ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي مالك الأشجعي سعد بن طارق رضي الله عنه قال: قلت لأبي: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي هاهنا بالكوفة، نحوًا من خمس سنين، «فكانوا يَقْنُتُونَ في الفجر؟» فقال: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ.
ترجمہ
ابو مالک اشجعی سعد بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ابا جان سے پوچھا کہ اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر ، عمر ، عثمان اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے تقریباً پانچ سال تک نماز پڑھی ہے۔ کیا وہ لوگ فجر کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میرے بیٹے! یہ (دین میں) ایک نئی ایجاد کردہ بات ہے۔
تشریح
حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ نمازِ فجر میں کسی خاص ناگہانی مصیبت کے بغیر دعائے قنوت پڑھنا بدعت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وتر کےعلاوہ آپ ﷺ کسی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے سوائے اس کے کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آ جائے۔ اس صورت میں تمام نمازی ساری نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے بطورِ خاص فجر اور مغرب کی نماز میں، جو بھی صورت اس مصیبت کے مناسب ہوتی تھی۔ جو شخص سنت میں غور و فکر کرے گا اسے قطعی طور پر معلوم ہوجائے گا کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں دائمی طور پر دعائے قنوت نہیں پڑھی۔
تشریح: العربية
يبين الحديث الشريف أن القنوت في صلاة الفجر إن لم يكن بسبب نازلة معينة فهو بدعة محدثة. قال شيخ الإسلام: لا يقنت في غير الوتر، الاَّ أن تنزل بالمسلمين نازلة، فيقنت كل مصلٍّ في جميع الصلوات، لكنه في الفجر والمغرب آكد بما يناسب تلك النازلة، ومن تدبر السنة، علم علمًا قطعيًّا أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لم يقنت دائمًا في شيء من الصلوات.
- الحديث فيه دليل على أن الاستمرار في القنوت في صلاة الفجر محدث وليس بمشروع، وإنما يفعل ذلك عند الحاجة في بعض الأحيان؛ لأن أباه قد صلّى خلف النبي -صلّى الله عليه وسلّم- وهو ابن عشر سنين، وصلّى وراء الخلفاء الراشدين -رضي الله عنهم- ولم يسمع أحداً منهم يقنت في الفجر بغير سبب، ولو كان سنة راتبة لكانت الهمم والدواعي متوفرة على نقله، ولم يتركه الصحابة -رضي الله عنهم-، ولا سيما الخلفاء الراشدون الذين يؤمون الناس، فمثل ذلك لا يخفى.
- استحباب القنوت في الفرائض إذا نزل بالمسلمين نازلة.
- المتتبع للسنة يجد أن أكثر الأحاديث تدل على أنه صلّى الله عليه وسلّم كان يقنت عند الحاجة، والنازلة في صلاة الفجر.