حدیث

قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے)۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن زيد بن أرقم رضي الله عنه ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:«إنَّ هذه الحُشُوشَ مُحْتَضَرَةٌ، فإذا أتى أحدُكم الخَلَاءَ فَلْيَقُلْ: أعوذُ باللهِ مِنَ الخُبُثِ والخَبَائث».

ترجمہ

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ یعنی میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنّ مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔

تشریح

بلاشبہ قضائے حاجت کے مقامات، جنات اور شیاطین کے بسیرے ہوتے ہیں جہاں وہ بنی آدم کو تکلیف پہنچانے اور انہیں خرابی و خلل میں مبتلا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں کیونکہ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں شرمگاہیں کھولی جاتی ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاسکتا، لہذا جب مسلمان قضائے حاجت کے مقام پر آئے تو یہ دعا پڑھے ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ ( میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے) یعنی میں شیاطین مرد اور عورت کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں اور اسی کی حمایت و حفاظت میں آتا ہوں۔

تشریح: العربية

إن موضع قضاء الحاجة تحضره الجن والشياطين، يترصدون فيه لبني آدم بالأذى والفساد؛ لأنه موضع تُكشف فيه العورة، ولا يُذكر اسم الله فيه، فإذا أتى المسلم إلى موضع قضاء الحاجة فليقل: «أعوذُ باللهِ مِنَ الخُبُثِ والخَبَائث» أي: أعتصم بالله وأحتمي به من شر ذكران الشياطين وإناثهم.

  • أنَّ الأمكنة النجسة والقذرة هي أماكنُ الشياطين التي تأوي إليها وتُقِيمُ فيها.
  • الالتجاءُ إلى الله -تعالى- والاعتصامُ به من الشياطين وشرورِهِمْ، فهو المُنْجِي منهم، والعاصمُ من شرِّهم.
  • فضيلة هذا الدعاء والذكر, ومشروعية قوله عند دخول الخلاء.
  • إثباتُ وجود الجنِّ والشياطين، فإِنْكارُهُمْ ضلالٌ وكفرٌ؛ لأنَّه ردٌّ لصريح النصوص الصحيحة، وهو نقصٌ في العقل، وضيقٌ في التفكير؛ فإنَّ الإنسان لا يُنْكرُ ما لم يصلْ إليه علمه.
  • الأمكنة الطيبة كالمساجد يُشْرَعُ عندها أذكارٌ وأدعية، تناسب ما يرجى فيها من رحمة الله وفضله، والأمكنةُ الخبيثة كالحشوش يناسب دخولها أذكارٌ بالبعد عمَّا فيها من خبائثِ الجنِّ وَمَرَدَةِ الشياطين.
  • الشياطين نوعان ذكور وإناث.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید