حدیث

مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس (کے حصے) کو غلبہ مل جائے یا (نئی تشکیل میں) سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه : أن أم سُلَيم حدَّثَت أنَّها سألت نَبِي الله صلى الله عليه وسلم عن المرأة تَرى في مَنَامِها ما يَرى الرَّجل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل» فقالت أم سُلَيْم: واسْتَحْيَيْتُ من ذلك، قالت: وهل يَكون هذا؟ فقال نَبِي الله صلى الله عليه وسلم : «نعم، فمِن أين يَكُون الشَّبَه؟ إنَّ ماء الرَّجُل غَليِظ أبْيَض، وماء المرأة رقِيق أصْفَر، فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أو سَبَقَ، يَكُونُ مِنْه الشَّبَهُ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انھیں) بتایا کہ انھوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے“۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں :کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جو بھی غالب ہوجائے یا سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریمﷺ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو نیند میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) یعنی جیسے خواب میں مرد جماع کا منظر دیکھتا ہے اسی طرح عورت بھی اگر دیکھے تو؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: ”إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل“ یعنی جب عورت وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو غسل کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کو انزال ہو جائے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :فرمایا: ”قال: نعم إذا رأت الماء“ ہاں اگر وہ پانی دیکھے ۔یعنی نیند سے بیداری پر اگر منی دیکھے۔ اگر نیند میں احتلام دیکھے لیکن منی خارج نہ ہو تو اس پرغسل نہیں کیوں کہ یہ حکم انزال کے ساتھ معلق ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ سے ایسے شخص کےبارے میں سوال کیا گیا جو تری دیکھے لیکن اس کو احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا:وہ غسل کرے۔ اورایسا شخص جو احتلام دیکھے لیکن تری نہ دیکھے تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اس پر غسل نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر عورت بھی یہ دیکھے تو اس پر غسل ہے؟ فرمایا :ہاں۔ بے شک عورتیں اصل خلقت وطبیعت میں مردوں کی ہم مثل ہیں۔ اس کو احمد و ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے اس طرح جواب سنا تو اس سے بڑی شرم محسوس کی اور کہنے لگیں : ”کیا ایسے بھی ہوتا ہے؟“ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ جیسے مرد کو احتلام ہوتا ہے ویسے ہی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نعم" (ہاں) یعنی عورت کو بھی احتلام اور انزال ویسے ہی ہوتا ہے جیسے مرد کو ہوتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی توجیہہ بیان کی کہ: ”پھر یہ مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟“ صحیحین کی ایک اور روایت میں ہے: ”تو بچے کی مشابہت پھر کیسے ہوتی ہے“ یعنی بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے اگر اس کی منی خارج نہیں ہوتی ؟ پھر نبی کریمﷺ نے مرد اور عورت کی منی کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ”مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے“ یہ وصف باعتبارِ غالب کے لحاظ سے ہے یا پھر اس کی اصل حالت کے اعتبار سے۔ کیوں کہ بسااوقات آدمی کی منی بیماری کی وجہ سے پتلی ہو جاتی ہے اور کثرتِ جماع کی وجہ سے سرخ اور عورت کی طاقت کی وجہ سے منی سفید ہو جاتی ہے۔ علمائے کرام نے مرد کی منی کو پہچاننے کی دیگر علاماتیں بھی بیان کی ہیں جیسا کہ اس کے خروج کے وقت اچھال پے اچھال پایا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ﴾ ”اچھلتے پانی سے“ یہ شہوت اور لذت کے ساتھ خارج ہوتا ہے اور جب یہ خارج ہوتا ہے تو جوش بھی ختم ہو جاتا ہے اور اس کی بوکھجور کے گودے کی طرح ہوتی ہے۔ جب کہ عورت کی منی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دو خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پہچان سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی بو بھی آدمی کی منی کی بو کی طرح ہوتی ہے اور دوسری اس کے خارج ہونے سے لذت محسوس ہوتی ہے اور خروج کے بعد شہوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ منی کے ثبوت کے لیے سابقہ تمام شروط کا اکٹھا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لیے اتنا ہی کافی کہ کسی ایک علامت سے اس کے منی ہونے کا حکم ثابت ہو جائے۔ اور اگر ان علامات میں سےکوئی علامت موجود نہ ہو تو اس کا حکم منی کا نہیں ہوگا اور ظن غالب بھی یہی ہے کہ وہ منی نہیں ہو گی۔ ان میں سے کوئی ایک بلند ہو جائے یا سبقت لے جائے تو اس سے مشابہت پیدا ہوتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ”غالب آجائے“ یعنی مرد یا عورت کے پانی میں سے کسی کی منی کا غالب آنا۔ جس کی منی دوسرے پر زیادتی یا طاقت کے اعتبار سے غالب ہو جائے تو مشابہت بھی اسی سے ہوگی۔ یا ان دونوں میں سے جو انزال میں سبقت لے گیا اس سے مشابہت ہو گی۔ بعض علماء نے یہ کہا : ’علا ‘بمعنی ’سبق ‘ہے ۔اگر مرد کی منی سبقت لے جائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو گا اور اگر عورت کی منی غالب ہو جائے تو اس کے مشابہ ہو گا کیوں کہ مرد اورعورت دونوں کا پانی رحم میں اکٹھا ہوجاتا ہے۔ عورت کو انزال ہوتا ہے اور مرد کو بھی انزال ہوتا ہے اوران دونوں کا پانی جمع ہوتا ہے اور ان کے اجتماع سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ ”بے شک ہم نے انسان کو مِلے جُلے نطفہ سے پیدا کیا“ (سورہ انسان: 2) یعنی مرد اور عورت کے اختلاط والے پانی (منی) سے۔

تشریح: العربية

يخبر أنس بن مالك رضي الله عنه عن أُمِّهِ أُمِّ سُلَيم رضي الله عنها أنَّها سألت نَبِي الله صلى الله عليه وسلم عن المرأة تَرى في مَنَامِها ما يَرى الرَّجل" بمعنى تَرى المرأة في منامها ما يراه الرَّجُل من الجِماع. فأجابها رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل» يعني: إذا رأت المرأة في منامها ما يراه الرَّجل، فلتغتسل، والمراد به: إذا أنزلت الماء كما في البخاري، "قال: نعم إذا رأت الماء" أي: المَني، تراه بعد الاستيقاظ، أما إذا رأت احتلاما في النوم ولم تَر مَنِيًّا، فلا غُسْل عليها؛ لأن الحكم مُعلق بالإنزال، ولهذا لما سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الرَّجُل يَجد البَلل ولا يَذْكُر احْتِلَاما، قال: "يغتسل" وعن الرَّجُل يَرى أن قد احْتَلم، ولا يَجِد البَلل، فقال: لا غُسْل عليه. فقالت أم سُليم: المرأة تَرى ذلك عليها الغسل؟ قال: نعم، إنما النَّساء شقائق الرجال" رواه أحمد وأبو داود. فلما سمعت أم سُلَيْم الإجابة من رسول الله صلى الله عليه وسلم اسْتَحْيَت من ذلك، وقالت: "وهل يَكون هذا؟". أي: هل يمكن أن تَحتلم المرأة وتنزل، كما هو الحال في الرَّجل؟ فقال نَبِي الله صلى الله عليه وسلم : "نعم": أي: يحصل من المرأة احتلام وإنزال، كما هو يحصل من الرَّجل ولا فرق. ثم قال لها معللا ذلك: "فمِن أين يُكون الشَّبَه؟" وفي رواية أخرى في الصحيحين: "فَبِم يَشْبِهُها ولدُها" أي: فمن أين يكون شَبَه الولد بأُمه، إذا لم تُنزل مَنِيًّا؟! ثم بَيَّن لها النبي صلى الله عليه وسلم صِفَة مَنِي الرَّجُل وصِفَة مَنِي المرأة بقوله: "إن ماء الرَّجُل غَليِظ أبْيَض، وماء المرأة رقِيق أصْفَر" وهذا الوصف باعتبار الغالب وحال السلامة؛ لأن مَنِي الرَّجُل قد يَصير رقيقا بسبب المرض، ومُحْمَرًّا بكثرة الجِماع، وقد يَبْيَض مَنِي المرأة لقُوَتها. وقد ذَكر العلماء -رحمهم الله- أن لمَنِي الرَّجل علامات أخرى يُعرف بها، وهي: تدفقه عند خروجه دَفْقَة بعد دفْقَة، وقد أشار القرآن إلى ذلك، قال تعالى : (من ماء دافق)، ويكون خروجه بشهوة وتلذذ، وإذا خرج اسْتَعْقَبَ خروجه فُتورا ورائحة كرائحة طلع النَّخل، ورائحة الطَّلع قريبة من رائحة العَجين. وأما مَنِي المرأة فقالوا فيه: إن له علامتين يُعرف بواحدة منهما إحداهما: أن رائحته كرائحة مني الرَّجل، والثانية: التلذذ بخروجه، وفتور شهوتها عَقِب خروجه. ولا يشترط في إثبات كونه مَنِيا اجتماع جميع الصفات السابقة، بل يكفي الحكم عليه كونه منيًا من خلال صفة واحدة، واذا لم يوجد شيء منها لم يحكم بكونه منِيًّا، وغلب على الظن كونه ليس منِيًّا. "فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلَا، أو سَبَقَ، يَكُونُ مِنْه الشَّبَهُ" وفى الرواية الأخرى: "غَلَب" أي من ماء الرجل أو ماء المرأة؛ فَمن غَلَب ماؤه ماء الآخر؛ بسبب الكثرة والقوة كان الشَّبَه له، أو سَبَق أحدهما الآخر في الإنزال كان الشَّبَه له. وقال بعض العلماء: إن عَلَا بمعنى سَبَق، فإن سَبَق ماء الرَّجل كان الشَّبَه له وإن سَبَق ماء المرأة كان الشَّبَه له. وذلك أن مني الرَّجل ومنِي المرأة يجتمعان في الرحم، فالمرأة تُنزل والرَّجل يُنزل ويجتمع ماؤهما، ومن اجتماعهما يخلق الجَنين؛ ولهذا قال تعالى : (إنا خلقنا الإنسان من نُطفة أمْشَاج) [الإنسان 1 ، 2] أي مُختلط من ماء الرجل وماء المرأة.

  • سؤال أهل العلم؛ فإن أم سليم -رضي الله عنها- سألت النبي -صلى الله عليه وسلم- عن هذه المسألة العظيمة التي تنتفع بها نِساء المسلمين فكانت سبب خير.
  • أنه لا يجوز أن يمتنع الإنسان من السؤال في أمور دينه حياء.
  • وقوع الاحتلام من المرأة في المَنَام كالرجل، وأنَّها إذا احتلَمَتْ وأنزلت، وجَبَ عليها الغسلُ كالرَّجل.
  • استعمال الكِناية موضع اللفظ الذي يُسْتَحيا منه في العادة؛ لأنها قالت -رضي الله عنها-: "ترى في منامها.."، فاجْتَنَبت اللفظ الذي يُسْتَحيا منه، وأتت بلفظ مُجْمَل يَدل عليه.
  • لا يجب الاغتسال إلا بنزول المَني؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل"، والمراد به: إذا أنزلت، فإن انتقل عن موضعه ولم يخرج لم يجب الغُسل؛ لأن الحكم مُعلَّق بِخُرُوجه.
  • أنه لا يجب الغسل مع الشَّك؛ لقوله: "إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل"، فإن حصل الشك، فالأصل عدمه.
  • أنَّ شَبَه الولد (ذكرًا أو أنثى) بأمِّه يكونُ بسبب مائها، الذي يلتقي بماء الرجل أثناء العمليَّة الجنسيَّة، فأي الماءين غَلَب كان له الشَّبَه.
  • الحديث من الأدلة على ثبوت النَّسَب بالشَّبَه.
  • ينبغي تعداد الأدلة وتنويعها؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: (نعم) وهذا دليل شَرعي، وأضاف إلى هذا الدليل دليلا حِسِّيا، وهو قوله: (فمن أين يكون الشَّبَه؟).
  • الحديث من الأدلة على إجابة السائل بأكثر ممَّا سأل؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- وصَف لها حال المَنِي، وهي لم تسأل عنه، لكن لما كان المقام يقتضي ذلك بَيَّن لها النبي -صلى الله عليه وسلم- صِفته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید