حدیث

ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گئے ،پھر فرمایا:میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي بكرة رضي الله عنه قال: أخرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم الحسن، فصعد به على المنبر، فقال: «ابني هذا سيِّد، ولعلَّ اللهَ أن يُصلحَ به بين فئتين من المسلمين».

ترجمہ

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکلے اور ان کو لے کر منبر پر چڑھ گیے، پھر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا“۔

تشریح

ایک دن رسول اللہ ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مسجد کی طرف نکلے اور حسن رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے سے بچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں منبر پر چڑھے اور لوگوں کو بتایا کہ ان کا یہ بیٹا سردار، باعزت خاندانی اور شریف النسب ہے اور روئے زمین پر پائے جانے والے سب سے معزز گھرانے سے اس کا تعلق ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی ایسی دو جماعتیں جو آپس میں لڑائی جھگڑا اور قتال کر رہی ہوں گی اُن کے مابین صلح کرائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے خاص طور پر ان دو جماعتوں کو آپس میں ملا دے گا اور اس میں عام مسلمان بھی ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث رسول اللہﷺ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے معزز شہزادے حسن بن علی - رضی اللہ عنہما - کے بارے میں بتایا کہ وہ مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کر دیں گے اور ان کے مابین صلح کراکے دونوں جماعتوں کے نزاع کو ختم کر دیں گے۔ اور یہ معاویہ - رضی اللہ عنہ- کے حق میں خلافت سے دستبرادری کے ذریعہ ہوا، جس سے کلمہ متحد ہوگیا، اورلوگوں کا خون محفوظ رہا، اور ایسا سنہ 40، یا 41 ہجری کے سال ہوا۔

تشریح: العربية

أخرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم الحسن معه إلى المسجد وهو غلام صغير، فصعد به على منبر مسجده الشريف، وأخبر الناس أن ابنه الحسن سيد، كريم الأصل، شريف النسب، ينتمى إلى أشرف بيت وُجد على وجه الأرض، وأن الله سبحانه سيصلح به بين جماعتين متخاصمتين متقاتلتين من المسلمين، فيجمع الله به بين تلك الجماعتين خاصة، ويلتئم بذلك شمل المسلمين عامة. ولا شك أن في هذا الحديث الشريف علامة من علامات نبوته صلى الله عليه وسلم حيث أخبر فيه صلى الله عليه وسلم على ما يقوم به هذا السيد الكريم الحسن بن علي رضي الله عنهما من جمع كلمة المسلمين، والإِصلاح بينهم، ورفع النزاع بين الطائفتين، ووقع ذلك بتنازله عن الخلافة لمعاوية، مما أدى إلى التئام الشمل، وحقن الدماء، وذلك في عام الجماعة سنة 40 أو 41.

  • فضيلة الحسن بن علي بن أبي طالب -رضي الله عنهما-.
  • السيادة إنما يستحقها من انتفع به الناس؛ لأنه علق السيادة بالإصلاح بين الناس ونفعهم، هذا معنى السيادة.
  • الصلح على الانخلاع من الخلافة، والعهد بها على أخذ مال جائز للمختلع، والمال له طيب.
  • قتال المسلم للمسلمين لا يخرجه من الإسلام إذا كان على تأويل.
  • في هذا الحديث علامة من علامات نبوته -صلى الله عليه وسلم- حيث أخبر فيه على ما يقوم به هذا السيد الكريم الحسن بن علي -رضي الله عنهما- من جمع كلمة المسلمين، والإِصلاح بينهم، ورفع النزاع بين الطائفتين بتنازله عن الخلافة لمعاوية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید