حدیث

مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنها قالت: قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الفتنةَ التي يُفتن بها المرء في قبره، فلما ذكر ذلك ضَجَّ المسلمون ضَجَّةً حالت بيني وبين أن أفهم كلامَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما سَكَنَت ضَجَّتُهم قلتُ لرجل قريب مني: أيْ -بارك الله لك- ماذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر قوله؟ قال: «قد أُوحِيَ إليَّ أنكم تُفتَنون في القبور قريبًا من فتنة الدَّجَّال».

ترجمہ

اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور اس فتنے کا ذکر فرمایا: جس کے ذریعے آدمی کی اس کی قبر میں آزمائش ہو گی۔ نبی ﷺ نے جب اس کا ذکر کیا، تو مسلمانوں نے اونچی آواز سے گریہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے میں رسول اللہ ﷺ کی بات نہ سن سکی۔ جب ان کے رونے کی آواز تھمی، تو میں نے اپنے قریب موجود ایک شخص سے پوچھا کہ اے فلاں! اللہ تجھے برکت دے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند“۔

تشریح

اسما بنت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ انھیں نصیحت فرما رہے تھے اور آخرت کے دن کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے قبر اور اس کے احوال کا ذکر شروع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے قبر کے امتحان کے فتنہ کا بھی ذکر کیا۔ قبرکے فتنے سے مراد دو فرشتوں یعنی منکر اور نکیر کا بندے سے اس کے رب، اس کے نبی اور اس کے دین کے بارے پوچھنا ہے۔ اس سوال و جواب کو فتنے کا نام اس لیےدیا گیا، کیونکہ یہ ایک بڑا آزمائش ہوگی، جس سے بندے کے ایمان اور یقین کا امتحان لیا جائے گا۔ جسے اس امتحان میں صحیح جواب دینے کی توفیق مل گئی، وہ کامیاب ہو گیا اور جو ناکام رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ جب آپ ﷺ نے اس بات کا ذکر فرمایا، تو مسلمان قبر کے اس فتنے کے خوف سے چیخ اٹھے۔ اس شور کی وجہ سے اسما رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جب آواز تھمی، تو اسما رضی اللہ عنہا نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اے فلاں! بارک اللہ لک، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے کہ عنقریب لوگوں کی قبروں کے اندر آزمائش ہو گی، دجال کی آزمائش کی طرح۔ یعنی جس طرح دجال کا فتنہ بڑا سخت اور مشکل ہو گا، اسی طرح قبر کا فتنہ بھی۔

تشریح: العربية

تخبر أسماء بنت أبي بكر الصديق أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف يوماً يخطب في الناس ويعظهم ويذكرهم الدّار الآخرة، حتى تطرّق إلى القبر وأحواله، وذكر فتنة القبر، والمراد بفتنة القبر: سؤال الملكين منكر ونكير للعبد عن ربه ونبيّه ودينه، وسمي بذلك؛ لأنه فتنة عظيمة يختبر بها إيمان العبد ويقينه، فمن وُفِّق في هذا الاختبار فاز، ومن فشل هلك. فلما ذكر ذلك صاح المسلمون صيحة عظيمة؛ خوفاً من فتنة القبر، فمنعت هذه الصيحة أسماء من أن تسمع كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما هدأ الصوت، قالت أسماء لرجل قريب منها: -بارك الله لك- ماذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر قوله؟ فأخبرها أنه صلى الله عليه وسلم قال: إن الله تعالى أوحى إليه أن الناس يُفتنون ويُمتحنون في القبور قريبًا من فتنة المسيح الدَّجَّال؛ فإن فتنة الدجال شديدة صعبة وكذلك فتنة القبر.

  • أن من السنة تذكير الناس بما هم مقبلون عليه من فتن للاستعداد لها بالعمل الصالح.
  • إثبات سؤال الملكين للعبد في قبره.
  • بيان لما كان عليه الصحابة من شدة الخوف من الله ومن فتنة القبر.
  • ينبغي للسائل أن يقدم قبل سؤاله ما يدل على تبجيل العالم، وتعظيمه، من الدعاء له، وندائه بما يحب أن ينادى به.
  • إثبات فتنة المسيح الدجال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید