ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: صلى النبي صلى الله عليه وسلم -قال إبراهيم: لا أدري زاد أو نقص- فلما سلم قيل له: يا رسول الله، أحَدَثَ في الصلاة شيء؟ قال: «وما ذاك»، قالوا: صليتَ كذا وكذا، فَثَنَّى رِجليْهِ، واستقبل القبلة، وسَجَدَ سجدتين، ثم سلم، فلما أقبل علينا بوجهه، قال: «إنه لو حَدَثَ في الصلاة شيءٌ لنَبَّأَتُكُم به، ولكن إنما أنا بَشَرٌ مثلكم، أنسى كما تَنْسَوْن، فإذا نسَيِتُ فذَكِّرُوني، وإذا شَكَّ أحدكم في صلاته، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فليُتِمَّ عليه، ثم ليسلم، ثم يسجد سجدتين».
ترجمہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ:نبی ﷺ نے نماز پڑھائی، -ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی- پھر جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا کہ اے اللہ رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ ﷺ نے کہا:آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کیے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں۔اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دِلا دیا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائےتو سوچ کر درست کیا ہے، اسے معلوم کرے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔
تشریح
اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اس میں کمی بیشی ہو گئی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز میں کسی تبدیلی کا حکم آ گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا پھر انھیں بتایا کہ وہ بھی ان جیسے انسان ہیں اور نماز میں کمی بیشی کے اعتبار سے بھول سکتے ہیں۔ پھر یہ حکم بیان کیا کہ جو شخص بھول کر نماز میں کمی بیشی کر بیٹھے تو پھر ادا شدہ عدد رکعات کو یقینی کر لے اور اگر اس میں نقص آ گیا ہے تو اس کے مطابق نماز پوری کرے اور سہو کے دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔
تشریح: العربية
يبين الحديث الشريف أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم صلاة زاد فيها أو نقص، فسأله الصحابة هل حدث في الصلاة تغيير؟ فأخبرهم بأنه لو حدث فيها شيء لأخبرهم، ثم ذكر أنه بشر مثلنا ينسى لزيادته في الصلاة أو نقصانه، ثم ذكر الحكم فيمن زاد أو نقص في الصلاة ناسياً ثم ذكر أن يتحقق من عدد الركعات ثم يتم إن كان فيها نقص أو يسجد سجدتين للسهو ثم يسلم منهما.
- أن سجود السهو للزيادة سهوًا في الصلاة، وأنَّها لا تعاد، بل يسجد سجود السهو، ويجبر بهما خلل صلاته.
- أنَّ سجدتي السهو يُؤتى بهما من جلوس، فلا يشرع أن يقوم حينما يريد أن يسجدهما.
- أنَّ المتابعة خطأَ لا تبطل الصلاة، ولكن إذا علم بخطأ إمامه فلا يتابعه إلاَّ في التشهد الأول، فإنه يقوم معه إذا لم يعلم الإمام بالخطأ إلاَّ بعد أن استتمَّ قائمًا.
- أنَّ سجدتي السهو، كالسجود ضمن الصلاة في الأحكام.
- أنَّ الانصراف عن القِبلة سهوًا، أو خطأ -لا يبطل الصلاة.
- أنَّ الكلام مع ظن إتمام الصلاة لا يبطلها، ولو طال.
- أنَّ محل سجود السهو يكون بعد السلام في مثل هذه الصورة.
- قوله: "فإذا نسيتُ فذكروني"، دليل على أنَّه يجب على المأمومين أن ينبهوا الإمام إذا سها في الصلاة.
- دل قوله: (إذا شك أحدكم في صلاته) وكذا غيره من الأحاديث المتقدمة على أن سجود السهو مشروع في صلاة النافلة، كما هو مشروع في صلاة الفريضة؛ لأن الجبران وإرغام الشيطان يحتاج إليه في صلاة النفل، كما يحتاج إليه في صلاة الفرض.
- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بشر يعتريه ما يعتري البشر من النسيان وغيره.