حدیث

جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه ، قال: «لمَّا كان اليوم الذي دَخَل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينةَ أضاءَ منها كلُّ شيء، فلمَّا كان اليوم الذي مات فيه أَظْلَم منها كلُّ شيء، وما نَفَضْنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الأيْدِي وإنَّا لفي دَفْنِه حتى أَنْكَرْنا قلوبَنا».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کے بعد اپنے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے اور ابھی آپ کو دفن کرنے میں مشغول ہی تھے کہ ہم اپنے دلوں کو پہچان نہیں پا رہے تھے"۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آئے اور پہلی بار مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ روشن ہو گيا اور جس دن آپ فوت ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں روشن ہونے اور تاریکی چھانے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ حسی نہیں، بلکہ معنوی ہے۔ انھوں نے آگے بتایا کہ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوئے، تو اپنے دلوں کو, وحی کا سلسلہ بند ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت سے محرومی کی وجہ سے, اس سابقہ روشن وآباد حالت میں نہیں پایا، کہ جس حالت میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کى حیات مبارکہ میں, انوار ایمانی, رقت کے نظاروں اور آپسی میل محبت کے جلؤوں کى بنا پر, اپنے دلوں کو پاتے تھے۔

تشریح: العربية

يحكي أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لما دخل المدينة أول مرة مهاجرًا من مكة، أضاء وأشرق منها كل شيء، فلما كان اليوم الذي مات فيه صلى الله عليه وسلم أظلم منها كل شيء، والإضاءة والإظلام المذكوران في الحديث معنويان لا حسيان، ثم أخبر أنهم لما انتهوا من دفنه صلى الله عليه وسلم لم يجدوا قلوبهم على الحالة السابقة التي كانت عليها في حياة النبي صلى الله عليه وسلم من أنوار الإيمان والرقة والألفة فيما بينهم لانقطاع الوحي، وفقدان بركة صحبته صلى الله عليه وسلم .

  • لما دخل النبي -صلى الله عليه وسلم- المدينة أضاء منها كل شيء, فلما كان اليوم الذي مات فيه -صلى الله عليه وسلم- أظلم منها كل شيء.
  • لم يجد الصحابة قلوبهم على الحالة السابقة التي كانت عليها في حياة النبي -صلى الله عليه وسلم- من أنوار الإيمان والرقة والألفة فيما بينهم لانقطاع الوحي، وفقدان بركة صحبته -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید