حدیث

اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «المُؤَذِّنونَ أطولُ النّاسِ أعنَاقاً يَومَ القِيَامَةِ».

ترجمہ

معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔

تشریح

معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان دینے والوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔ ’أعناق‘ عُنق کی جمع ہے۔علمائے سلف و خلف کا اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول کی رو سے اس سے حقیقی لمبائی مراد ہے۔ جب روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے تو ان کی گردنیں لمبی ہوں گی تاکہ ان تک وہ پریشانی اور پسینہ نہ پہنچ پائے۔ ایک دوسرے قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف سب سے زیادہ اوپر ہو ہو کر دیکھ رہے ہوں گے کیوں کہ جھانک کر دیکھنے والا چیز کو دیکھنے کے لیے گردن کو لمبا کرتا ہے۔ چنانچہ گردن لمبی ہونے سے مراد اس ثواب کی کثرت ہے جسے وہ دیکھیں گے۔ ایک اور قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آقا اور سردار ہوں گے۔ اہلِ عرب، سرداروں کو لمبی گردن کے ساتھ موصوف کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کے پیرو کار بہت زیادہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال منقول ہیں۔ ”قیامت ے دن“ جب اللہ تعالی لوگوں کو اٹھائے گا تو اذان دینے والوں کی ایک ایسی امتیازی شان ہو گی جو کسی اور کی نہیں ہو گی اور وہ یہ کہ ان کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی اور ان کے اظہار فضل و شرف کے لیے وہ اس سے پہچانے جائیں گے کیونکہ وہ اذان دیا کرتے تھے اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتے تھے، اس کی توحید اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے تھے، نماز اور فلاح کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ وہ بلند جگہوں سے ان کا اعلان کرتے تھے اس لیے ان کے عمل کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہی ہو گی کہ ان کے سر بلند ہوں گے اور ان کے چہرے اونچے ہوں گے۔ ایسا روزِ قیامت ان کی گردنیں لمبی کردینے سے ہو گا۔ چنانچہ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی مؤذن بنے اگرچہ کسی مسجد میں نہ بھی ہو تو تب بھی اسے اذان دینے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

تشریح: العربية

عن معاوية رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المؤذنون أطول الناس أعناقاً" جمع عنق، واختلف السلف والخلف في معناه، فقيل: هو طول حقيقي للعنق، إذا ألجم الناس العرق يوم القيامة طالت أعناق المؤذنين؛ لئلا ينالهم ذلك الكرب والعرق، وقيل: معناه أكثر الناس تشوفًا إلى رحمة الله تعالى ؛ لأن المتشوف يطيل عنقه إلى ما يتطلع إليه، فمعناه كثرة ما يرونه من الثواب، وقيل: معناه أنهم سادة ورؤساء، والعرب تصف السادة بطول العنق، وقيل: معناه أكثر أتباعًا، وقيل غير ذلك، قوله: "يوم القيامة"، فإذا بعث اللهُ الناسَ فإن المؤذنين يكون لهم ميزة ليست لغيرهم، وهي أنهم أطول الناس أعناقًا، فيعرفون بذلك تنويهًا لفضلهم وإظهارًا لشرفهم؛ لأنهم يؤذنون ويعلنون بتكبير الله عز وجل وتوحيده والشهادة لرسوله صلى الله عليه وسلم بالرسالة، والدعوة إلى الصلاة وإلى الفلاح، يعلنونها من الأماكن العالية، ولهذا كان جزاؤهم من جنس العمل أن تعلو رؤوسهم وأن تعلو وجهوههم، وذلك بإطالة أعناقهم يوم القيامة، فينبغي للإنسان أن يحرص على أن يكون مؤذناً حتى ولو لم يكن في مسجد، فينبغي أن يبادر لذلك.

  • فضل الأذان.
  • المؤذنون أطول الناس أعناقاً يوم القيامة، هذا مما أختص به الله هذه الطائفة من الأمة الإسلامية.
  • بيان شرف المؤذنين، وعلو منزلتهم يوم القيامة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید