ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها ، أنَّ أبا بكر دَخَل على النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته، فَوَضَع فَمَهُ بَيْن عيْنَيْه، ووَضَعَ يديْه على صُدْغَيه، وقال: «وَانَبِيَّاهُ، وَاخَليلاهُ، وَاصَفِيَّاهُ».
ترجمہ
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبي صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ا"ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!
تشریح
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے، آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ اپنا منہ اور آپ کى دونوں کنپٹیوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر آپ کا بوسہ لیا اور فرمایا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"۔ یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہآپ کى موت کى وجہ سے غم واندوہ اور تکلیف وپریشانی میں ڈوب گئے اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے ساتھ یاد کیا کہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے مخلص دوست تھے، جن سے وہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے اور جن کو ہر ایک پر، یہاں تک کہ اپنے اوپر بھی ترجیح دیتے تھے۔ اسے عربی میں "النُّدبة" کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں میت کے محاسن اور فضائل بیان کرنا۔ اگر دل کے اندر مصیبت پر اعتراض اور بے صبری کی کیفیت نہ ہو، ساتھ ہی آواز اونچی نہ ہو، جیسا کہ عورتیں چیخ اور چلا کر روتی ہیں، تو یہ جائز ہے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہی کیا تھا۔
تشریح: العربية
دخل أبو بكر الصديق على النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته، فوضع فَمَه بين عَينَي النبي صلى الله عليه وسلم فقبله، ووضع يديه على صُدْغَي النبي صلى الله عليه وسلم ، وهما جانبا الوجه من العين إلى الأذن، وقال: «وانبيَّاه، واخَليلاه، واصَفِيَّاه»، أي: أنه كان رضي الله عنه يتألم ويتوجَّع لموت النبي صلى الله عليه وسلم ، ويصفه بأنه كان صديقه المخلص، الذي كان يحبه أكثر من الناس كلهم، وكان يفضِّله على كل أحد حتى على نفسه. وهذا يسمى النُّدبة، وإذا لم يكن في القلب اعتراض على المصيبة ولا جزع، ولم يكن الصوت مرتفعًا، كما يفعله النساء بصياح ورَنَّة فهو جائز، وهو الذي فعله أبو بكر رضي الله عنه .
- جواز الدخول على الميت وتقبيله.
- شدة حزن أبي بكر الصديق على وفاة النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- في الحديث فضيلة لأبي بكر الصديق وأنه كان خليل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وصديقه المختار.
- اهتمام عائشة، -رضي الله تعالى عنها- بأمر الشريعة، وأنها لم يشغلها عن حفظها ما كان من أمر الناس في ذلك اليوم.