حدیث

مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إنِّي لأعلمُ إذا كنتِ عنِّي راضيةً، وإذا كنتِ عليَّ غَضْبَى». قالت: فقلتُ: مِن أين تَعْرف ذلك؟ فقال: «أمَّا إذا كنتِ عني راضيةً، فإنكِ تقولين: لا وربِّ محمد، وإذا كنتِ علي غَضبى، قلتِ: لا وربِّ إبراهيم». قالت: قلتُ: أجل والله يا رسول الله، ما أهْجُرُ إلَّا اسمَك.

ترجمہ

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "مجھے بخوبی پتہ چل جاتا ہے، جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو"۔ میں نے کہا: بھلا آپ کو یہ کیسے پتہ چل جاتا ہے؟ تو فرمایا : "جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، تو کہتی ہو : نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو، تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم!" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: یہ ٹھیک ہے، لیکن اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام بھر لینے سے بھی گریز کرتی ہوں۔

تشریح

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : مجھے پتہ ہو جاتا ہے کہ کب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اور کب ناخوش۔ انھوں نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ تو فرمایا : جب مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم۔ یعنی قسم میں میرا نام لیتی ہو۔ لیکن جب ازدواجی زندگی سے متعلق کسی بھی دنیوی سبب کی بنا پر مجھ سے ناخوش رہتی ہو، تو قسم کھاتے وقت کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم۔ یعنی میرے بجائے ابراہیم علیہ السلام کا نام لیتی ہو۔ انھوں نے کہا: ہاں، ایسا تو ہے۔ لیکن اے اللہ کے رسول! سچائی یہ ہے کہ میں ناراضگی کے دوران محض زبان سے آپ کا نام لینے سے گریز کرتی ہوں اور آپ کی محبت میرے دل کی گہرائیوں میں پیوست رہتی ہے۔

تشریح: العربية

قالت عائشة رضي الله عنها : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني لأعلم متى تكونين راضية عني، ومتى تكونين غضبانة علي. فقالت له: من أين تعرف ذلك؟ فقال صلى الله عليه وسلم : إذا كنت راضية عني فإنك تقولين: لا ورب محمد، فتذكرين اسمي في قسمك، وإذا كنت غضبانة علي من وجه من الوجوه الدنيوية المتعلقة بالمعاشرة الزوجية قلت في قسمك: لا ورب إبراهيم، فتعدلين عن اسمي إلى اسم إبراهيم. قالت: نعم والله يا رسول الله، ما أترك إلا ذكر اسمك عن لساني مدة غضبي، ولكن المحبة ثابتة دائمًا في قلبي.

  • حب النبي -صلى الله عليه وسلم- لعائشة -رضي الله عنها-, ومكانتها العالية عنده, وما كان عليه -صلى الله عليه وسلم- من الأدب الرفيع والخلق العالي.
  • تأدب عائشة مع النبي -صلى الله عليه وسلم- حتى في ساعة الغضب.
  • يؤخذ منه استقراء الرجل حال المرأة من فعلها وقولها فيما يتعلق بالميل إليه وعدمه والحكم بما تقتضيه القرائن في ذلك.
  • في اختيار عائشة ذكر إبراهيم -عليه الصلاة والسلام- دون غيره من الأنبياء دلالة على مزيد فطنتها؛ لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أولى الناس به كما نص عليه القرآن، فلما لم يكن لها بد من هجر الاسم الشريف أبدلته بمن هو ألصق به حتى لا تخرج عن دائرة التعلق في الجملة.
  • مغاضبة عائشة للنبي -عليه الصلاة والسلام- هو للغيرة التى عفا الله من أجلها عنها وعن النساء فى كثير من الأحكام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید