حدیث

رسول اللہ ﷺ کی نماز آپ کا رکوع کرنا، رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا، نیز دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن الحكم قال: غَلَب على الكُوفة رجُل -قد سَمَّاه- زَمَنَ ابن الأشْعَث، فأمر أبَا عُبيدة بن عبد الله أن يصلِّي بالناس، فكان يصلِّي، فإذا رَفع رأسه من الرُّكوع قام قَدْر ما أقُول: اللَّهُم ربَّنا لك الحَمد، مِلْءَ السَّماوات ومِلْءَ الأرض، ومِلْءَ ما شِئت من شَيء بعد، أهْل الثَّناء والمَجد، لا مانع لما أعْطَيت، ولا مُعْطِي لما مَنعت، ولا يَنفع ذَا الجَدِّ مِنْك الجَدِّ. قال الحَكم: فَذَكَرت ذلك لعَبد الرَّحمن بن أبي ليلى فقال: سمعت البَرَاء بن عَازب يقول: «كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم وركُوعه، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وسُجوده، وما بَيْن السَّجدتين، قريبًا من السَّوَاء» قال شُعبة: فذَكَرْتُه لِعَمرو بن مُرَّة فقال: قد رأيت ابن أبي ليلى، فلم تَكن صلاته هكذا.

ترجمہ

حکم سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ“ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے، بھر جائے۔ تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“۔شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرّہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔

تشریح

حدیث کا مطلب یہ ہے: ”ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ یہ شخص مطر بن ناجیہ تھا جیسا کہ دوسری روایت میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ اور ابو عبیدہ یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ ”وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ اتنی مقدار قومے میں ٹھہرنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ ”مِلْء السماوات“ کا اضافہ مستحب ہے اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ جب امام ”سَمِع الله لمن حَمِدَه“ کہے تو تم لوگ ”ربَّنا لك الحمد“ کہو۔ ”اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد“ کا معنی دعا اور اعتراف ہے۔ یعنی اے اللہ ہماری دعا قبول فرما اور تیری ہدایت اور توفیق پر تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ ”مِلْءُ السَّماوات ومِلْءُ الأرض“ اس سے مراد مقدار اور تعدار کی کثرت اور عظمت بیان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب تو اتنی تعریف کا مستحق ہے کہ اگر تعریف کا جسم ہوتا تو زمین و آسمان اس سے بھر جاتا۔ ”ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد“ یعنی تیری وسیع بادشاہت میں سے جو ہم نہیں جانتے۔ ”أهْل الثَّناء والمَجد“ یعنی اے ہمارے رب تو ثناء کا مستحق ہے۔ ’ثناء‘ تعریف کو کہتے ہیں اور ’مجد‘ عظمت، سلطنت اور انتہائی شرافت کو کہتے ہیں۔ جو ذات تعریف اور مطلق تعظیم کے لائق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ”لا مانع لما أعْطَيت“ یعنی تو جس چیز کو دینا چاہے وہ کوئی روک نہیں سکتا۔ ”ولا مُعْطِي لما مَنعت“ جسے تو اپنی حکمت اور انصاف سے محروم کرنا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ ”ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ“ الجّدُّ: بمعنیٰ سخاوت یعنی مالدار کی مالداری تیرے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتی اور نہ ہی اسے عذاب سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی ثواب کا فائدہ دے سکتی ہے۔ صرف اللہ کا ارادہ اور مشیت ہی نفع دے سکتی ہے بس۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“ یعنی آپ ﷺ کی نماز کے ارکان کی مقدار قریب قریب تھی، تھوڑا بہت فرق ہوتا تھا۔ جب قیام طویل ہوتا تو رکوع بھی اتنا ہی طویل ہوتا، اسی طرح بقیہ ارکان ہوتے۔ اور جب قیام ہلکا ہوتا تو رکوع بھی اسی سے ملتا جلتا ہلکا ہوتا، اسی طرح باقی ارکان میں بھی ہوتا۔ اس حدیث کو بعض حالتوں پر محمول کیا جائے گا ورنہ تو آپ ﷺ کبھی کبھی نماز کو طویل بھی کرتے تھے۔ اسی لیے یہ حدیث بعض اوقات پر محمول کی جائے گی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نماز کے ارکان مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ آپ کا رکوع، رکوع سے اٹھنا، سجود اور سجود کے درمیان بیٹھنا (سب تقریباً یکساں ہوتے)۔ تاہم بعض اوقات قراءت کی وجہ سے قیام لمبا کر دیتے تھے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: "غَلَب على الكُوفة رجُل -قد سَمَّاه- زَمَنَ ابن الأشْعَث فأمر أبَا عُبيدة بن عبد الله أن يصلِّي بالناس". وهذا الرُّجل هو مَطر بن ناجِية كما سَمَّاه في الرواية الثانية وأبو عُبيدة هو بن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه . " فكان يصلِّي، فإذا رَفع رأسه من الرُّكوع قام قَدْر ما أقُول: اللَّهُم ربَّنا لك الحَمد "وهذا القَدْر واجب من واجبات الصلاة، أما الزيادة عليه: " مِلْء السماوات.."، فمُستحبة؛ لقوله صلى الله عليه وسلم : (إذا قال الإمام سَمِع الله لمن حَمِدَه فقولوا ربَّنا لك الحمد). ومعنى : "اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد" الدعاء والاعتراف، أي: ربَّنا استجِب لنَا، ولك الحَمد على هدايتك وتوفيقك لنا. "مِلْءَ السَّماوات ومِلْءَ الأرض" يُراد بذلك تعظيم قدرها، وكثرة عَددها، والمعنى: أنَّك يا ربَّنا مستحقٌّ لهذا الحَمد، الذي لو كان أجسامًا، لملأ ذلك كله. "ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد" أي مما لا نعلمه من مَلَكُوتك الواسع. "أهْل الثَّناء والمَجد" أي: أنك يا ربَّنا مستحق للثَّناء، والثَّناء: المَدْح، والمَجد: هو العَظمة والسُّلطان ونهاية الشَّرف، فالذي يستحق المَدْح والتَّعظيم المُطلق هو الله عز وجل . "لا مانع لما أعْطَيت" أي: لا مانع لما أردت إعطاءه. "ولا مُعْطِي لما مَنعت" أي: لا مُعطي من أرَدت حَرمانه من العَطاء بِحكمتك وعَدْلِك. "ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ" الجّدُّ: الغِنَى والحَظ؛ أي: لا يَنفع صاحب الغِنى عندك غِناه وحَظه، فلا يُعيذه من العَذاب، ولا يُفيده شيئًا من الثَّواب، وإنَّما النَّافع ما تعلَّقت به إرادتك فحسب. "قال الحَكم: فذكرت ذلك لعَبد الرحمن بن أبي ليلى فقال: سمعت البَراء بن عَازب يقول: «كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم وركُوعه، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وسجوده، وما بَيْن السَّجدتين، قريبا من السَّوَاء". والمعنى: أن صلاته صلى الله عليه وسلم كانت مُتقاربة في مقدار أركانها وإن كان بينها فَرق يسير، فإذا أطال القيام أطال الرُّكوع بحيث يكون قريبا من قيامه وهكذا بقية الأركان، وإذا خَفَّف القيام، خَفَّف الرُّكوع بحيث يكون قريبا من قيامه وهكذا بقية الأركان. وهذا الحديث محمول على بعض الأحوال، وإلا فقد كان يطول -عليه الصلاة والسلام- أحيانا، وعلى هذا: يكون هذا الحديث جَرى في بعض الأوقات. وحاصله: أن صلاة النبي صلى الله عليه وسلم كانت متقاربة في مِقدارها، فكان ركوعه ورفعه من الرُّكوع وسجوده وجلوسه بين السَّجدتين قريبا من الاستواء في المِقدار، وإنما كان يُطيل القيام للقراءة في بعض الأوقات.

  • مشروعية هذا الذِّكر بعد الرَّفع من الرُّكوع والتَّسميع، والواجب منه: "ربَّنا ولك الحمد"، وكلما زَاد منه فهو أفضل حتى نهايته، وهو مشروع للإمام والمأموم والمُنفرد، في الفَرض والنَّفل.
  • أن الحَمْد المُطلق لا يستحقه إلا الله -عز وجل-، وأن حَمْد الناس على ما يفعلونه من خير حَمد مقبول لكن ليس على سبيل الإطلاق.
  • فيه كمال التَّفويض إلى الله تعالى، والاعتراف بِكمال قُدرته وعَظمته، وقَهره وسُلطانه، وانْفِراده بالوحَدَانية، وتَدبير مَخلوقاته.
  • أن السماوات سَبع سماوات والأرضين سبع أرضين، كما جاء صريحا في الكتاب والسُّنة.
  • إثبات المَشِيئة لله -تعالى-.
  • أن الله -تعالى- أهلٌ لأن يُثنى عليه بكمال الصفات؛ لقوله -تعالى-: (أهلُ الثناء).
  • أن الله -تعالى- أهل للمَجد وهو: العَظَمة والسُّلطان.
  • تمام قُدْرَة الله -عز وجل- وأنه لا أحَد يمنع ما أراد الله إعطاءه، ولا يُعطي ما أراد الله مَنعه، وهذا دليل على كمال قُدْرَته -تعالى-.
  • أن أهل الحَظِّ والغِنَى والكمال والسُّلطان لا ينفعهم ما هم عليه، وإنما ينفعهم عملهم الصالح.
  • أن الرَّفع من الرُّكوع من الأركان الطَّويلة التي أخَلَّ بها كثير من الناس؛ لأن قوله -صلى الله عليه وسلم- في الحديث: "ربنا ولك الحَمد ..." فيه طُول أكثر من ثلاث تسبيحات.
  • أن صلاة النبي -صلى الله عليه وسلم- كانت مُتقاربة في الرُّكوع والاعتدال منه والسُّجود والجلوس بين السَّجدتين، فلا يُطيل رُكنا مع الإخلال بالرُّكن الآخر.
  • أن رُكن القيام للقراءة، أطول من غيره من الأركان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید