ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي سعيد الخُدْري رضي الله عنه قال: بَينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلِّي بأصحابه إذ خَلع نَعْلَيه فوضَعَهُما عن يساره، فلمَّا رأى ذلك القوم أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فلمَّا قَضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته، قال: «ما حَمَلَكُمْ على إِلقَاءِ نِعَالِكُم»، قالوا: رأيْنَاك أَلقَيْت نَعْلَيْك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن جبريل صلى الله عليه وسلم أتَانِي فأخْبَرنِي أن فيهما قَذَرًا -أو قال: أَذًى-، وقال: إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر: فإن رَأى في نَعْلَيه قَذَرا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْه وليُصَلِّ فيهما.
ترجمہ
ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔ جب لوگوں نے دیکھا، تو انھوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب رسول اللہﷺ نے نماز پوری کر لی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: تمھیں کس چیز نے جوتے اتارنے پر ابھارا؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے آپ (ﷺ )کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا، تو ہم نے بھی اتار دیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ آپﷺ کے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ -یا پھر کہا کہ کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی ہے- پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے، تو دیکھ لیا کرے۔ اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لےاور ان میں نماز پڑھ لے۔
تشریح
ایک دن نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرام کو نماز پڑھائی۔ (دوران نماز) آپ ﷺ نے اچانک اپنے جوتےاتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو انھوں نے آپﷺ کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے اپنے جوتے اتار دیے۔رسول اللہﷺ جب نماز سے فارغ کر ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو انھیں جس حالت میں نماز میں داخل ہوئے تھے، اس سے الگ حالت میں پایا۔ ان سے اس کا سبب دریافت کیا۔ تو انھوں نے جواب دیا: ”ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں، تو ہم نے بھی اتار دیے“ یعنی آپ کی اتباع کرتے ہوئے۔ انھوں نے سمجھا کہ شاید جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا جواز منسوخ ہو گیا ہے۔ رسول اللہﷺنے انھیں اپنے جوتے اتارنے کا سبب بیان کرتےہوئے فرمایا: ”میرے پاس جبریل آئے تھے اور انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے۔ -یا پھر کہا کہ کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی ہے“ یعنی جبریل نبی کریمﷺکے پاس حالت نماز میں تشریف لائے اور آپ ﷺکو اطلاع دی کہ آپ کے جوتوں میں گندگی یا ناپاکی -اس میں راوی کو شک ہے- لگنے کی وجہ سے ان میں نماز کی ادائیگی درست نہیں۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد آئے، تو دیکھ لیا کرے۔ اگر اسے اپنے جوتوں میں کوئی گندگی یا ناپاکی نظر آئے، تو اسے رگڑ کرصاف کر لے اور ان میں نماز پڑھ لے“۔ جب کوئی شخص جوتوں سمیت مسجد میں آئے اور جوتوں سمیت نماز پڑھنا چاہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جوتوں کودیکھ لے۔ اگر ان میں گندگی یا ناپاکی لگی ہو، تو انھیں زمین یا کسی اور چیز سے رگڑ کر ناپاکی کو زائل کر لے اور پھر ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جوتوں سمیت نماز پڑھنا واجب ہے، بلکہ پڑھ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لیکن اگر ارادہ جوتوں سمیت نماز پڑھنے کا ہے، تو پھر ضروری ہوگا کہ پہلے ان کی نظافت کا تیقن کر لے، پھر نماز پڑھے۔ جس نے نماز شروع کر دی اور نجاست کا خیال نہ رہا؛ چاہے نجاست اس کے جوتوں، چوغے، ٹوپی، یا کپڑوں میں ہو، پھر دوران نماز اس سے آگاہ ہوگیا، تو فورا اسے اتار دے۔ نجاست اگر اس کے کپڑے یا پاجامے میں ہو اور ستر عورت کے ساتھ اسے ہٹانا ممکن ہو، تو اسے اتار دے اور نماز جاری رکھے۔ نماز دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر اس کو اتارنے سے نماز میں ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو پھر نماز توڑ دے ،اپنا ستر ڈھانکے اور نماز کو دوہرائے۔
تشریح: العربية
صلى النبي صلى الله عليه وسلم بأصحابه ذات يوم، ثم خَلع نَعليه فجأةً فوضَعَهُما عن يساره، فلما رأى الصحابة رضي الله عنهم ذلك، خلعوا نِعالهم، تأسيًا ومتابعةً للنبي صلى الله عليه وسلم ، فلما فَرغ صلى الله عليه وسلم من صلاته والتَفَت إليهم رآهم على حالة غير الحال التي دخلوا فيها الصلاة، فسألهم عن سَبب خَلع نعالهم. فأجابوه بقولهم: "رأيْنَاك أَلقَيْت نَعْلَيْك فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا" أي: متابعة لك؛ لأنهم ظنُّوا رضي الله عنهم نَسخ إباحة الصلاة بالنَّعال، فبين لهم -عليه الصلاة والسلام- السبب من خلع نعليه بقوله: "إن جِبريل صلى الله عليه وسلم أتَانِي فأخْبَرنِي أن فيهما قَذَرا -أو قال: أَذًى-" يعني: أن جبريل -عليه السلام- جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في صلاته فأخبره؛ بأن نعاله لا تصلح الصلاة فيهما لوجود القذر أو الأذى -هذا شك من الراوي- ثم قال صلى الله عليه وسلم : "إذا جاء أحدكم إلى المسجد فلينظر: فإن رَأى في نَعْلَيه قَذَرا أو أَذًى فَلْيَمْسَحْه وليُصَلِّ فيهما" إذا أراد دخولَ المسجد بهما والصَّلاةَ فيهما، فالواجب عليه النَظَرُ فيهما: فإن رأى فيهما قذرًا، أو أذًى، مسحَهُ بالأرض أو بغيرها، ليزيل ذلك، ثمَّ صلَّى بهما، وليس معنى هذا أن الإنسان لابد أن يُصلي فيهما، فقد يُصلي فيها وقد لا يصلي، ولكن إذا أراد أن يُصلي بهما تعين عليه التأكد من نظافتهما، ثم صلى بهما إن شاء، ومن صلَّى ولم يتنبه للنجاسة، سواء كانت في نعْلِه أو شِمَاغه أو قُبعته أو ثوبه، ثم عَلم بها في أثناء الصلاة بادر إلى خلعه...فإن كانت في ثوبه أو سرواله وأمكن التَّخَلص منها مع بقاء ما يَستر عورته خَلعه، ومضى في صلاته ولا إعادة عليه وإن كان لا يتمكن من خلعه إلا بكشف عورته قطع صلاته، وستر عورته وأعاد الصلاة.
- شِدة اعتناء الله -تعالى- بالنبي -صلى الله عليه وسلم- وبعبادته.
- أن من تنجس نَعله، ثم مسحه بالأرض أو غيره وزالت عين النجاسة، جاز الصلاة فيه.
- فيه أن من واجبات الصلاة: إزالة النَّجاسة، سواء كانت النَّجاسة على الثُّوب أو الخُف أو البَدَن أو البُقعة.
- فيه أنه -صلى الله عليه وسلم- لا يعلم الغيب؛ لأنه دخل في الصلاة وهو يجهل تلبسه بالنجاسة، ثم سألهم عن السبب الذي حملهم على خلع نعالهم ولو كان يعلم الغيب لما صلى في نعاله المتنجسة ولما سألهم عن سبب خَلعهم نعالهم.
- سماحة الشَّريعة ويُسرها، فالخُفُّ كثيرًا ماَ يصاب بالأَذى والنجاسة، من أجل مُباشرته الأرض، فلو لم يَكْفِ في تطهيره إلاَّ الماء، لكان في ذلك مَشَقَّة وحَرج على النَّاس.
- استحباب الصلاة بالنِّعال، إذا صلى في مكان غير مفروش، وقد أمر -صلى الله عليه وسلم- بذلك، فقال: (خالفوا اليهود فإنهم لا يصلُّون في نعَالهم، ولا خِفَافِهم). رواه أبو داود، وعند البزار بلفظ: (خالفوا اليهود وصلُّوا في نِعَالكم) والأمر محمول على الاستحباب ولا يجب؛ لما رواه عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: (رأيت النبي -صلى الله عليه وسلم- يُصلي حَافِياً ومنتعلاً). رواه أبو داود، لكن بعد أن فُرشت غالب المساجد بالفُرش، فإن الأولى والأفضل للمصلِّي أن يصلِّي حَافيا حفاظا على المال وعلى نظافة المسجد ومنعا لتأذي المصلين مما قد يحصل لهم بسبب مجاورته.
- استحباب وضع النِّعال عن يسار المُصلي دون اليمين إذا كان لن يصلي فيهما، وهذا خاص بالإمام، أما المأموم، ففيه تفصيل: فإن لم يكن عن يساره أحد وضعها عن يساره، وإن كان عن يساره أحد وضعها بين قدميه أو خارج المسجد أو في موضع آخر لا يتأذى بها غيره؛ لما رواه أبو هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: (إذا صلى أحدكم فلا يضع نعليه عن يمينه ولا عن يساره فتكون عن يمين غيره، إلا أن لا يكون عن يساره أحد، وليضعهما بين رجليه). رواه أبو داود وحسنه الألباني.
- لا يجوز دخول المسجد بالنِّعال، إذا كان فيهما أذًى، أو قذرٌ، أو نجَاسة.
- فيه احترام المساجد، وتطهيرُهَا عن الأَذَى والقَذَر؛ لأنَّها موضعُ عبادة، فيجب أنْ تكون طاهرةً نظيفة؛ قال تعالى: ( وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ )، [الحج: 26].
- جواز العَمل القليل في الصلاة، إذا كان لمصلحة الصلاة؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- خَلع نَعله وهذا يستلزم الحركة، إلا أنها حركة يسيرة.
- يستفاد من قوله: "فلما رأى ذلك القوم، ألقوا نعالهم" كمال مُتابعة الصحابة للنبي -صلى الله عليه وسلم-.