حدیث

رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن مالك بن الحويرث رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا كَبَّر رفع يديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه، وإذا رفع رأسه من الركوع» فقال: «سَمع الله لِمَن حَمِده» فعل مِثل ذلك.

ترجمہ

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھاتے اور آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اُس وقت بھی دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابرتک اٹھاتے اور جب آپ ﷺ اپنا سرِمبارک رکوع سے اٹھاتے تو ”سَمع الله لِمَن حَمِده“ کہتے اور پھر آپ ایسا ہی کرتے (یعنی ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے)۔

تشریح

مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ ”نبی ﷺ جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے برابر کرلیتے“یعنی آپ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر آ جاتے۔ایک اور روایت میں ہے کہ ”یہاں تک کہ آپ ﷺ انہیں اپنے کانوں کی فروع (لَوْ) تک لے آتے“۔ کان کی فروع سے مراد اس کا بالائی حصہ ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ’’آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کندھوں کے سامنے لے آتے‘‘۔ یعنی کندھوں کے بالمقابل اور ان کے برابر کر لیتے۔ یہ تین روایات ہیں۔ اول: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے برابر تک لے جاتے۔ دوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کانوں کے بالائی حصے کے برابر لے آتے۔ سوم: آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آتے۔چنانچہ نمازی کو اختیار ہے کہ وہ ان تینوں میں سے جیسے چاہے کر لے۔ یا پھر وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں کے برابر لے آئے بایں طور کہ اس کی انگلیوں کی کنارے اس کے کانوں کے اوپری حصے کے برابر آ جائیں، اس کے دونوں انگوٹھے کانوں کے لو کے برابر اور اس کی ہتھیلیاں کندھوں کے سامنے ہو جائیں۔ ”إذا كَبَّر رفع يَديه“ یعنی تکبیر کہنے کے ساتھ ہی آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے ہاتھ اٹھاتے اور پھر تکبیر کہتے“ یعنی ہاتھ اٹھانے کے بعد تکبیر کہتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”آپ ﷺ پہلے تکبیر کہتے اور پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے“۔ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کی یہ تین صورتیں ہیں۔اس بنا پر معلوم ہوا کہ یہ سنت کئی انداز سے آئی ہوئی ہے۔ چنانچہ نمازی آپ ﷺ سے وارد سنت کی اتباع میں ان تمام طریقوں پر عمل کرے۔ ”وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه“ یعنی آپ ﷺ جب رکوع میں جاتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کانوں کے برابر کر لیتے۔ یہ وہ دوسرا مقام ہے جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ ”وإذا رفع رأسه من الرُّكوع فقال: سَمع الله لِمَن حَمِده“ یعنی جب رکوع سے اٹھتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ یہ ذکر نماز کے واجبات میں سے ہے۔ ”فعل مِثل ذلك“ یعنی آپ ﷺ ویسا ہی کرتے جیسا آپ ﷺ تکبیرِ تحریمہ کے وقت کرتے تھے یعنی ہاتھوں کو اٹھا کر انہیں کانوں کے برابر لے آتے۔ یہ وہ تیسرا مقام ہے جہاں نماز میں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔نماز میں یہ کل تین مقامات ہیں جہاں رفع الیدین کرنا مستحب ہے۔ چوتھا مقام تین یا چار رکعت والی نماز میں پہلی تشہد سے اٹھنے پر رفع الیدین کرنا ہے۔

تشریح: العربية

يخبر مالك بن الحُوَيْرِث رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم : "كان إذا كَبَّر رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه" يعني: إذا كَبَّر تكبيرة الإحرام رفع يَدَيه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنيه، وفي رواية: "حتى يُحَاذِيَ بهما فُروع أُذُنَيه". وفروع الأُذن: أعَالِيها. وفي حديث ابن عمر رضي الله عنه : "كان يرفع يَديه حتى يُحاذي بهما منْكَبيه" أي مقابل ومساويًا لمنْكَبَيه. فهذه ثلاث روايات: الأولى: يرفع يديه حتى يُحاذي بهما أُذُنَيه. الثانية: يرفع يديه حتى يُحاذي بهما فُروع أُذُنَيه. الثالثة : يرفع يديه حتى يُحاذي بهما منْكَبَيه. فهو مخير بين ذلك أو يرفع يديه حَذو منْكَبيه بحيث تُحاذي أطراف أصابِعه فُروع أُذُنَيْهِ أي أعلى أُذُنَيْهِ وإبهاماه شَحْمَتَي أُذُنَيْهِ وراحتاه منْكَبيه. وقوله: "إذا كَبَّر رفع يَديه" أي: يرفع يَديه مع التَّكبير، وفي رواية عند مسلم: "يرفع يَديه ثُم يكبِّر" أي بعده، وفي أخرى: " كَبَّر ثم رفع يَديه " فهذه ثلاث صور لرفع اليدين عند تكبيرة الأحرام. فعلى هذا: تكون هذه السُّنة قد ورَدت على وجوه متنوعة، فيعمل بجميعها اتباعا للسُّنة في كل ما وَرد عنه صلى الله عليه وسلم . "وإذا ركَع رفع يَديه حتى يُحَاذِيَ بهما أُذُنَيْه"يعني: إذا شَرع في الرُّكوع رفع يَديه حتى يُحَاذي بهما أُذُنيه، وهذا هو الموضع الثاني مما يُستحب فيه رفع اليَدين. "وإذا رفع رأسه من الرُّكوع" فقال: "سَمع الله لِمَن حَمِده" يعني: إذا شَرع في الرَّفع من الركوع قال: "سَمِع الله لمن حَمِده" وهذا الذِّكر من واجبات الصلاة. "فعل مِثل ذلك" أي: فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلما فعل عند التَّكبير: رفع يديه حتى حَاذَى بهما أُذُنيه، وهذا هو الموضع الثالث مما يُستحب فيه رفع اليدين في الصلاة. فهذه ثلاث مواضع يستحب فيها رفع اليدين في الصلاة، والرابع هو رفع اليدين عند القيام من التشهد الأول في الصلاة الثلاثية أو الرباعية.

  • فيه دليل على مشروعية تكبيرة الإحرام عند الدخول في الصلاة.
  • استحباب رفع اليَدين حتى تُحاذي المِنْكَبين، عند افتتاح الصلاة بتكبيرة الإحرام، وكذلك عند تَكبيرة الركوع، وعند رفع رأسه من الرُّكوع.
  • فيه إشْعَار بأن رفع اليَدين عند الدخول في الصلاة مُصاحب للتَّكبِير.
  • فيه التَّسميع عند الرَّفع من الرُّكوع، وهو من واجبات الصلاة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید