حدیث

کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی بات مجھے یاد ہو جاتی ہے تو یہ کیفیت جاتی رہتی ہے اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں اس کی بات یاد کر لیتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة أُمِّ المؤمنين رضي الله عنها أنَّ الحارثَ بن هشام رضي الله عنه سأل رسولَ الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسولَ الله، كيف يأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أحْيانًا يَأْتِيني مِثْلَ صَلْصَلَة الجَرَس، وهو أَشدُّه عليَّ، فيَفْصِمُ عنِّي وقد وَعَيْتُ عنه ما قال، وأحيانًا يتمثَّلُ لي المَلَكُ رَجُلًا فيُكَلِّمُني فأَعِي ما يقول». قالت عائشة رضي الله عنها : ولقد رأيتُه ينزِل عليه الوَحْيُ في اليومِ الشديدِ البرْدِ، فيَفْصِمُ عنه وإنَّ جَبِينَه لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.

ترجمہ

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو، اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی ساری باتیں مجھے یاد ہو جاتی ہیں تو یہ موقوف ہو جاتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں وہ جو کچھ کہتا ہے اُسے یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سخت جاڑے کے دن آپ پر وحی اترتی پھر ختم ہو جاتی اور آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔

تشریح

حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سےپوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ کبھی تو فرشتے (اور وہ جبریل علیہ السلام ہیں جو) وحی لے کر آتے ہیں چنانچہ اس وحی لانے والے فرشتے کی آواز قوت میں گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی نبی ﷺ پر بہت سخت اور تکلیف دہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے نبی ﷺ بہت سخت مصیبت اور پریشانی میں پڑ جاتے، چنانچہ جب فرشتے کی بتائی ساری باتیں نبیﷺ کو یاد ہو جاتیں اور انہیں سمجھ لیتے تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ اس قدر تیز آواز میں وحی آنے کا مقصد یہ ہوتا کہ آپ ﷺ دنیا سے ایک دم غافل ہو جائیں اور ان کا ذہن خالی ہو جائے جس کی بنا پر نبیﷺ اسے سمجھ لیتے کیونکہ اب انہیں اس وحی کے علاوہ ان کے کان اور دل کو کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی۔ نیز آپ ﷺ نے حارث بن ہشام کو مزید بتایا کہ کبھی تو جبریل علیہ السلام انسان کی شکل میں مثلاً دِحیہ کلبی صحابی کی شکل میں، یا ان کے علاوہ کسی دوسرے کی شکل میں میرے پاس آتے ہیں، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں ان کا کہا یاد کر لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے ہوئے دیکھا ، پھر جب وحی ختم ہو جاتی تو وحی کی شدت سے آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا، ایسا اس لیے ہوتا کہ وحی کی وجہ سے نبی ﷺ کو بہت سخت مصیبت اور پریشانی ہوتی تھی۔

تشریح: العربية

سأل الحارث بن هشام رضي الله عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، كيف يأتيك الوحيُ؟ فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أحيانًا يأتيه الملك -وهو جبريل- بالوحي فيكون صوت الملك بالوحي مشابهًا لصوت الجرس في قوته، وهو أشد شيء وأصعبه عليه صلى الله عليه وسلم ، وتغشاه شدة وكرب شديد ثم ينكشف عنه، وقد فهم وحفظ عن الملك ما قال، وإنما يأتيه الوحي بهذا الصوت الشديد؛ ليشغله عن أمور الدنيا، ويفرغ حواسه للصوت الشديد، فكان صلى الله عليه وسلم يفهم عنه؛ لأنه لم يبق في سمعه مكان لغير صوت الملك ولا في قلبه. وأخبره صلى الله عليه وسلم أنه أحيانًا أخرى يأتيه جبريل في صورة رجل مثل دحية أو غيره، فيكلمه بالوحي فيفهم ما يقوله له ويحفظه. وأخبرت عائشة رضي الله عنها أنها كانت ترى النبي صلى الله عليه وسلم عند نزول الوحي عليه في اليوم الشديد البرد فتنكشف عنه شدة الوحي وجبينه يسيل عرقًا من شدة ما يلقاه من الكرب والمعاناة.

  • شدة الوحي وصعوبته على النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • من الصفات التي كان ينزل بها الوحي على النبي -صلى الله عليه وسلم-, أن يكون صوت الملك بالوحي مشابهًا لصوت الجرس في قوته وهو أشد شيء وأصعبه عليه -صلى الله عليه وسلم-، كما كان جبريل يأتيه بالوحي في صورة رجلٍ أحيانًا.
  • أن السؤال عن الكيفية لطلب المعرفة أو الطمأنينة لا يقدح في اليقين.
  • جواز السؤال عن أحوال الأنبياء من الوحي وغيره.
  • أن أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كانوا يسألونه -صلى الله عليه وسلم- عن كثير من المعاني، وكان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يجيبهم، ويعلمهم، وكانت طائفة منهم تسأل، وطائفة تحفظ، وكلهم أدّى، وبلّغ ما علم، ولم يكتم حتى أكمل الله دينه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید