حدیث

ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس رضي الله عنه ، أنَّ امرأةً كان في عَقْلها شيء، فقالت: يا رسول الله إنَّ لي إليْك حاجة، فقال: «يا أمَّ فُلان انظُري أيَّ السِّكَك شِئتِ، حتى أقضيَ لكِ حاجَتَكِ» فخَلا معها في بعض الطُّرُق، حتى فَرَغتْ مِنْ حاجَتِها.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔ پھر ایک راستے میں آپ اس کے ساتھ لوگوں سے الگ ہوگئے، یہاں تک کہ اسے جس ضرورت کے تعلق سے بات کرنی تھی، کر چکی۔

تشریح

ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت در پیش ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اے ام فلاں! کسی راستے کا انتخاب کر لو۔ تاکہ وہاں میں تمھارے ساتھ جا کر تمھاری حاجت سن کر اسے پورا کرسکوں۔ پھر آپ اس کے ساتھ ایک عام راستے میں جاکر کھڑے ہو گئے تاکہ اس کى حاجت پوری کرسکیں۔ یاد رہے کہ اسے اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنے کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ آپ عام گزرگاہ میں کھڑے تھے اور لوگ دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ بس اس کی بات نہیں سن رہے تھے۔ یہ دراصل آپ کی تواضع اور امت کے ساتھ رحمت و شفقت کے برتاو کی ایک مثال ہے۔

تشریح: العربية

أنَّ امرأةً كان في عقلها شيء من النقص والخفة، قالت للنبي صلى الله عليه وسلم : يا رسول الله إنَّ أريد منك حاجة، فقال لها: يا أمَّ فلان انظري أيَّ طريق أردت أذهب معك إليه، حتى أقضيَ لكِ حاجتَك. فوقف معها في طريق مسلوك ليقضي حاجتها، ولم يكن ذلك من الخلوة بالأجنبية فإن هذا كان في ممر الناس ومشاهدتهم إياه وإياها، لكن لا يسمعون كلامها، وهو من تواضعه ورحمته بأمته صلى الله عليه وسلم .

  • في هذه الحديث بيان بروزه -صلى الله عليه وسلم- للناس وقربه منهم ليصل أهل الحقوق إلى حقوقهم، وهكذا ينبغي لولاة الأمور.
  • بيان صبره -صلى الله عليه وسلم- على المشقة في نفسه لمصلحة المسلمين وإجابته من سأله حاجة.
  • تواضعه -صلى الله عليه وسلم- بوقوفه مع المرأة الضعيفة.
  • جواز أن يخلو الرجل بالمرأة في الطريق العام؛ لأن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: انظري أي السكك شئت، وذلك لأن الخلوة في الطريق ليست خلوة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید