ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن زياد بن علاقة قال: صَلَّى بِنَا المغيرة بنُ شُعْبَةَ فَنَهَضَ في الركعتين، قلنا: سبحان الله، قال: سبحان الله وَمَضَى، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ».
ترجمہ
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا، جیسا میں نے کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ (ایک مرتبہ) نماز میں (کچھ) بھول گئے، ان کے پیچھے موجود مقتدیوں نے ”سبحان اللہ“ کہا، وہ سمجھ تو گئے، لیکن نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور اپنے اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے فعل کی طرف کی۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ کی روایت میں ہے۔ (متفق علیہ)
تشریح: العربية
يبين الحديث من فعل المغيرة بن شعبة رضي الله عنه أنه سها في صلاته، فلم يتشهد وسبح خلفه الناس ففطن، ولكنه أكمل صلاته، وبعد السلام سجد سجدتين للسهو؛ وعزا فعله ذاك لفعل الرسول صلى الله عليه وسلم . الأصح أن سجود السهو يكون قبل السلام؛ لحديث عبد الله بن مالك ابن بحينة، متفق عليه.
- الحديث الذي معنا يدل على أنَّ من سها عن القعود للتشهد الأول فقام، فإن استتم قائمًا قبل أن يذكره فإنه لا يعود، لكنَّه يسجد سجدتين قبل السلام.
- وأما إن ذكره قبل أن ينتصب قائمًا، فإنه يجب عليه الرجوع، والجلوس، والإتيان به.