ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: «صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ».
ترجمہ
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہيں کہ مجھے بواسیر تھا۔ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا : "کھڑے ہوکر نماز پڑھو۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو، تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اصل یہ ہے کہ نماز کھڑے ہوکر پڑھی جائے۔ ہاں! اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھی جائے اور اگر بیٹھ کر پڑھنا بھی ممکن نہ ہو، تو پہلو کو بل لیٹ کر پڑھی جائے۔
فوائد
- ہوش و حواس میں رہتے ہوئے نماز معاف نہيں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ استطاعت کے مطابق ایک حالت کی بجائے دوسری حالت میں پڑھنی ہوتی ہے۔
- اسلام ایک کشادہ اور آسان مذہب ہے، جس نے بندے کو اپنی استطاعت کے مطابق عبادت کرنے کی سہولت دی ہے۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الأصلَ في الصلاةِ القيامُ، إلّا في حال عدم الاستطاعة فيُصلِّي جالسًا، وإنْ لم يستطع الصلاةَ جالسًا فله أن يُصلِّي على جَنْبِه.
- الصلاة لا تسقط ما دام العقلُ ثابتًا، فيكون الانتقال من حال إلى حال حسب الاستطاعة.
- سماحة ويُسْر الإسلام في أنَّ العبدَ يفعل من العبادة ما يستطيع.