حدیث

میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «ما صليت وراء أحد أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان - فصلينا وراء ذلك الإنسان وكان يطيل الأوليين من الظهر، ويخفف في الأخريين، ويخفف في العصر، ويقرأ في المغرب بقصار المفصل، ويقرأ في العشاء بالشمس وضحاها وأشباهها، ويقرأ في الصبح بسورتين طويلتين».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی“، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، عصر بھی ہلکی کرتے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے جب کہ عشاء میں وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی کے اٗئمہ میں سے ایک امام کی نماز رسول کریم ﷺ کی نماز سے بہت مشابہت رکھتی تھی، اس لیے کہ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبی کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں کو ہلکی کرتے اور عصر کی نماز اس کی مانند پڑھتے، مغرب کی نماز میں قصار مفصل اور عشا کی نماز میں ”وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ“ اور اس جیسی دیگر سورتیں پڑھتے جب کہ فجر کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

تشریح: العربية

يبين الحديث أن أحد أئمة المسجد النبوي كان شبيه الصلاة بصلاة النبي صلى الله عليه وسلم وكان يقتدي به في التطويل في الركعتين الأوليين من الظهر والتخفيف في الأخريين وفي العصر أيضاً، والقراءة في المغرب بقصار المفصل وفي العشاء بالليل إذا يغشى ومثيلاتها، والتطويل في صلاة الصبح.

  • مشروعية هذه الصفة، من التطويل فيما يطول، والتخفيف فيما يخفف، وفي تجزئة القرآن، والصلاة بهذه التجزئة.
  • الحكمة في التطويل في صلاة الصبح: أنَّ ملائكة الليل وملائكة النهار يحضرونها؛ كما قال تعالى: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (78)} [الإسراء]، ولأنَّه يقع في وقت غفلة بالنوم، فاحتاج إلى التطويل؛ ليدرك الناس الصلاة، وأما تقصير المغرب فلقصر وقتها، وبقي الظهر والعصر والعشاء على الأصل، في أنَّ الصلاة تكون وسطًا، فلا تخفف عن مستحبات الصلاة، ولا تثقل على العاجزين.
  • ينبغي للإمام أن يتحرى الاقتداء بالنبي -صلّى الله عليه وسلّم- ويصلي مثل صلاته التي كان يصليها بأصحابه، وقد قال -صلّى الله عليه وسلّم-: «صلوا كما رأيتموني أصلي»، وعلى الإمام أن يراعي حال من خلفه ممن يحتاج إلى التخفيف من كبير السن أو ضعيف القوة أو صاحب الحاجة، والله تعالى أعلم.
  • هدي النبي -صلى الله عليه وسلم- عدم الاقتصار على قصار المفصل في صلاة المغرب، فالمداومة عليه خلاف السنة، والحق أنَّ القراءة في المغرب تكون بطوال المفصل وقصاره، وسائر السور، قال ابن عبد البر: روي أنه قرأ بالأعراف، والصافات، والدخان، والطور، وسبح، والتين، والمرسلات، وكان يقرأ فيها بقصار المفصل، وكلها آثار صحاح مشهورة.
  • المفصل على الراجح يبتدىء من سورة الحجرات، وينتهي بآخر القرآن، فطوال المفصل من الحجرات إلى سورة النبأ، ووسطه من النبأ إلى الضحى، والقصار من الضحى إلى آخر القرآن، وسمي مفصلاً؛ لكثرة فواصله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید