حدیث

رسول اللہ ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہو‎ۓ دیکھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلِّي متربِّعًا.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا۔

تشریح

تربُّع یہ ہے کہ نمازی اپنے دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو بائیں ران تلے اور بائیں قدم کے نچلے حصے کو دائیں ران تلے رکھ کر سرین کے بل بیٹھ جائے۔ نبی ﷺ ایسے اس وقت بیٹھا کرتے تھے جب گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاؤں کا جوڑ نکل گیا تھا۔ جب نمازی فرض نماز میں قیام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ چار زانوں بیٹھ کر نماز پڑھے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ قیام کی جگہ بیٹھے۔ لیکن اگر یہ بیٹھنا دونوں سجدوں کے درمیان ہو یا قعدۂ تشہد کے لیے ہو، تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ پہلے تشہد میں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دوسرے تشہد میں تورک کرے۔ ان تمام صورتوں کا تعلق استحباب اور افضیلت سے ہے۔ اگر نمازی سابق الذکر حالتوں کے علاوہ کسی اور حالت میں بیٹھ گیا تو تب بھی درست ہے۔ کیوںکہ نماز میں مطلوب تشہد کے لیے بیٹھنا ہے اوربیٹھنے کی یہ تمام صورتیں واجب سے زائد چیزیں ہیں۔

تشریح: العربية

التربُّع: أن يجعل باطِن قَدَمه اليُمنى تحت الفَخِذ اليُسرى، وباطِن اليُسرى تحت الفَخِذ اليُمنى، ويجلس على مقعدته، وقد فعل النبي صلى الله عليه وسلم هذا لما سَقط من فرسِه، وانفكت قدمه. فإذا عجز المصلِّي في صلاة الفريضة عن القيام صلى جالسا مُتَرَبِّعا استحبابا، وهذا في حال قعوده المُقابل للقيام، أما في حال جلوسه بين السجدتين وقعوده في التشهدين، فيستحب أن يجلس مفترشا في التشهد الأول ومُتَوَرِّكَا في التشهد الثاني. وكل هذه الصفات من باب الاستحباب والأفضلية، فلو خالف وجلس على غير الهيئات المتقدمة أجزأه؛ لأن المطلوب هو: الجلوس للتشهد وهذه الهيئات قَدْر زائد على الواجب.

  • 1- استحباب جلوس العَاجز عن القيام مُتربِّعا.
  • 2- يُسْر وسهولة الشَّريعة الإسلامية، فإن من عَجَز عن القيام صلَّى جالسا ولا يُكلف الله نفسا إلا وسعها .
  • 3- أن النبي -صلى الله عليه وسلم- بَشَر يُصيبه ما يُصيب البَشر من الإعْيَاء والعَجز والمرض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید