ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي سعيد الخُدْرِي رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا أَتَى أحَدُكُم أهله ثم أرَاد أن يَعود فَلْيَتَوَضَّأْ بينهما وضُوءًا». وفي رواية الحاكم: «فإنه أَنْشَطُ لِلْعَوْد».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے)اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو درمیان میں وضو کرے“۔ امام حاکم کی روایت میں ہے: کیونکہ وضو کرنا دوبارہ جماع کرنے کے لیے زیادہ باعث نشاط ہے۔
تشریح
یہ حدیث اس شخص کی خاطر نبوی طریقہ بیان کرنے کے لیے لائی گئی ہے، جو اپنی بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور پھر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے“ یعنی ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد دوبارہ سہ بارہ کا ارادہ رکھتا ہو۔ ”توان درمیان میں وضو کرے“ اس میں اس حکم کی رہنمائی ملتی ہے، یعنی پہلی بارصحبت کرنے کےبعد اور دوبارہ صحبت کرنے سے پہلے۔ اور یہاں وضو سےمراد نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرناہے؛ کیوں کہ وضو کا لفظ جب مطلق بولا جائے، تو اس سے مراد شرعی وضو ہی ہوتا ہے اور اس بات کی وضاحت صحیح ابن خزیمہ اور سنن بیہقی کی ایک روایت سے ہوتی ہے، جس میں اس بات کی صراحت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرو۔ یہ وضو مستحب ہے۔
تشریح: العربية
الحديث سِيقَ لبيان الهدي النبوي فيمن أراد تكرار جماع أهله، حيث يقول عليه الصلاة والسلام: "إذا أَتَى أحَدُكُم أهله ثم أرَاد أن يَعود" أي: إذا جامع الرجل أهله، ثم رغِبَ أن يُعَاوِد الجماع مرَّة ثانية وثالثة. والإرشاد النبوي تمثل في قوله عليه الصلاة والسلام: "فَلْيَتَوَضَّأْ بينهما وضُوءًا" أي: بعد الجماع الأول وقبل الثاني. والمراد بالوضوء هنا: الوضوء للصلاة؛ لأن الوضوء إذا أطلق فالأصل حَمله على الوضوء الشرعي، وقد جاء مصرحًا به عند ابن خزيمة والبيهقي، وفيه: " فتوضَّأ وضُوءك للصلاة"، وهذا الوضوء مستحب.
- فيه استعمال الكناية في الألفاظ التي يُسْتَحَيا منها؛ حيث عبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ب"الإتيان" عن الجماع.
- استحباب الوضوء لمن اراد أن يُعاود الجِماع مرَّة أخرى.
- عموم الحديث يُفيد استحباب الوضوء عند إرَادَة الجِماع مرَّة ثانية، سواءٌ كانت التي يُريد العَود إليها هي الموطوءة، أو الزوجة الأخرى لمن عنده أكثر من واحدة.
- الحكمةُ من الوضوء أو الغسل قبل معاودة الجماع مرة ثانية ما أشارَت إليه زيادة الحاكم: "فإنَّه أنشَطُ للعَود".
- تعليل الأحكام الشرعية بعلل تعود إلى مصلحة بدن الإنسان، وأن ملاحظتها بفعل الطاعة لا يؤثر.
- فيه أن الشريعة الإسلامية شَامِلة لما يتعلق بالأديان وما يتعلق بالأبدان؛ لأن الوضوء عبادة، وهذا فيه مصلحة في الأديان، هو أيضًا مُنشط للإنسان، وهو مصلحة للأبْدَان.
- فيه أن الزوجة تسمى أهلا، وهذا أمرٌ مُستفيض دَلَّ عليه الكتاب والسنة.