حدیث

مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن ابنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ: عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ، وَالْيَدَيْنِ، وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ، وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ».

ترجمہ

ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر۔ اور اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم اپنے کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے آپ کو نماز پڑھتے وقت سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ سات اعضا اس طرح ہیں: 1- پیشانی، جو ناک اور دونوں آنکھوں کے اوپر واقع ہے۔ آپ نے چہرے کا نام لیتے وقت ہاتھ سے ناک کی جانب اشارہ کرکے بتایا کہ ناک اور چہرے ایک ہی عضو ہیں اور اس پر زور دیا کہ سجدہ کرنے والے کو اپنی ناک بھی زمین سے سٹانا چاہیے۔ 2- 3- دونوں ہاتھ۔ 4- 5- دونوں گھٹنے۔ 6- 7- دونوں قدموں کی انگلیاں۔ ساتھ میں ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم سجدے کے وقت اپنے بالوں اور کپڑوں کی حفاظت کے لیے ان کو نہ سمیٹیں۔ بلکہ ان کو زمین پر گرنے دیں، تاکہ جسم کے اعضا کے ساتھ ان کا بھی سجدہ ہو جائے۔

فوائد

  • نماز میں سات اعضا پر سجدہ کرنا واجب ہے۔
  • نماز میں کپڑا اور بال سمیٹنے کی ممانعت۔
  • نماز اطمینان کے ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ سجدے میں اطمینان کی صورت یہ ہوگی کہ سجدے کے ساتوں اعضا کو زمین پر رکھ دیا جائے اور اطمنان کے ساتھ اس میں جو ذکر پڑھنا ہوتا ہے، اسے پڑھا جائے۔
  • بالوں کو سمیٹنے کی ممانعت مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ عورتیں اس کے دائرے میں نہیں آتیں۔ کیوں کہ عورت کو پردے کا خیال رکھنے کا حکم ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنَّ اللهَ أَمَرَه عند الصلاة أنْ يَسجُدَ على سبعةٍ من أعضاء الجسم؛ وهي: أولاً: الجبهة: وهي: صفحة الوجه فوق الأنف والعينين، وأشار صلى الله عليه وسلم بيده إلى أنفِه، مُبَيِّنًا أن الجَبْهةَ والأنف عضو واحد من السبعة، وتأكيدًا على أنَّ الساجِد يُلامِسُ بأنفِه الأرضَ. العضو الثاني والثالث: اليدان. الرابع والخامس: الرُّكْبتان. السادس والسابع: أصابع القدمين. وأَمَرَنا أنْ لا نَربِطَ شعورنًا، أو نَجمعَ ثيابَنا بعضَها على بعض عند السجود على الأرض صيانةً لها؛ بل نُرسِلُها حتى تقع على الأرض، فتسجد مع الأعضاء.

  • وجوب السُّجود في الصلاة على الأعَضاء السَّبعة.
  • كراهية جَمْعِ وضَمِّ الثَّوب والشَّعَر في الصلاة.
  • يجب على المصلي أن يطمئن في صلاته، وذلك بأنْ يضع أعضاء السجود السبعة على الأرض، ويستقر عليها حتى يأتي بالذكر المشروع.
  • النهيُ عن كَفِّ الشَّعَرِ خاصٌّ بالرجال دون النساء؛ لأن المرأة في الصلاة مأمورة بالتستر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید