حدیث

یہ قرآن سات حروف پر اترا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: سمعتُ هشامَ بن حَكِيم يَقْرَأ سورةَ الفُرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فاسْتَمَعْتُ لقراءته، فإذا هو يقْرَؤها على حروف كثيرةٍ لم يُقْرِئْنِيها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم كذلك، فكِدْتُ أُساوِرُه في الصلاة، فانتظرتُه حتى سَلَّم، ثم لَبَّبْتُه بِرِدائِه أو بِرِدائي، فقلتُ: مَنْ أقرأكَ هذه السورةَ؟ قال: أَقْرَأنيها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ، قلتُ له: كذبتَ، فواللهِ إنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم أَقْرأَني هذه السورةَ التي سمعتُك تَقْرَؤُها، فانطلقتُ أقودُه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلتُ: يا رسول الله، إنِّي سمعتُ هذا يقرَأ بسورة الفُرْقان على حروف لم تُقْرِئنيها، وأنت أقرأْتَنِي سورةَ الفُرقان، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أَرْسِلْه يا عمر، اقرأْ يا هشام» فقَرَأ عليه القراءةَ التي سمعتُه يقرؤها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «هكذا أُنْزِلت» ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اقرأْ يا عمر» فقرأتُ، فقال: «هكذا أُنْزِلَت» ثم قال: «إنَّ هذا القرآنَ أُنْزِل على سبعة أحْرُف، فاقرءوا ما تيسَّر منه».

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔

تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔ علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔

تشریح: العربية

يحكي عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه سمع هشامَ بن حَكِيم رضي الله عنهما يقرأ سورةَ الفُرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، بقراءة تختلف عما يقرؤه عمر في ألفاظ كثيرة، وقد كان عمر قد قرأ هذه السورة على رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فظن عمر رضي الله عنه أن ذلك غلط من هشام، فكاد أن يثب عليه ويأخذ برأسه وهو في الصلاة، ولكنه صبر حتى سلَّم من صلاته، ثم أمسك بردائه وجمعه من جهة رقبته، وقال له: مَن أقرأكَ هذه السورةَ؟ قال: أَقْرَأنيها رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له عمر: كذبتَ، فواللهِ إنَّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم أقرأني هذه السورة بقراءةٍ غير التي قرأتها. ثم ذهب به يجره إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وكان عمر رضي الله عنه شديدًا في أمر الله تعالى ، فقال عمر: يا رسول الله، إنِّي سمعتُ هذا يقرأ بسورة الفُرْقان على ألفاظ لم أسمعك تقرؤها، وأنت أقرأتني سورةَ الفُرقان. فأمره رسول الله أن يطلقه، ثم أمر هشامًا أن يقرأ سورة الفرقان، فلما قرأها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «هكذا أُنْزِلت» يعني: أُنزلت هذه السورة من عند الله على ما قرأه هشام، ولم يكن مخطئا كما ظنه عمر رضي الله عنه . ثم أمر عمر أن يقرأ فقرأ فقال صلى الله عليه وسلم : «هكذا أُنْزِلَت» يعني: أن الله أنزل هذه السورة على ما قرأه عمر كما أنزلها على ما قرأه هشام. ثم قال صلى الله عليه وسلم : «إنَّ هذا القرآنَ أُنْزِل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسَّر منه» فعمر وهشام كلاهما مصيب في قراءته؛ لأن القرآن نزل على أكثر من حرف، بل على سبعة أحرف، وليس في قراءة هشام زيادة عما عند عمر في الآيات، وإنما هناك اختلاف في الحروف فقط، ومن أجل ذلك قال لكل واحد منهما بعد ما سمع قراءته: «كذلك أُنزلت» ويوضح ذلك قوله: «إن هذا القرآن نزل على سبعة أحرف، فاقرأوا ما تيسر منه» أي: لا تتكلفوا التزام حرف واحد، فإن الله تعالى قد أوسع عليكم، ويسر لكم قراءة القرآن على سبعة أحرف، رحمة منه وفضلاً، فله الحمد والمنة، وقد اختلف العلماء في تعيين الحروف السبعة اختلافاً كثيراً، والمقصود بها -فيما يظهر والله أعلم- أوجه من أوجه لغة العرب، فالقرآن نزل على هذه الوجوه للتخفيف في أول الأمر؛ لأن العرب كانوا متفرقين وكانوا مختلفين وكلٌّ له لغته، ويكون عند هذه القبيلة ما ليس عند القبيلة الأخرى، ولكن لما جمع بينهم الإسلام، واتصل بعضهم ببعض، وذهب ما بينهم من العداوة والشحناء بسبب الإسلام، وعرف كل ما عند الآخرين من اللغة، قام عثمان بن عفان رضي الله عنه فجمع الناس على حرف واحد من الأحرف السبعة؛ وأحرق ما سوى ذلك؛ حتى لا يحصل الاختلاف.

  • كان عمر -رضي الله عنه- شديدًا في أمر الله -تعالى-.
  • مشروعية التثبت في الأمور، ووقوف الحاكم بنفسه على الحقائق, وإن كان المخبِر موثوقًا به.
  • أُنزل القرآن على سبعة أحرف، والراجح في الحروف السبعة أنها: تأدية المعنى الواحد باللفظ المرادف, والقرآن نزل على هذه الوجوه للتخفيف في أول الأمر؛ لأن العرب كانوا متفرقين وكانوا مختلفين وكانوا متنابذين وكل له لغته، ويكون عند هذه القبيلة ما ليس عند القبيلة الأخرى، ولكن لما جمع بينهما الإسلام, واتصل بعضهم ببعض, وذهب ما بينهم من العداوة والشحناء بسبب الإسلام, وعرف كل ما عند الآخرين من اللغة, قام عثمان بن عفان -رضي الله عنه- فجمع الناس على حرف واحد من الأحرف السبعة؛ وأحرق ما سوى ذلك؛ حتى لا يحصل الاختلاف.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید