حدیث

رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَنَام وهو جُنُب من غِير أن يَمَسَّ ماء».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔

تشریح

نبی ﷺ جماع کرنے کے بعد پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جایا کرتے تھے، نہ وضو کرتے اور نہ ہی غسل فرماتے، یہاں تک کہ اپنی شرم گاہ کو بھی نہیں دھوتے تھے; کیونکہ حدیث میں "ماء" کا لفظ نکرہ ہے اور سیاقِ نفی میں استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ پانی کے ہر قسم کے استعمال کو عام ہے۔ دوسرا احتمال: یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل کے لیے پانی کو نہ چھوتے تھے نہ کہ وضوء کے لیے۔یہ مفہوم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے موافقت رکھتا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ بعد ازجماع سونے کے لیے اور کھانے، پینے اور دوبارہ جماع کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے تھے۔ ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جس میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بشرطیکہ وہ وضوء کرلے“۔ متفق علیہ۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنبی شخص کو رخصت دی کہ جب اس کا کھانے پینے یا سونے کا ارادہ ہو تو نماز کے لئے کیا جانے والا وضو کر لے۔۔ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم اس تاویل کو حدیث کا عموم مسترد کرتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: نبی ﷺ جواز کو بیان کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل بھی پانی کو نہیں چھوتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ اگر ہمیشہ ایسا کیا کرتے تو اس سے اس کے فرض ہونے کا وہم ہوتا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانی اورسہولت پیدا کرنے کی غرض سے بعض اوقات پانی کے استعمال کو چھوڑ دیا۔

تشریح: العربية

أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينام بعد الجماع من غير أن يَمَسَّ الماء بَشَرَته، لا ماء الوضوء ولا ماء الاغتسال ولا حتى ماء لغسل فَرْجِه؛ لأن " ماء " نكرة في سِياق النَّفي فتعُمُّ جميع استعمالات الماء. الاحتمال الثاني: لا يَمَسُّ ماءَ الغُسل، دون ماء الوضوء، ويوافق أحاديث الصحيحين المصرِّحة بأنَّه يغسل فَرْجَه ويتوضَّأ لأجل النوم والأكل والشرب والجماع. ومنها: حديثُ ابن عمر؛ أنَّ عمر قال: يا رسولَ الله، أيَنَام أحُدنا وهو جُنب؟ قال: "نعم، إذا توضَّأ". متفق عليه. وعن عمَّار بن ياسر: "أنَّ النبَّي صلى الله عليه وسلم رخَّص للجُنب إذا أراد أنْ يأكُلَ أو يشرَبَ أو يَنام: أن يتوضَّأ وضوءه للصلاة" رواه أحمد والترمذي وصححه. لكن هذا التأويل يَرُدُّه عموم الحديث. والأحسن أن يقال: أنه كان صلى الله عليه وسلم في بعض الأوقات لا يَمَسَّ ماء أصلاً لبيان الجواز، إذ لو واظب عليه لتُوهِّم وجوبه، تيسيرا وتخْفِيَفا على الأُمَّة.

  • أنه لا يُسْتَحيا من الحَق؛ لأن عائشة -رضي الله عنها- ذَكَرت ما يتعلق بالجِماع والفَرَج، ومن عادة المرأة أن تَسْتَحِي أن تتكلم بهذا الأمر، وهي أم المؤمنين وأكمل النساء علما وعقلا وحياء، لكن لما كان الأمر مُتَعَلِقَا بِحكم شَرعي ذَكَرت ذلك.
  • جوازالنوم على جَنَابة، إلا أنه يُستحب له أن يتوضأ قبل أن ينام وإن اغتسل فهو أفضل.
  • حِرص عائشة -رضي الله عنها- في تتبع، وبيان أحواله -صلى الله عليه وسلم- فقد بَيَّنت أحكاما كثيرة خاصة، لا يَطَّلِع عليها إلا الخَاصة، ولولاها -رضي الله عنها-؛ لما حَصَل التَّأسِي به في كثير من الأحكام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید