حدیث

عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها ، أنها سُئلتْ ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يَعْمل في بيته؟ قالت: «كان بشرًا مِن البشر يَفْلي ثوبَه، ويَحْلِب شاتَه، ويَخْدِم نفْسَه».

ترجمہ

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: "آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے پسو اور چچڑی وغیرہ نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے"۔

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو جواب دیا: آپ ایک عام انسان کی طرح رہتے۔ اپنے کپڑے سے چچڑی اور تکلیف دہ چیزوں کو نکالتے، اپنی بکری دوہتے اور اپنے کام خود کرتے تھے۔ در اصل انھوں نے ان کاموں کا ذکر بطور مثال کیا ہے۔

تشریح: العربية

سُئلت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم : ما الذي كان يعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته؟ فقالت: كان بشرًا من البشر، يلتقط القمل والأذى من ثوبه، ويحلب شاتَه، ويخدم نفسَه، وذكرت هذه الأعمال من باب التمثيل.

  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- فقد كان يباشر أعماله الخاصة في بيته بنفسه.
  • أن الأئمة والعلماء يتناولون خدمة أمورهم بأنفسهم، وأن ذلك من فعل الصالحين.
  • استحباب مساعدة الزوج لامرأته في عمل البيت.
  • النبي -صلى الله عليه وسلم- بشر كسائر البشر ولكن الله خصه بالرسالة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید