حدیث

میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات کو نہ پڑھے (جن میں یہ دونوں سجدے آئے ہیں)۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عُقْبَة بن عامر رضي الله عنه قال: قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أفِي سورة الحج سَجدَتَان؟ قال: «نعم، ومن لم يَسْجُدْهما؛ فلا يَقْرَأْهما».

ترجمہ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات کو نہ پڑھے (جن میں یہ دونوں سجدے آئے ہیں)۔

تشریح

اس حدیث میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے سوال کررہے ہیں اور آپ ﷺ سے سورة الحج کے بارے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا اس میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اس میں دو سجدے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں ایک اور حکم بیان فرمایا کہ جو شخص ان دونوں سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا تو وہ ان دونوں آیات کو نہ پڑھے۔ یعنی جو شخص ان دونوں آیات تک پہنچے اور وہ ان میں سجدے نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ انہیں نہ پڑھے۔ یہ ممانعت تحریم کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ کراہت و ناپسندیدگی کے لیے ہے۔ اور سجدہ تلاوت کرنا سنت ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث: يسأل عُقبة بن عامر رضي الله عنه النبي صلى الله عليه وسلم ويَستفهم منه عن سورة الحج، أفيها سجدتان؟ فأجابه النبي صلى الله عليه وسلم بنعم، فيهما سجدتان. ثم زاده حكما آخر، وهو: "ومن لم يَسجدهما فلا يَقرأهما" أي: من أتى على هاتين الآيتين، ولم يُرد السُّجود فيهما فلا يقرأهما، وهذا النهي ليس للتحريم ولكنه للكراهة، وسجود التلاوة سُنة.

  • الحديث دليل على أنَّ في سورة الحج سجدتين.
  • الرَدٌ على من لم يعتبر السَّجدة الثانية من سَجدات القرآن.
  • الحديث يدل على مِيزة سُورة الحج على غيرها من سور القران؛ بأنَّ فيها سجدتين، إلا أن ذلك لا يدل على تفضيلها على غيرها من السّور مطلقًا، وإنَّما يفضل الشَّيء على الشَّيء بحسب ما قيِّد به.
  • أن القرآن يتفاضل، وأن بعضه أفضل من بعض؛ لحكمة الله أعلم بها.
  • مشروعية إجابة السائل بأكثر مما سأل مما يحتاج إليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید