حدیث

دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اسے جہاں تک ہو سکے روکے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «التَّثَاؤُبُ في الصلاة من الشَّيطان؛ فإذا تَثَاءَبَ أحدكم فَليَكْظِم ما اسْتَطاع».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے“۔

تشریح

نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے بوجھل اور ڈھیلے پن اور اس کی فربہی و سستی اور نیند آنے کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ شیطان ہی تو ہوتا ہے جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ نفس کو اس کی شہوات دی جائیں اور خوب کھایا پیا جائے۔ چنانچہ نمازی کو جب جمائی آنے لگے یا پھر وہ جمائی لینا چاہے تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اسے ہٹائے اور روکے بایں طور کہ دانتوں اور ہونٹوں کو بھینچ کر اسے روکے تاکہ شیطان کی چاہت پوری نہ ہو سکے یعنی وہ اس کی صورت کو بگاڑ کر اور اس کے منہ میں داخل ہو کر اس پر ہنس نہ سکے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔

تشریح: العربية

التَّثَاؤُبُ في الصلاة من الشَّيطان؛ لأنه يكون مع ثِقل البَدن واسترخائه وامتلائه، ومَيله إلى الكَسَل والنوم، فالشيطان هو الدَّاعي إلى إعطاء النَّفْس شَهواتها، وتوسعها في المآكل والمَشارب، فإذا شَرع المصلي بالتثاؤب أو أراد أن يتثاءب؛ فإنه يَدفعه ويحبسه ما استطاع، وذلك بأن يَكْظِمه بإطباق أسنانه وشَفتيه ما استطاع؛ لئلا يَبلغ الشَّيطان مراده من تشويه صورته، ودخوله فَمه وضحكه منه، فإلم يستطع فإنه يضع يده.

  • أنه ينبغي للمُتثائب أن يرد تثاؤبه ما استطاع؛ وذلك بإطباق فَمِه وضَم شَفتيه.
  • أنه لا يُشرع عند التثاؤب الاستعاذة من الشَّيطان؛ لأنها لو كانت مشروعة لأرشد إليها النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • أن عَداوة الشيطان تكون في الأمر بالمعصية، وفي إيجاد الكَسل في الطَّاعة.
  • إثبات القُدرة ونَفيها على الإنسان؛ لقوله: (ما استطاع).
  • أن الله يريد من المسلم القوة والنشاط في العبادة، فالمؤمن القوي خير من المؤمن الضعيف؛ وهذا حتى يتباعد المؤمن عن صفات المنافقين، حيث إن الفتور والكسل من أهم سماتهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید