حدیث

ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ کہنا کہ میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن محمد بن عمرو بن عطاء، قال: سمعت أبا حميد الساعدي، في عشرة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم أبو قتادة، قال أبو حميد: أنا أَعلمُكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قالوا: فَلِمَ؟ فوالله ما كنتَ بأكثرنا له تبعا ولا أقدمنا له صحبة، قال: بلى، قالوا: فاعْرِض، قال: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما مَنْكِبَيْهِ ، ثم يُكبِّر حتى يَقِرَّ كل عظم في موضعه معتدلا، ثم يقرأ، ثم يكبِّر فيرفع يديه حتى يُحاذي بهما مَنْكبيه، ثم يركع ويضع رَاحَتَيْهِ على رُكبتيه، ثم يعتدل فلا يَصُبُّ رأسه ولا يُقْنِعُ ، ثم يرفع رأسه، فيقول: سمع الله لمن حمده، ثم يرفع يديه حتى يُحاذي بهما منكبيه معتدلا، ثم يقول: الله أكبر ثم يهوي إلى الأرض فيُجافي يديه عن جنبيه، ثم يرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها، ويفتح أصابع رجليه إذا سجد، ويسجد ثم يقول: الله أكبر، ويرفع رأسه ويَثْني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم إلى موضعه، ثم يصنع في الأخرى مثل ذلك، ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة، ثم يصنع ذلك في بقية صلاته حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد مُتَوَرِّكًا على شقه الأيسر، قالوا: صدقت هكذا كان يصلي صلى الله عليه وسلم .

ترجمہ

محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے دس صحابۂ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول ﷺ کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں آئے تھے۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ تو ٹھیک ہے. (لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقۂ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجیے، ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل (برابر) اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے پھر ’للهُ أَكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے ، پھر الله أكبر کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے ،اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کوکھلا رکھتے اور سجدہ کرتے، پھر الله أكبر کہتے اور اپنا سراٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت الله أكبر کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا ،تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے تھے۔

تشریح

حدیث شریف نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ اور جو (نبی ﷺ کی طرح) نماز کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو (اس کے لیے) یہی کامل ترین صورت ہے۔ اس حدیث میں نماز کے جملہ اعمال یعنی ارکان، واجبات اور مستحبات تکبیر سے لے کر تسلیم تک کو بیان کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر خشوع وخضوع کے ساتھ بالکل سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے، پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر سیدھے ہو جاتے اور اپنےسر کو نہ اوپر کی طرف اٹھاتے اور نہ ہی جھکاتے بلکہ سیدھا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپناسر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو کھولے رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر تک لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت ”اللہ اکبر“ کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا۔ - اسی طرح روایت میں ہے اور شارحین نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد وہ جلسہ ہے جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، تو آپ ﷺ تورّک کرتے یعنی بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔

تشریح: العربية

يبين الحديث الشريف صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم وهي الأكمل لمن أراد الصلاة ، فذكر فيها جملة من أعمال الصلاة من الأركان والواجبات والمستحبات من التكبير حتى السلام، وهي كالتالي: أنه كان صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يرفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما مَنْكِبَيْهِ، ثم يكبر حتى يسكن كل عظم في موضعه من الخشوع معتدلا، ثم يقرأ، ثم يكبر فيرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ثم يركع ويضع رَاحَتَيْهِ على ركبتيه، ثم يعتدل فلا يرفع رأسه للأعلى ولا يُنزله بل يكون معتدلاً، ثم يرفع رأسه، فيقول: سمع الله لمن حمده، ثم يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه معتدلا، ثم يقول: الله أكبر، ثم يهوي إلى الأرض فيبعد يديه عن جنبيه، ثم يرفع رأسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها، ويفتح أصابع رجليه إذا سجد، ويسجد ثم يقول: الله أكبر، ويرفع رأسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم إلى موضعه، ثم يصنع في الركعة الثانية مثل ذلك، ثم إذا قام من الركعتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما كبر عند افتتاح الصلاة، ثم يصنع كذلك في بقية صلاته، حتى إذا كانت السجدة التي فيها التسليم -هكذا في الرواية، وبين الشراح بأنها الجلسة التي فيها التسليم- أخر رجله اليسرى وقعد مُتَوَرِّكًا على شقه الأيسر.

  • وجوب تكبيرة الإحرام بقول: "الله أكبر"، ولا تنعقد الصلاة بدونها.
  • استحباب رفع اليدين حذو المنكبين مع تكبيرة الإحرام.
  • استحباب تمكين يديه من ركبتيه أثناء الركوع، وتفريج أصابعه، وأحاديث وضع اليدين على الركبتين في الركوع بلغت حد التواتر.
  • استحباب هصر المصلي ظهره أثناء الركوع؛ ليستوي مع رأسه، فيكون الرأس بإزاء الظهر، فلا يرفعه ولا يخفضه.
  • ثم يرفع رأسه، ويديه حتى يحاذي بهما منكبيه، ويقول الإِمام والمنفرد: "سمع الله لمن حمده"، ويقول المأموم: "ربنا ولك الحمد"، ويبقى مستويًا مطمئنًا، راجعًا كل فقار من فقرات الظهر إلى مكانه.
  • ثم يسجد ويضع كفيه على الأرض، غير مفترش لذراعيه، موجهًا أصابع يديه إلى القبلة، غير قابض لهما.
  • يضع قدميه على الأرض، مستقبلًا بأطراف أصابعه القبلة.
  • إذا جلس في التشهد الأول فرش رجله اليسرى، وجلس عليها، ونصب اليمنى مستقبلاً بأصابعها القبلة.
  • إذا جلس في التَّشهد الأخير -للصلاة التي فيها تشهدان- جلس متورِّكًا، بأن يقدم رجله اليسرى ويخرجها من تحته، وينصب اليمنى، ويضع إليتيه على الأرض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید