التَّراب -وهو كذلك في زماننا- فإن المُطَهِرات المعروفة تقوم مقامه.
  • استحباب الوضوء قبل الاغتسال من الجَنَابة، وهذا على رواية ميمونة الأخرى.
  • مشروعية غَسْل القَدَمَين بعد الانتهاء من الاغتسال، إذا دَعَت الحاجة إلى ذلك.
  • لا يشترط دَلْك البَدن في الغسل من الجَنابة؛ لعدم ذِكْره في الحديث، لكن إذا خَشي الإنسان عدم وصول الماء إلى جميع بَدَنِه فينبغي أن يَمُرَّ بيده إلى تلك المواضع، حتى يَغلب على ظَنِّه وصول الماء إليها.
  • فيه حِرص أُمْهات المؤمنين على نَشْر سُنته -صلى الله عليه وسلم-.
  • فيه جواز نظر المرأة إلى عَورة زوجها؛ لأن ميمونة -رضي الله عنها- وصفت كيفية اغتساله -صلى الله عليه وسلم- من الجَنابة من أوله إلى آخره بما في ذلك تَطْهِير الفَرْج .

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید