ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحرواه مسلم
عربی متن
عن أبي مَرْثَدٍ الغَنَوِيّ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا».
ترجمہ
ابو مَرثَد غَنَوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح قبروں کی جانب اس طرح منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ قبر نمازی کے قبلے کی جانب ہو۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرک کا ذریعہ ہے۔
فوائد
- قبرستان میں، قبروں کے بیچ یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت۔ البتہ جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جیسا کہ سنت سے ثابت ہے۔
- قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنے سے ممانعت کی وجہ شرک کے دروازے کو بند کرنا ہے۔
- اسلام نے قبروں کے بارے میں غلو سے کام لینے اور ان کی بے حرمتی کرنے دونوں سے منع کیا ہے۔ یہاں نہ افراط کی گنجائش ہے، نہ تفریط کی۔
- مسلمان کی حرمت اس کی موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے : "مرے ہوئے آدمی کی ہڈی کو توڑنا زندہ آدمی کی ہڈی کو توڑنے کی طرح ہے۔"
تشریح: العربية
نَهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن الجُلوسِ على القبور. كما نهى عن الصلاةِ إلى القبور، بأن يكون القبر في جهة قِبْلة المُصلي؛ لأن ذلك من وسائل الشرك.
- النهي عن الصلاة في المقابر أو بينها أو إليها إلا صلاة الجنازة كما ثبت بالسنة.
- النهي عن الصلاة إلى القبور سَدًّا لذريعة الشرك.
- نهى الإسلام عن الغُلوِّ في القبور وعن امْتِهانها، فلا إفْرَاط ولا تَفْريط.
- حُرمة المُسلم باقية بعد موته، لقوله صلى الله عليه وسلم: (كَسْرُ عَظْمِ المَيّت كَكَسْرِه حيًّا).