حدیث

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِحَتْ أبْوَاب الجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أبْوَابُ النَّارِ، وَصفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں“۔

تشریح

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بتارہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔ یہ تینوں امور رمضان میں پیش آتے ہیں۔ پہلا: جنت کے دروازے عمل گزاروں کے لیے بطور ترغیب کھول دیے جاتے ہیں تاکہ وہ کثرت کے ساتھ نیکیاں یعنی نماز، صدقہ، ذکر، اور قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ کریں۔ دوسرا: جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں کیوں کہ اس مہینے میں مومنوں سے بہت کم گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ تیسری چیز: شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں یعنی سرکش شیطانوں کو جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے جسے امام نسائی نے اپنی سنن میں اور امام احمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے اور شیخ البانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے ’جید‘ حدیث ہے۔ المردۃ (سرکش شیاطین) سے مراد وه شياطين ہیں جو بنی آدم کے سخت دشمن اور ان کے ساتھ بہت عداوت رکھنے والے ہیں۔ التصفید (جکڑنا) کا معنی بیڑی پہنانا ہے، یعنی ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں تاکہ وہاں تک ان کی پہنچ نہ ہو سکے جہاں تک رمضان کے علاوہ مہینوں میں ان کی پہنچ رہتی ہے۔ یہ سب کچھ جس کی نبی ﷺ نے خبر دی ہے برحق ہے اور آپ ﷺ نے یہ اپنی امت کے لئے بطورِ نصیحت، انہیں نیکی کی رغبت دلانے اور برائی سے ڈرانے کے لئے بیان کیا ہے۔

تشریح: العربية

أخبر أبو هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب النيران، وصفدت الشياطين"، فهذه ثلاثة أشياء تكون في رمضان: أولاً: تفتح أبواب الجنة ترغيباً للعاملين لها بكثرة الطاعات من صلاة وصدقة وذكر وقراءة للقرآن وغير ذلك. ثانياً: تغلق أبواب النيران، وذلك لقلة المعاصي فيه من المؤمنين. ثالثاً: تصفد الشياطين، يعني: المردة منهم؛ كما جاء ذلك في رواية أخرى -أخرج هذه الرواية النسائي في سننه، وأحمد في مسنده، قال الألباني: هو حديث جيد لشواهده، والمَرَدةُ: هم أشد الشياطين عداوة وعدواناً على بني آدم، والتصفيد معناه الغَلُّ، يعني: تُغَلُّ أيديهم حتى لا يخلصوا إلى ما كانوا يخلصون إليه في غيره، وكل هذا الذي أخبر به النبي صلى الله عليه وسلم حق أخبر به نصحاً للأمة، وتحفيزاً لها على الخير وتحذيراً لها من الشر.

  • إكرام شهر رمضان.
  • بشارة للصائمين فيه بأن هذا الشهر المبارك موسم عبادة وخير.
  • ليس لباغي الشر عذر في رمضان؛ لأن أسباب الشر قد كفت عنه أو قلت، فلا يحرم الخير فيه إلا محروم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید