حدیث

تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْءٌ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے والے کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اپنے دونوں کندھوں کو ننگا چھوڑ دے اور ان پر کچھ نہ رکھے۔ کیوں کہ دونوں کندھے اگرچہ جسم کے ان حصوں میں داخل نہیں ہیں، جن کو چھپائے رکھنا واجب ہے، لیکن ان کو ڈھانپ لینے کے بعد ستر عورت بہتر طریقے سے ہو جاتا ہے اور یہ اللہ کے سامنے نماز میں کھڑے ہوتے وقت اللہ کی تعظیم کے زیادہ قریب ہے۔

فوائد

  • ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، جب کپڑا بدن کے اتنے حصے کو چھپالے، جتنے حصے کو چھپانا ضروری ہے۔
  • دو کپڑے پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، جب ایک کپڑا جسم کے اوپری حصے کو اور دوسرا حصہ نچلے حصے کو ڈھانپ لے۔
  • مصلی کے لیے اچھی حالت وہیئت میں نماز کے لیے جانا مستحب ہے۔
  • نماز میں دونوں کندھوں یا ان میں سے کسی ایک کو ڈھانپنا واجب ہے، جب کہ انسان اس پر قادر ہو۔ کچھ لوگوں کے مطابق یہ نہی تنزیہی ہے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم کی محتاجی کا حال کہ ان میں سے بہتوں کے پاس دو کپڑے بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
  • امام نووی اس حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہيں: اس کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ جب آدمی کے پاس ایک ہی چادر ہو اور اسے لنگی کے طور پر استعمال کر لے اور کندھے پر کچھ نہ ہو، تو جسم کے ان حصوں کے کھل جانے کا امکان باقی رہ جاتا ہے، جن کا چھپانا لازمی ہے۔ جب کہ کندھے پر کچھ ہونے کی صورت میں اس کا امکان نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کندھے پر کچھ نہ ہونے کی صورت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ نیچے پہنے ہوئے چادر کو ایک ہاتھ یا دونوں ہاتھوں سے پکڑے رہنے کی ضرورت پڑ جائے، جس سے ایک تو نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور دوسرا دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر سینے کے نیچے رکھنے اور جہاں جہاں دونوں ہاتھوں کو اٹھانا مشروع ہے، وہاں وہاں اٹھانے کی سنت فوت ہوتی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ کندھے پر کچھ نہ رکھنا دراصل جسم کے اوپری حصے اور زینت کی جگہ کو ڈھانپنے سے گریز کرنا ہے، جب کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے کہا ہے: { خُذُوا ‌زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ } [سورہ اعراف : 31] یعنی ہر نماز کے وقت اپنے پاس دست یاب زینت اختیار کر لیا کرو۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم مَن صلّى في ثوب واحد عن أنْ يُجَرِّدَ عاتقيه ما بين الكتف والعنق بحيث لا يضع عليهما شيئًا يسترهما؛ لأن العاتقين وإن لم يكونا عورة، فإن سترهما أمكن في ستر العورة، وهو أقرب إلى إجلال الله تعالى وتعظيمه أثناء الوقوف بين يديه في الصلاة.

  • جواز الصلاة في الثوب الواحد إذا ستر ما يجب ستره.
  • جواز الصلاة في ثوبين، أحدهما يستر أعلى الجسم، والآخر يستر أسفله.
  • استحباب كون المُصلِّي على هيئة حسنة.
  • وجوب سَتر العَاتِقَين أو أحدهما في الصلاة، إذا أمْكَنه ذلك، وقيل النهي للتنزيه.
  • قِلّة ما في أيدي الصحابة رضي الله عنهم من المال، حتى إن بعضهم لا يملك ثَوبين.
  • قال النووي في معنى الحديث: حكمته أنه إذا ائتزر به ولم يكن على عاتقه منه شيء لم يؤمن أن تنكشف عورته، بخلاف ما إذا جعل بعضه على عاتقه، ولأنه قد يحتاج إلى إمساكه بيده أو يديه فيشغل بذلك، وتفوته سنة وضع اليد اليمنى على اليسرى تحت صدره، ورفعهما حيث شرع الرفع، وغير ذلك، لأن فيه ترك ستر أعلى البدن وموضع الزينة، وقد قال الله تعالى: { خُذُوا ‌زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ } [الأعراف: 31].

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید