حدیث

تین اوقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں؛ جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جائے، حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہوجائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عُقبة بن عامر الجُهَنِي رضي الله عنه قال: ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَنهَانا أن نُصَلِّي فيهن، أو أن نَقْبُر فيهن مَوْتَانَا: «حِين تَطلع الشَّمس بَازِغَة حتى ترتفع، وحِين يقوم قَائم الظَّهِيرة حتى تَميل الشَّمس، وحين تَضيَّف الشمس للغُروب حتى تَغرب».

ترجمہ

عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں؛ جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جائے، حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہوجائے۔

تشریح

عقبہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ تین گھڑیوں میں رسول اللہﷺنے صحابہ کو نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں گھڑیوں (ساعات) سے مراد اوقات ہیں۔ یعنی ان تین اوقات میں رسو ل اللہ ﷺ نے نماز اور تدفین سے منع کیا ہے: پہلا وقت: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ اچھی طرح ظاہر اور بلند ہو جائے اور اس کی روشنی افق پر پھیل جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزے کے برابر اونچا ہوجائے۔ جب کہ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزہ یا دونیزے کے برابر بلند ہو جائے، یہ روایت ابوداؤد میں عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ’رمح‘(نیزہ) اہل عرب کے یہاں معروف ہے۔ یہ ایک ہتھیار ہے جسے وہ اپنی جنگوں میں استعمال کرتے تھے۔ دوسرا وقت: جس وقت سورج آسمان کے درمیان میں پہنچ جائے۔ جب سورج وسط آسمان میں پہنچ جاتا ہے، تو اس کے ڈھلنے تک سایے کی حرکت سست پڑ جاتی ہے، چںانچہ غور سے دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ حرکت رکی ہوئی ہے، حالاں کہ وہ جاری ہوتی ہے، البتہ وہ دھیمی ہوتی ہے، اسی مشاہداتی ٹھہراؤ کو "قائم الظھیرۃ" کہا جاتا ہے۔ اس وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے، جب تک سورج درمیان آسمان سے مغرب کی طرف جھک نہ جائے اور مشرق کی طرف سایہ نمودار نہ ہوجائے۔ اسی کو "فئ زوال" کہا جاتا ہے۔ یہ وقت مختصر ہوتا ہے۔ بعض علما نے تانچ منٹ اور بعض نے دس منٹ کہا ہے۔ تیسرا وقت: جب سورج غروب ہونے لگے، اس وقت سے سورج غروب ہونے تک۔ یہ تین اوقات ہیں، جن میں دو کام ممنوع ہیں: پہلا کام: نفل نماز پڑھنا، اگرچہ نفل"ذوات الاسباب" میں سے ہو۔ جیسے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور نماز کسوف۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔ جب کہ عموم حدیث کے باوجود ان اوقات میں فرائض کی ادائیگی حرام نہیں ہے؛ کیوں کہ اس بات کا عموم ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے خاص ہو جاتا ہے، جس میں ہے: ”جو نماز کے وقت سو جائے یا بھول جائے، تو جب یاد آئے، پڑھ لے“۔متفق علیہ۔ دوسرا کام: مردوں کو دفنانا۔ ان ممنوعہ اوقات میں میت کی تدفین جائز نہیں۔ اگر میت ان تین ممنوعہ اوقات میں قبرستان پہنچ گئی ہو تو انتظار کیا جائے گا اور ممنوع وقت نکلنے کے بعد ہی تدفین کی جائے گي۔ البتہ اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی سورج طلوع ہو جائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ یا زوال سے پہلے تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ اسی اگر عصر کی نماز کے بعد تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ان ممنوعہ اوقات میں تدفین کا ارادہ نہیں تھا۔ جیسے کسی نے نفل نماز شروع کی اور نماز ہی میں تھا کہ ممنوعہ وقت داخل ہوگیا، تو نماز مکمل کرے گا۔ علما کے یہاں قاعدہ ہے: اس عمل کا جاری رکھنا قابل درگزر ہے، جس کا شروع کرنا قابل درگزر نہیں ہوتا۔

تشریح: العربية

يخبر عقبة رضي الله عنه عن ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَنهَى الصحابة أن يصلوا فيهن، أو أن يقْبُروا فيهن المَوْتى، والمراد بالساعات هنا: الأوقات، يعني ثلاثة أوقات نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة والدفن فيها، وهو وقت النهي المضيق والمغلظ: الوقت الأول: حِين تَطلع الشَّمس بَازِغَة حتى ترتفع، يعني: تطلع في الأفق نَقِيَّة بأشِعَّتِها، ونُورها حتى ترتفع في الأُفُق، وقد جاء في رواية أخرى مقدار الارتفاع، وأنه قِيْد رُمح، وفي رواية: (فترتفع قَيْسَ رُمْح أو رُمْحين) كما في أبي داود من حديث عمرو بن عَبَسَة رضي الله عنه ، والرُّمح معروف عند العرب، وهو السلاح الذي كانوا يستخدمونه في معاركهم. والثاني: حِين يقوم قائم الظَّهِيرة، أي: حِين تتوسط الشمس كَبد السماء، وإذا بَلغَت وسط السماء أبطأت حَركة الظِّل إلى أن تزول، فيتخيَّل النَّاظر المتأمل أنها واقِفة وهي سائرة، إلا أن سَيرها بِبطء، فيُقال لذلك الوقوف المُشاهد: "قائم الظهيرة"، فهذا الوقت تمنع فيه صلاة التطوع، حتى تَميل الشَّمس، أي: عن وسَط السَّماء، ويظهر الظِّل من جهة المشرق، وهذا ما يسمى بِفَيء الزَّوال. وهذ الوقت قصير، وقد قَدَّرَه بعض العلماء بخمس دقائق، وبعضهم بعشر دقائق. والثالث: حين تَضيَّف الشمس للغُروب حتى تَغْرب، أي: تشرع وتبدأ في الغروب ويستمر النَّهي حتى تَغْرب. فهذه ثلاثة أوقات يُنهى فيها عن أمرين: الأمر الأول: صلاة النافلة ولو كانت من ذوات الأسباب؛ كتحية المسجد، وركعتي الوضوء، وصلاة الكسوف؛ لعموم الحديث، أما الفريضة فلا تحرم في أوقات النَّهي مع أن الحديث عام، إلا أن عمومه خُص بحديث أبي قتادة رضي الله عنه : (من نام عن صلاة أو نسيها فليصلها إذا ذكرها). متفق عليه. الأمر الثاني: دَفن الأموات. فلا يجوز دَفن الميِّت في وقت النهي، فلو جِيء بميت إلى المقبرة في أوقات النَّهي الثلاثة، فيُنتظر به، حتى يخرج وقت النهي ثم يُدْفَن، أما لو شرعوا في دَفن الميت قبل طلوع الشمس وتأخر الدَّفن لعارض، ثم طلعت عليهم الشمس وهم يدفنون، فإنهم يستمرون ولا يتوقفون، أو أنهم شرعوا في الدَّفن قبل الزوال، ثم إنهم تأخروا لعارض، ثم صادف وقت النهي وهم يدفنون الميِّت، فإن يستمرون ولا يتوقفون، أو شرعوا في الدَّفن بعد صلاة العصر، ثم تأخروا في الدَّفن لعارض فصادف وقت النهي وهم يدفنون، فإنهم يستمرون ولا يتوقفون؛ لأنهم لم يقصدوا الدَّفن في هذه الأوقات المَنْهي عنها، كمن صلى نافلة ثم دخل وقت النهي وهو فيها فإنه يتمها، والقاعدة عند العلماء -رحمهم الله-: يغتفر في الدَّوام ما لا يُغتفر في الابتداء.

  • ظاهر الحديث: النَّهي عن الصلاة في الأوقات الثلاثة المنهي عنها، باستثناء الفرائض؛ لحديث أبي قتادة -رضي الله عنه-: (من نام عن صلاة أو نسيها فليُصَلِّها إذا ذَكَرَها لا كَفارة لها إلا ذلك) متفق عليه.
  • النَّهي عن دَفن الأموات في هذه الأوقات الثلاثة، إلا أنه يُستثنى من ذلك ما إذا وجدت ضرورة في تعجيل دَفْنِه في وقت النَّهي، كما لو كان في تأخير دفنه ضرر على المُشَيِّعِين، كحرب مثلا أو مطر لا يمكن اتقاؤه، وكذلك عند اشتداد الحرِّ وما أشبه ذلك، فلا بأس من دفنه في وقت النهي؛ لأن الضَّرورات تُبيح المحظورات، وقوله -صلى الله عليه وسلم-: (لا ضرر ولا ضرار). رواه أبو داود وغيره.
  • جواز دفن الميت في أي ساعة من ليل أو نهار؛ لأن النهي جاء في ثلاثة أوقات، فدل على أن ما عداها من الأوقات يجوز الدَّفن فيها.
  • النَّهي عن مُشابهة المشركين في عِباداتهم، وهذا يُؤخذ من عِلَّة النَّهي المُصَرّح بها في حديث عمرو بن عَبَسَة -رضي الله عنه-.
  • أن واجب المسلمين الامتثال لأوامر الشَّرع وإن لم تظهر لهم الحِكمة من التَّكليف، فالنبي -صلى الله عليه وسلم- بين الحِكمة من النهي عن الصلاة في أوقات النهي، كما في حديث عمرو بن عَبَسة -رضي الله عنه- ولم نقف على دليل في بيان الحِكمة من النَّهي عن الدَّفن في أوقات النَّهي، فالواجب على المسلمين في مثل هذه الأحوال أن يقولوا: سَمعنا وأطعنا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید