حدیث

تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن يسار مَولى ابن عمر قال: رَآني ابن عمر وأنا أصلِّي، بعد طلوع الفَجر، فقال: يا يَسار، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة، فقال: «لِيُبَلِّغْ شِاهِدُكُم غَائِبَكم، لا تُصلُّوا بعد الفجر إلا سَجْدَتَيْن».

ترجمہ

یسار جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو کہا: اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، تو ہم ایسی ہی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو موجود ہیں، وہ ان لوگوں کو بتا دیں، جو موجود نہیں ہیں کہ فجر کے طلوع ہونے کے بعد دو رکعت (سنت) کے علاوہ کوئی اور (نفل) نماز نہ پڑھیں“۔

تشریح

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے مولی یعنی اپنے آزاد کردہ غلام یسار کو دیکھا کہ وہ طلوع فجر کے بعد فجر کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھ رہے ہیں۔ شاید انھوں نے دو رکعت سے زیادہ نماز پڑھی۔ اس پر انھوں نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے یسار! ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، جب کہ ہم یہی (نفل) نماز پڑھ رہے تھے“ یعنی نبی ﷺ نے انھیں طلوع فجر (صادق) کے بعد نماز فجر سے پہلے سنت فجر سے زائد نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: ”لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم“ یعنی نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو مجلس میں موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں کہ: ”لا تُصلُّوا بعد الفجر“ یعنی طلوع فجر کے بعد (نفل) نماز نہ پڑھو۔ اس کی تایید مسند احمد کی ایک اور حدیث سے ہوتی ہے، جس میں ہے کہ: "طلوع فجر کے بعد فجر کی دو رکعت کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔" یعنی طلوع فجر کے بعد دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”إلا سَجْدَتَيْن“، یہاں دو سجدوں سے مراد دو مکمل رکعتیں ہیں اور یہ جز بول کر کل مراد لینے کے قبیل سے ہے، جیسا کہ اس کی وضاحت سابق الذکر روایت میں کی گئی ہے۔ یہی آپ ﷺ کی سنت کے موافق بھی ہے۔ آپ ﷺ طلوع فجر کے بعد دو ہلکی سی رکعتیں پڑھنے کے علاوہ کوئی اور نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ جب فجر طلوع ہو جائے تو مسلمان کے لیے نماز فجر کی دو رکعت (سنت) کے علاوہ جائز نہیں کہ کوئی اور نفل نماز پڑھے، جیسا کہ نبی ﷺ کا طریقہ تھا اور سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہی ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ طلوع فجر کے بعد سوائے سنتوں کے کوئی نفل نماز نہیں ہے، تو یہ وقت ان اوقات میں شمار کیا جائے گا، جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

تشریح: العربية

رأى عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يسارا، وهو مولاه، أي: كان عبدًا له فأعتقه، رآه يصلي نافلة بعد طلوع الفجر وقبل الصلاة، ولعله زاد على ركعتين، فقال: "يا يَسار، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خَرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة"، يعني: أن النبي صلى الله عليه وسلم رآهم يتطوعون بالصلاة بعد طلوع الفجر وقبل الصلاة زيادة على سنة الفجر، "فقال: " لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم" أي: قال النبي صلى الله عليه وسلم لِيُبَلِّغْ الحَاضر بالمجلس الغَائب عنه بهذا الكلام، "لا تُصلُّوا بعد الفجر" أي: بعد طلوع الفجر، يؤيده رواية أحمد: (لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر) أي لا نافلة بعد طلوع الفجر إلا راتبته وهي ركعتان. وقوله: "إلا سَجْدَتَيْن" أي: ركعتين كاملتين، وهذا من إطلاقه الجزء وإرادة الكل؛ كما فسَّرتها الرواية السابقة. وهذا هو الموافق لهديه صلى الله عليه وسلم فإنه كان لا يصلي بعد طلوع الفجر إلا ركعتين خفيفتين. وعليه: فإذا طلع الفجر فلا يجوز للمسلم أن يتطوع بالصلاة غير ركعتي الفجر، كما هو هديه صلى الله عليه وسلم وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم . فإذا تقرر عدم جواز التطوع بالصلاة بعد طلوع الفجر إلا السُّنة الراتبة، فيعتبر هذا الوقت من الأوقات المَنْهي عن الصلاة فيها.

  • حرص ابن عمر -رضي الله عنهما- على تبليغ شَرْع الله -تعالى-؛ امْتِثَالا لأمره -صلى الله عليه وسلم- حيث قال: (لِيُبَلِّغْ شِاهدكم غَائِبَكم).
  • وجوب إبلاغ العِلم لمن يجهله وإن كان إبلاغاً لغير واجب.
  • جواز صلاة التطوع في المسجد؛ لقول ابن عمر -رضي الله عنهما-: (خرج علينا ونحن نُصلِّي هذه الصلاة) والأفضل إيقاعها في البيت.
  • أن النَّهي عن التطوع مَنُوط بطلوع الفجر لا بصلاة الفجر.
  • تحريم التَّنَفل بالصلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر؛ لأن المُراد من النَّفي النَّهْي.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید