حدیث

رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشوراء کا روزہ رکھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صام يوم عاشوراء وأمر بصيامه.

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

تشریح

علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح: العربية

اتفق العلماء على أن صوم يوم عاشوراء سنة وليس بواجب، واختلفوا في حكمه في أول الإسلام حين شرع صومه قبل صوم رمضان، هل كان صيامه واجباً أم لا؟، فعلى تقدير صحة قول من يرى أنه كان واجباً، فقد نسخ وجوبه بالأحاديث الصحيحة، منها: عن عائشة رضي الله عنها أن قريشاً كانت تصوم يوم عاشوراء في الجاهلية، ثم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه حتى فرض رمضان، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من شاء فليصمه ومن شاء أفطر". رواه البخاري (3/24 رقم1893)، ومسلم (2/792 رقم1125).

  • استحباب صوم يوم عاشوراء، وأنه سُنَّةٌ.
  • يسن أن يصوم يومًا قبله معه، وأن يكثر من صيام شهر الله المحرم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید