حدیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه ، قال: حَجَّ النبي صلى الله عليه وسلم على رَحْلٍ رَثٍّ، وقَطِيفة تُساوي أربعة دراهم، أو لا تُساوي، ثم قال: «اللهمَّ حَجَّة لا رِياءَ فيها، ولا سُمْعَة».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اونٹنی پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی پیٹھ پر ایک پرانا اور بوسیدہ کجاوہ رکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک کپڑا بچھا تھا، جس کی قیمت چادر درہم یا اس سے بھی کم تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ! میں اپنا یہ حج اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں یا میرے بارے میں سنیں۔ اسے صرف اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے کیا جا رہا ہے۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أن النبي صلى الله عليه وسلم حجَّ على ناقة عليها سرج قديم بالي وفرش يساوي أربعة دراهم، أو أقل من هذا الثمن، ثم قال: اللهم هذه حَجَّة، لا أفعلها من أجل أن يراني الناس أو يسمعوني، إنما أفعلها خالصة لك، من أجل أن ترضى عني.

  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • ما كان عليه النبي -صلى الله عليه وسلم- من زهد في الدنيا وإعراض عن متاعها الزائل.
  • الإبانة لعظيم فضل الحج ورفيع شرفه.
  • فيه ذم للرياء وتقبيح للسمعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید