حدیث

نبی کریم ﷺ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

یہ حدیث اپنی تمام روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر كانوا يفتتحون الصلاة بـ﴿الحمد لله رب العالمين﴾. زاد مسلم: لا يذكرون: ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾ في أول قراءة ولا في آخرها. وفي رواية لأحمد والنسائي وابن خزيمة: لا يجهرون بـ﴿بسم الله الرحمن الرحيم﴾. وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يُسرُّون.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔ امام مسلم نے اس کی زیادتی کی ہے کہ وہ نہ تو قراءت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ذکر کرتے نہ ہی اس کے آخر میں۔ اور احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً نہیں پڑھتے۔ ابن خزیمہ کی ایک دیگر روایت میں ہے کہ وہ سرّاً پڑھتے تھے۔

تشریح

اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صاحبین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہری طور پر نہیں پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی تاکید ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔ ابن خزیمہ کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ سراً پڑھا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بلوغ المرام میں کہتے ہیں: صحیح مسلم کی روایت کی نفی کو اسی معنی پر محمول کیا جائےگیا (یعنی بسم اللہ کو ذکر نہیں کیا کرتے تھے کا مطلب ہے جہراً بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے) بخلاف ان کے جو اس روایت کو معلول کہتے ہیں۔ مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا کہنا ہے کہ: صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں کا حصہ نہیں بلکہ یہ سورۂ نمل کی مستقل آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ اور اس کا سوائے سورہ براءت کے علاوه ہر سورت کے شروع میں پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی مسنون ہے کہ نماز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کو سورۂ فاتحہ سے پہلے سری طور پر پڑھا جائے گا۔

تشریح: العربية

يبين الحديث الشريف أن النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبيه رضي الله عنهما لم يكونا يقرؤون البسملة جهرًا في أول الفاتحة حال الصلاة، وهذا يؤكد أن البسملة ليست من الفاتحة، وفي أخرى لابن خزيمة: كانوا يُسرُّون. قال الحافظ في البلوغ: (وعلى هذا يحمل النفي في رواية مسلم خلافا لمن أعلها). قالت اللجنة الدائمة للإفتاء: والصحيح أن البسملة ليست من الفاتحة ولا غيرها، بل هي آية مستقلة من القرآن، وبضع آية في سورة النمل في قوله تعالى: {إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، ويستحب أن تقرأ في بداية كل سورة، ماعدا براءة، والسنة أن تقرأ قبل الفاتحة في الصلاة سراً.

  • صفة قراءة النبي -صلى الله عليه وسلم- وخلفائه الراشدين، أنَّهم كانوا يستفتحون قراءة الصلاة بـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}.
  • زيادة الإِمام مسلم أكدت أنَّهم لا يذكرون "البسملة"؛ لا في أول القراءة، ولا في آخرها.
  • أنَّ البسملة ليست من الفاتحة، فلا تتعيَّن قراءتها معها، وإنَّما تستحب كإحدى فواصل السور.
  • بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: تشتمل على اسم الجلالة العظيم، وصفات الرحمة والخير والبركة، فهي ألفاظٌ جليلةٌ يستحب الإتيان بها في أول كل عمل ذي بال: من أكلٍ وشربٍ، وجماعٍ، وغُسلٍ، ووضوءٍ، ودخولِ مسجدٍ، ومنزلٍ، وحمَّامٍ، فهي إما أن تَحْمِلَ بركة وخيرًا، وإما أن تدفع شرًّا وأذى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید