ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يَقْتَسِمُ وَرَثَتي دينارًا ولا درهمًا، ما تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَة نسائي، ومئونَة عامِلي فهو صَدَقة».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے"۔
تشریح
اس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔
تشریح: العربية
أفاد الحديث أن ورثة النبي صلى الله عليه وسلم لا يقتسمون -بعد موته- دينارًا ولا درهمًا من ماله؛ لأنه صلى الله عليه وسلم من الأنبياء، والأنبياء لم يورثوا دينارًا ولا درهمًا؛ لأنهم لم يكونوا يجمعون للدنيا وإنما كانت رسالتهم هداية الخلق، فإذا وُجد له مال بعد موته فإنما هو لنفقة زوجاته، وللخليفة بعده، أو لأي قائم على أعمال المسلمين بعده، وما زاد عن ذلك فهو صدقة.
- الأنبياء لا يورثون، وما تركوه صدقة.
- مشروعية جعل أجرة العامل على الوقف.
- أن كل قيم بأمر من أمور المسلمين مما يعمهم نفعه له المئونة والكفاية في بيت مال المسلمين ما دام مشتغلا به، وذلك كالعلماء والقضاة والأمراء وسائر أهل الشغل بمنافع الإسلام.
- جواز اتخاذ الأموال واقتنائها؛ طلبا للاستغناء بها عن الحاجة إلى الناس، وصونًا للوجه والنفس.