حدیث

سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «ص ليس من عَزَائِمِ السُّجود، وقد رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يَسجد فيها».

ترجمہ

ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

تشریح

”سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سورہ ص میں جو سجدۂ تلاوت ہے وہ واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کرنے پر کوئی تاکیدی حکم وارد نہیں ہوا، بلکہ خبر دینے کے الفاظ میں اس کا کرنا وارد ہوا ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے یہ سجدہ فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول کرکے ان کی مغفرت کے ذریعے ان پر انعام فرمایا تو آپ ﷺ نے شکریہ کے طور پر یہ سجدہ ادا فرمایا۔ سنن نسائی کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا“ یعنی ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔

تشریح: العربية

معنى حديث: "ص ليس من عَزَائِمِ السُّجود" أن سجدة التلاوة التي في سورة ص سنة غير واجبة؛ لأنه لم يرد فيها أَمر على تأكيد فعلها، بل الوارد بصيغة الإخبار؛ بأنَّ داود -عليه الصلاة والسلام- فعلها توبة لله تعالى ، وسَجَدَها نبيُّنَا صلى الله عليه وسلم شكرا؛ لمَّا أنْعَم اللَّهُ على داودَ -عليه الصلاة والسلام- بالغُفْرَان، ويدل له ما رواه النسائي، أنَّه صلى الله عليه وسلم قال: (سجدها داود توبة، ونسْجُدها شكرًا).

  • استحباب السُّجود في ص.
  • أن المَسْنُونَات قد يكون بعضها آكد من بعض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید