حدیث

اپنی نماز کو اچھی طرح نہ پڑھنے والے کی حديث جس کو رفاعہ رضی اللہ عنہ نے روايت کيا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن رفاعة بن رافع الزرقي رضي الله عنه ، وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: جاء رجل ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في المسجد، فصلى قريبا منه، ثم انْصَرَف إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَسَلَّمَ عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أعِد صَلَاتَك، فإنك لم تصل، قال: فرجع فصلى كَنَحْو مِمَّا صَلَّى، ثم انصرف إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له: " أَعِدْ صلاتك، فإنك لم تُصَلِّ ". فقال: يا رسول الله، عَلِّمْنِي كيف أَصْنَع، قال: "إذا اسْتَقْبَلت القبلة فَكَبِّر، ثُمَّ اقْرَأ بأمِّ القرآن، ثم اقرأ بما شِئْت، فإذا رَكَعْت، فَاجْعَل رَاحَتَيْكَ على رُكْبَتَيك، وامْدُد ظَهْرَك وَمَكِّنْ لِرُكُوعِك، فإذا رفعت رأسك فأَقِم صُلْبَكَ حتى ترجع العظام إلى مَفَاصِلَها، وإذا سَجَدتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِك، فإذا رَفَعْت رَأْسَك، فَاجْلِس على فَخِذِك اليسرى، ثم اصْنَع ذلك في كل ركعة وسجدة. وفي رواية: «إنها لا تَتِمُّ صلاة أَحَدِكُم حتى يُسْبِغَ الوُضُوء كما أمره الله عز وجل، فيغسل وجهه ويديه إلى المرفقين، ويمسح برأسه ورجليه إلى الكعبين، ثم يكبر الله عز وجل ويحمده، ثم يقرأ من القرآن ما أَذِن له فيه وتَيَسَّر، ثم يُكَبِّرَ فيَسْجُد فَيُمَكِّن وَجْهَه -وربما قال: جَبْهَتَه من الأرض- حتى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُه وَتَسْتَرْخِيَ، ثم يكبر فَيَسْتَوِي قاعدا على مَقْعَدَه ويقيم صُلْبَهُ، فوصف الصلاة هكذا أربع ركعات تَفْرَغ، لا تَتِمُّ صلاة أحدكم حتى يفعل ذلك. وفي رواية: «فتوضأ كما أمرك الله جل وعز، ثم تَشَهَّدْ، فأقم ثم كبر، فإن كان معك قرآن فاقرأ به، وإلا فاحمد الله وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ».

ترجمہ

رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ (جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا، نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور آپ سے سلام کیا، تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘۔ وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آگیا، نبی ﷺ نے اس سے پھر یہی فرمایا: ’’جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھا دیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم قبلہ کی طرف رخ کر لو تو اللہ اکبر کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھو، پھر تم جو (سورت) چاہو پڑھو۔ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی پیٹھ دراز کر لو اور رکوع کے لیے اسے خوب برابر (سیدھی) کرلو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو سیدھا کھڑا کر لو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر لوٹ آئیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بائیں ران پر بیٹھ جاؤ، پھر ہر رکوع اور سجدے میں اسی طرح کرو۔ ايک دوسری روايت میں ہے کہ: تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اسی طرح مکمل وضو نہ کرے جس طرح اللہ عز وجل نے اس کو کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ اس کے بعد اللہ عز و جل کی بڑائی بیان کرے اور اس کی حمد و ثناکرے۔ پھر قرآن مجید میں سے پڑھے جس کی اسے نماز میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو آسان ہے۔ پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو اپنا منہ اطمینان سے زمین پر رکھ دے۔(ہمام کہتے ہیں کہ) بسا اوقات راوی نے کہا: اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے، یہاں تک کہ اس کےجوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر تکبیر کہے اور اپنی سرین پر بالکل سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور پیٹھ کو سیدھا رکھے، پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا): ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے“۔ ايک دوسری روايت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'وضو کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے، پھر اذان دے اور اقامت کہہ، پھر تکبير تحریمہ کہہ، اور اگر قرآن مجید میں سے کچھ ياد ہو تو اسے پڑھ، نہیں تو پھر صرف اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل بیان کر یعنی الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھ۔

تشریح

يہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔ چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا. تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ): جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔ اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث معروف بحديث المسيء صلاته، وهو عمدة الشراح في بيان صفة الصلاة بأركانها وواجباتها وشروطها، حيث بيَّن النبي صلى الله عليه وسلم غاية التعليم والتبييِن لأعمال الصلاة، التي يجب الإتيان بها ويعتبر ما ترك في هذا الحديث من فعلها غير واجب. ومجمل هذا الحديث: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل المسجد، فدخل رجل من الصحابة، اسمه (خَلاّد بن رافع)، فصلى صلاة غير تامة الأفعال والأقوال. فلما فرغ من صلاته، جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فسلم عليه فرد عليه السلام ثم قال له: ارجع فَصَلِّ، فإنك لم تصل. فرجع وعمل في صلاته الثانية كما عمل في صلاته الأولى، ثم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال له: ارجع فَصَلِّ فإنك لم تصل ثلاث مرات. فأقسم الرجل بقوله: والذي بعثك بالحق، ما أحسن غير ما فعلت فعَلِّمني فعندما اشتاق إلى العلم، وتاقت نفسه إليه، وتهيأ لقبوله بعد طول الترديد قال له النبي صلى الله عليه وسلم ما معناه: إذا قمت إلى الصلاة فكبر تكبيرة الإحرام، ثم اقرأ ما تيسر من القرآن، بعد قراءة سورة الفاتحة ثم اركع حتى تطمئن راكعاً، ثم ارفع من الركوع حتى تعتدل قائما وتطمئن في اعتدالك ثم اسجد حتى تطمئن ساجداً، ثم ارفع من السجود واجلس حتى تطمئن جالساً. وافعل هذه الأفعال والأقوال في صلاتك كلها، ماعدا تكبيرة الإحرام، فإنها في الركعة الأولى دون غيرها من الركعات. وقد لفتت الروايات الأخرى إلى بعض شروط الصلاة كاستقبال القبلة وطهارة الوضوء.

  • هذا حديثٌ عظيمٌ جليلٌ يسميه العلماء "حديث المسيء في صلاته" .
  • أنَّ المعلِّم يبدأ في تعليمه بالأهم فالأهم، وتقديم الفروض على المستحبات.
  • أنَّ الاستفتاح، والتعوذ، والبسملة، ورفع اليدين، وجعلهما على الصدر، وهيئات الركوع، والسجود، والجلوس، وغير ذلك -كلها مستحبة.
  • أنَّ من أتى بعبادة على وجه غير صحيح جهلًا، ومضى زمنها، فإنَّه لا يطلب منه إعادتها؛ وهذا ما دلت عليه قواعد الإسلام.
  • النفي في قوله: "فإنَّك لم تصل" نفى أن يكون عملُه صلاةً، والعمل لا يكون منفيًا إلاَّ إذا انتفى شيء من واجباته.
  • أنَّ صلاة المسيء بالكيفية التي صلاها غير صحيحة، ولا مجزئة، ولولا ذلك لم يؤمر بإعادتها, وليكن في ذلك عبرة وعظة لمن ينقرون صلاتهم، ولا يتمونها, وليعلموا أنَّها صلاة غير مجزئة.
  • أنَّ هذه الأركان لا تسقط جهلًا ولا سهوًا، بدليل أمر المصلي بالإعادة، ولم يكتف -صلى الله عليه وسلم- بتعليمه، ولأنَّها من باب المأمورات التي لا يعذر تاركها بجهل ولا نسيان.
  • يستحب للمسؤول أن يزيد في الجواب إذا اقتضت المصلحة ذلك، كأن تكون قرينة الحال تدل على جهل السائل ببعض الأحكام التي يحتاجها.
  • مشروعية حسن التعليم، وطريقة الأمر بالمعروف؛ بأن يكون بطريقة سهلة ميسرة، حتى لا ينفره، فيرفض المتعلم إذا عُلِّم بطريق العنف والشدة والغلظة.
  • وجوب الترتيب بين الأركان؛ لأنَّه ورد بلفظ "ثم"، كما أنَّه مقام تعليم جاهل بالأحكام.
  • وجوب استقبال القبلة للصلاة، وأنَّ ذلك شرط.
  • وجوب الوضوء وإسباغه للصلاة، وأنَّ ذلك شرط.
  • وجوب الطمأنينة في الرفع من الركوع، والرفع من السجود .
  • الطمأنينة: هي الركن التاسع من أركان الصلاة.
  • يفعل هذه الأركان في كل ركعة من أركان الصلاة، عدا تكبيرة الإحرام، فهي في الركعة الأولى دون غيرها.
  • يدل الحديث على وجوب الأعمال المذكورة في هذا الحديث؛ بحيث لا تسقط سهوًا ولا جهلًا، وهي : (أ‌) تكبيرة الإحرام: وهي ركن من أركان الصلاة في الركعة الأولى فقط.(ب‌) قراءة الفاتحة في كل ركعة، ثم الركوع، والاعتدال منه، ثم السجود، والاعتدال منه، والطمأنينة في كل هذه الأفعال، حتى في الرفع.(ت‌) أما بقية الأركان -كالتشهد، والصلاة على النبي -صلى الله عليه وسلم-، والتسليم- فقال البغوي: إنَّها معلومة لدى السائل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید