حدیث

مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب قِبْلة».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مشرق ومغرب کے مابین جو کچھ ہے سب قبلہ ہے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ”مشرق و مغرب کے مابین ہے جو کچھ ہے وہ قبلہ ہے“ اس حدیث میں آپ ﷺ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ مشرق و مغرب کی جہت کے ما بین نمازیوں کے لیے قبلہ ہے۔ یہ خطاب اہلِ مدینہ اور جو ان سے موافقت رکھتے ہیں ان سے ہے، کیوں کہ وہ کعبہ سے شمالی جانب واقع ہے۔ تو اہل مدینہ اور ان کے اردگرد اہل شام وغیرہ کی مناسبت سے یہ جہت ان کے لیے قبلہ ہے۔ شمال والے مشرق و مغرب کے مابین کے طرف قبلہ رو ہوں گے۔ یعنی کعبہ کی مناسبت سے ان کے رخ جنوب کی طرف ہوں گے جب کہ یمن اور اس سے ملحقہ جنوبی علاقے والے شمال کی طرف مشرق و مغرب کے مابین رُخ کریں گے ۔جب کہ اہل مشرق ومغرب کے اعتبار سے ان کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا ہے۔ اس لیے کہ اصلجہتیں چار ہوتی ہیں: شمال، جنوب، مشرق اور مغرب۔ جب نمازی کعبہ سے مشرق یا مغرب کی سمت میں ہو گا تو اس کا قبلہ شمال و جنوب کے مابین ہوگا اور اگر کعبہ سے شمال اور جنوب کی طرف ہو گا تو اس کا قبلہ مشرق و مغرب کے مابین ہو گا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں پر آسانی ہے کیوں کہ اگر وہ ان سے عین کعبہ کی طرف منہ کرنے کا تقاضا کرتا تو کسی ایک کی بھی نماز درست نہ ہوتی۔ لہذا دور رہنے والوں اور دکھائی نہ دینے والوں کے لیے قبلہ سے تھوڑا انحراف کرنا غیر موثر مانا گیا، اِلاّ یہ کہ وہ کعبہ سے گھوم جائے، یا اسے پشت کی طرف کرلے، تو ایسی صورت میں اس کا (یہ نماز پڑھنا)صحیح نہ ہوگا۔

تشریح: العربية

معنى حديث: "ما بَيْن المَشْرِق والمَغْرِب قِبْلة" هذا بيان منه صلى الله عليه وسلم أن ما بين جِهة المَشرق والمغرب قِبْلة للمصلين، وهذا خطاب لأهل المدينة ومن وافقهم في الجهة؛ لأنهم يقعون شمالي الكعبة، فالقبلة بالنِّسبة لأهل المدينة ومن حاذاهم من أهل الشام، وأهل جهة الشمال يستقبلون ما بين المشرق والمغرب، يعني تكون وجهتهم إلى الجنوب حيث الكعبة، واليمن وما والاها من جهة الجنوب يتوجهون إلى الشمال بين المشرق والمغرب، أما أهل المشرق والمغرب فتكون القبلة بالنِّسبة لهم ما بين الشمال والجنوب؛ لأن الجِهات الأصلية أربع: الشمال، الجنوب، الشرق، الغرب، فإذا كان المصلَّي عن الكعبة شرقاً أو غرباً كانت قبلته ما بين الشمال والجنوب، وإذا كان عن الكعبة شمالاً أو جنوباً كانت قبلته ما بين المشرق والمغرب . وهذا من تيسير الله تعالى على عباده؛ لأنه لو طلب منهم أن يستقبلوا عين الكعبة مطلقا ما صحَّت صلاة أحد، فالانحراف اليسير عن القبلة في حَق بَعُد عنها ولم يَرها غير مؤثر ما لم يَستدبر الكعبة أو يَجعلها على جَنْبه فلا تصح في هذه الحال.

  • أن استقبالُ القِبْلة أو الجِهة شرطٌ لصحة الصلاة، قال تعالى: ( فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ) [البقرة: 144]، وهذا عند القُدْرَة على الاستقبال، أما عند العَجز فيسقط الاستقبال.
  • أنَّ الواجب على من لم يشاهد الكعبةَ استقبال الجهة، فالحديثُ يدلُّ على أنَّ ما بين الجهتين قبلَةٌ، وأنَّ الجهة كافيةٌ في الاستقبال، أما مع مُشاهدة الكَعبة فالواجب إصابة عينها.
  • تيسير الشريعة الإسلامية ورفع الحَرج عن المُكلفين، حيث امتدَّت جِهة القِبلة عند البُعد عن مُعاينة الكعبة.
  • أنه لا يلزم الإنسان أن يَتكلف بطلب مُسامتة القِبلة، حتى إن بعض الناس رُبَّما يَهدِم مسجدا قائما عامرا مع انحراف يَسير يُعفى عنه، فإن هذا لا يجوز.
  • أن خطابات الشرع قد تكون عامة، وقد تكون خاصة، ويعين ذلك الحال والقرائن والملابسات، فيعلم بهذا أن خطاب هذا الحديث لا يصلح إلا لأهل المدينة ومن كان مثلهم ممن قبلته الجنوب، وبالعكس كأهل اليمن الذين قبلتهم الشمال، وأما من كانت القبلة في حقه الشرق والغرب تكون جهة القبلة في حقهم: ما بين الشمال والجنوب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید