حدیث

میرے بعد تمھارا (ازواج مطہرات کا) معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: «إنَّ أمركنَّ لمِمَّا يُهِمُّني بعدي، ولن يصبر عليكن إلا الصابرون». قال: ثم تقول عائشة، فسقى الله أباك من سَلْسَبيل الجنة، تريد عبد الرحمن بن عوف، وقد كان وَصَل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم بمال، يقال: بيعت بأربعين ألفا.

ترجمہ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرمایا کرتے تھے: ”میرے بعد تمھارا معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں“۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ تمھارے باپ کو جنت کے چشمۂ سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ اس سے ان کی مراد عبد الرحمن بن عوف تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو -کہا جاتا ہے کہ- چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا۔

تشریح

ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے اپنی ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہوئے کہ مجھے اپنی وفات کے بعد تمھارے معاملے اور تمھارے گزر بسر کے بارے فکر لاحق ہے؛ کیوں کہ میں نے تمھارے لیے کوئی میراث نہیں چھوڑی اور تمھارے اوپر خرچ کرنے کا بار صرف صبر کرنے والے لوگ ہی برداشت کریں گے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے کہا کہ اللہ تیرے باپ عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے اس چشمے سے سیراب کرے، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ نے ازواج رسول ﷺ کے لیے ایک باغ بطور صدقہ دے دیا تھا، جو چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوا تھا۔

تشریح: العربية

يحكي أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف رحمه الله أن أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خاطب أزواجه قائلا: إنه ليحزنني شأنكن ومعيشتكن بعد وفاتي، حيث لم أترك لكن ميراثا، وإنه لن يصبر على تحمل الإنفاق عليكن إلا الصابرون. ثم قالت عائشة لأبي سلمة: سقى الله أباك عبد الرحمن بن عوف من عين الجنة التي تسمى سلسبيلا، وقد كان عبد الرحمن بن عوف قد تصدق على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم بحديقة بيعت بأربعين ألف دينار.

  • شفقة النبي -صلى الله عليه وسلم- على أزواجه ورأفته بهن حتى بعد وفاته.
  • فضيلة لعبد الرحمن بن عوف، وأنه من الأسخياء الصابرين.
  • إثبات الجنة، والعين التي فيها التي تسمى سلسبيلا.
  • الاعتناء بالأقارب بعد الموت من الوفاء بحق الشخص بعد وفاته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید