حدیث

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «لا تقوم الساعة حتى تُقاتِلوا خُوزًا وكِرْمان من الأعاجم، حُمْر الوجوه، فُطْس الأُنوف، صِغار الأعين، وجوههم المِجَانُّ المُطْرَقة، نعالهم الشعر».

ترجمہ

ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے“۔

تشریح

قیامت اس وقت تک نہ آئےگی جب تک کہ مسلمان بلادِ عجم (ایران) کے خوز اور کرمان کے لوگوں سے جنگ نہ کر لیں۔ ان کا حلیہ یہ ہوگا کہ ان کے چہرے، ان کےجسموں پر سردی کے غلبے کی وجہ سے، سفید سُرخی مائل ہوں گے، ان کی ناک چپٹی (بیٹھی ہوئی) اور آںکھیں چھوٹی ہوں گی، ان کے چہرے گولائی اور کشادگی میں ڈھال کی مانند ہوں گے۔ نیز موٹے اور زیادہ گوشت والے ہونے کی وجہ سے تہ بہ تہ چمڑے کی ڈھال کے مشابہ ہوں گے۔۔ وہ بالوں کی جوتیاں پہن کر چلیں گے۔

تشریح: العربية

لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون أهل خوز وكرمان من بلاد العجم، ومن صفتهم أن وجوههم بيضاء مشربة بحمرة؛ لغلبة البرد على أجسامهم، وأنوفهم منبطحة، وأعينهم صغيرة، ووجوههم تشبه الترس في انبساطها وتدويرها، وتشبه المطرقة لغلظها وكثرة لحمها، يمشون في نعال من الشعر.

  • فيه أن من علامات الساعة قتال أهل خوز وكرمان.
  • فيه علم من أعلام النبوة، وهو الإخبار عما سيقع في المستقبل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید