حدیث

جب(نماز میں )بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا انگوٹھا اپنی د رمیانی انگلی پررکھتےاور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لےلیتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن الزُّبير رضي الله عنهما قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قَعد يَدْعُو، وضع يَده اليُمْنَى على فخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى، وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة، ووضَع إبْهَامَه على إِصْبَعِهِ الوُسْطَى، ويُلْقِم كَفَّه الْيُسْرَى رُكْبَتَه».

ترجمہ

عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺجب (تشہد میں) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے نیز اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتےاور بائیں گھُٹنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لے لیتے (پکڑلیتے)۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ جب بیٹھتے تو دعا کرتے“ یعنی جب تشہد کے لیے بیٹھتے۔ اس کی تائید عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے۔ (مسلم) تشہد میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“ اوراس کا نام دعا اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ دعا پر مشتمل ہے جیسا کہ آپ کے فرمان میں ہے ”السَلام عليك“، ”والسَلام علينا“ ہے جو کہ دعا ہے۔ اور”اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اوربایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے“ یعنی جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر پھیلا لیتے اوراسی طرح بایاں بائیں ران پر۔ ۔ہاتھ کو گھٹنے کے قریب یا گھٹنے پر یا ران پر رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ فضول حرکتوں سے بچا جاسکے۔ ہاتھ کو ران پر رکھنا یہ گھٹنوں پر رکھنے کے متضاد نہیں کیوں کہ جب ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا تو انگلیوں کو گھٹنوں کے ساتھ ملایا جائے گا۔ سنن نسائی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے اوراپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھتے، اور یہ کہنا کہ اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھتے۔ جب نمازی اپنی کہنی کے کنارے کو اپنی ران پر رکھے گا تو لا محالہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچیں گے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انگلیوں کو گھٹنوں پر یا گھٹنوں کے قریب رکھنے میں استحباب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا عطف انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے پر ہے“۔ یہی اس قول ”اپنے بائیں گھٹنے کو اپنی ہتھیلی میں لے لیتے“ کا معنی بھی ہے۔ ”اپنے ہاتھ کو رکھتے“ میں، ہاتھ سے مراد انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں تک کا حصہ ہے۔ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ حالت چاہے پہلے تشہد میں ہو یادوسرے میں ہو دونوں ایک طرح ہیں۔ ”اور اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا“ ’سبابہ‘ سے مراد وہ انگلی ہے، جو انگوٹھے کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ اس کو سبابہ اس لیے کہا گیا ہے کہ گالی گلوچ کرتے وقت اس کے ذریعہ اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس کا نام ’مُسَبِّحَہ‘ بھی ہے کیوں کہ اس کے ساتھ اللہ کی توحید اور اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور یہ تسبیح ہے۔ سبابہ انگلی سے حالت تشہد میں اشارہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اور مسنون یہی ہے کہ جب تشہد کے لیے بیٹھا جائے اس وقت سے لے کر تشہد سے فارغ ہونے تک اشارہ کیا جائے۔کیوں کہ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تو دعا کرتے، دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بےشک رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور ترپن (53) کی گرہ لگاتے اور سبّابہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ اسی طرح وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ پھر بیٹھتے، اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر بچھا لیتے، مٹھی بند کرلیتے اور حلقہ بنا لیتے۔ میں نے دیکھا کہ اس طرح سے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنا لیتے اور سبابہ سے اشارہ کرتے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہ کام آپ ﷺ اپنے تشہد میں بیٹھنے کی ابتدا سے کرتے جیساکہ بعض دیگر روایات میں آتا ہے۔ ابن باز رحمہ اللہ اور مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ ”اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے“ کا مطلب ہے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ ”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ یعنی اپنی سبّابہ انگلی کےساتھ اشارہ کرتے۔ اس کو ہر حالت میں شروع سے ہی کھڑی کر لیتے تھے اور اس اشارہ میں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے اقوال و افعال اور اعتقاد ہر ایک میں اس کی توحید کی طرف اشارہ ہے۔ مسند امام احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ حدیث ثابت ہے کہ یہ شیطان کو لوہے سے بھی زیادہ سخت لگتی ہے۔ ”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ میں حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے جب کہ اشارہ بغیر حرکت کے نہیں ہوتا۔ ”اپنے گھٹنے کو بائیں ہتھیلی کے نیچے لیے لیتے“ کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں داخل کر کے اس کو مضبوطی سے تھام لیتے بایں طور کہ گھٹنا ہاتھ کا لقمہ بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ ،گھٹنے کو پکڑے بغیر، اس پر بچھا لیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر بچھا لیتے۔ اس بنا پر ہاتھوں کو تشہد کی حالت میں گھٹنوں پر رکھنے کے حوالے سے مسنون عمل دو طرح سے ثابت ہے۔ اس لیے (ان دونوں صورتوں) میں سے جس کو بھی اختیار کیا جائے گا سنت پر عمل ہوجائے گا۔جب کہ اولیٰ اور افضل یہی ہے کہ کبھی ایک طرح سے کر لیا جائے اور کبھی دوسری طرح کر لیا جائے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت شدہ تمام طریقوں پر عمل ہو جائے گا۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قَعد يَدْعُو" يعني: جلس للتَّشهد، يؤيده حديث ابن عمر رضي الله عنهما : (كان إذا قَعَد للتَّشهد، وضع يَده اليُسْرَى على رُكْبتَهِ اليُسْرَى..)، رواه مسلم. والتَّشهد هو قراءة: "التَّحيات لله والصلوات والطَّيبات، السَّلام عليك أيها النَّبي ورحمة الله وبركاته، السَّلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.."، وسُمي دُعاء لاشتماله على الدعاء؛ فإن قوله: "السَلام عليك"، "والسَلام علينا" دعاء. قوله: "وضع يَده اليُمْنَى على فَخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى"، أي: أنه إذا جلس للتَّشهد بَسط يَده اليُمنى على فَخِده اليُمنى واليُسرى كذلك؛ والحكمة في وضعها عند الرُكبة أو على الرُّكبة أو الفَخِذ مَنْعُها من العَبث، ووضع اليَد على الفَخِذ لا يُخالف وضعها على الرُّكبة؛ لأن من لازم وضع اليَد على الفَخذ أن تصل أطراف الأصابع إلى الرُّكبة، وفي رواية وائل ابن حُجْر رضي الله عنه عند النسائي وغيره أن النبي صلى الله عليه وسلم : "وضع كَفَّه اليُسرى على فَخِذه ورُكبته اليُسرى، وجعل حَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخِذه اليُمنى" وقوله رضي الله عنه : "وجعل حَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخِذه اليُمنى"، فإذا جعل المصلِّي حدَّ مرفقه على فخذه فإنه بلا شك أن أطراف الأصابع تصل إلى الرُّكبة. قال النووي رحمه الله : "قد أجمع العلماء على استحباب وضعها عند الرُّكبة أو على الرُّكبة، وبعضهم يقول بعطف أصابعها على الرُّكبة، وهو معنى قوله: "ويلقم كَفه اليُسرى رُكْبَتَه". وقوله: "وضع يَده" المُراد باليَد هنا: من أطراف الأصابع إلى المرفقين، وظاهر الحديث: سواء كان ذلك في التَّشهد الأول أو الثاني. قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة" السَّبَّابة هي: الأصْبِع التي تَلي الإبْهَام، وسُمَّيت بالسَّبَّابة؛ لأنَّه يُشار بها عند السَّبِّ، وتسمى أيضًا بالمُسَبِّحة؛ لأنه يُشير بها إلى توحيد الله تعالى وتَنزيهه، وهو: التَّسبيح، والإشارة بالإصبع السَّبَّابة عند التَّشهد سُنة، ثبت بذلك الأحاديث الصحيحة، والسنة أن يشير بها من حِين قَعوده للتَّشهد إلى أن يَفرغ منه؛ لظاهر حديث الباب، فإن قوله: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قَعد يَدْعُو، وضع يَده اليُمْنَى على فخِذِه اليُمْنَى، ويَده اليُسْرَى على فخِذِه اليُسْرَى، وأشَار بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَة..". وفي مسلم -أيضاً- من حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قَعد في التَّشهد وضع يَده اليُسرى على رُكْبَتِه اليُسْرَى، ووضع يَده اليُمنى على رُكبته اليُمنى، وعَقَد ثلاثة وخمسين وأشار بالسَّبَّابة". ومثله: حديث وائل بن حُجْر رضي الله عنه عند أبي داود وفيه :" ثم جلس فافترش رِجله اليُسرى، ووضع يَده اليُسرى على فخذه اليسرى، وحَدَّ مِرفقه الأيمن على فَخذه اليَمنى، وقَبِض ثنتين وحَلَّق حَلَقة، ورأيته يقول هكذا، وحَلَّق بِشْرٌ الإبْهَام والوُسْطَى وأشار بالسَّبَّابة". قال ابن حَجر رحمه الله : "من أول جلوسه للتَّشَهد كما دلت عليه الرِّوايات الأخرى"، وبهذا أفتى الشيخ ابن باز رحمه الله واللجنة الدائمة. قوله: "ووضَع إبْهَامَه على إِصْبَعِهِ الوُسْطَى" يعني: حَلَّق بالإبْهَام والوسْطى وأشار بالسَّبَّابة. قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ" يعني: يُشير بالسَّبَابة؛ وذلك بأن يجعلها قائمة في جميع الأحوال المتقدمة؛ والحكمة في الإشارة بها إلى أن المَعبود سبحانه وتعالى واحد؛ ليجمع في توحيده بين القول والفعل والاعتقاد. وفي حديث ابن عمر مرفوعا في مسند الإمام أحمد: "لهي أشدُّ على الشيطان من الحديد". قوله: "وأشَار بِإِصْبَعِهِ" ظاهر الحديث: أنه لا يُحركها؛ لأن الإشارة غير التحريك. قوله: "ويُلْقِم كَفَّه الْيُسْرَى رُكْبَتَه" أي: يدخل رُكْبَته في راحَة كَفِّه اليُسرى ويقبض عليها، حتى تَصير رُكبته كاللُّقمة في يده. والحال الثانية: أن يبسط يده اليُسرى على رُكبته من غير قَبض كما في حديث ابن عمر رضي الله عنه في مسلم: "أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا جلس في الصلاة وضع يديه على رُكبتيه... ويده اليُسْرى على رُكبته باسطها عليها"، وبناء عليه: تكون سُنة وضع اليدين عند التشهد وردت على وجهين، وبأيهما أخذ فقد أصاب السُّنَّة، والأولى والأفضل أن يفعل هذا تارة وهذا تارة؛ عملا بجميع ما ثبت عنه صلى الله عليه وسلم .

  • مشروعية القُعود للتَّشهد في الصلاة.
  • استحباب وضع اليَدين أثناء التَّشهد على الفَخِذَين.
  • صفة اليدين أثناء التشهد: فاليسرى يبسطها على فخذه اليسرى، وأما اليد اليمنى فيقبض الخنصر والبنصر، ويحلق الوسط مع الإبهام، ويدع السبابة على وضعها، مستعدةً للإشارة بالتوحيد والعلو.
  • في الحديث الإشارة بالإصبع في التَّشهد الأول والثاني.
  • فيه أن الإشَارة بالإصْبِع من أول التَّشهد إلى آخره.
  • استحباب القَبض على الرُّكبة اليُسرى في التَّشهد الأول الثاني.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید