ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان «إذا جاءه أمرُ سرورٍ، أو بُشِّرَ به خَرَّ ساجدًا شاكرًا لله».
ترجمہ
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کوئی باعثِ مسرت چیز پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔
تشریح
یہ حدیث شریف نبی ﷺ کے فعل کو بیان کر رہی ہے کہ جب بھی آپ ﷺ کو کوئی باعثِ مسرت امر پیش آتا یا پھر کسی اچھی بات کی بشارت دی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔سجدۂ شکر ایسی نعمتوں کے لیے مشروع ہے جو نئی نئی حاصل ہوئی ہوں۔ ایسی نعمتیں جو ہمہ وقت جاری رہتی ہیں جیسے اسلام، عافیت اور لوگوں سے بے نیازی کی نعمتیں تو ان میں سجدہ شکر کرنا مشروع نہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں تو ہمیشہ جاری رہتی ہیں اور ان کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اگر ان کے لیے سجدہ بجا لانا مشروع کر دیا جاتا تو پھر تو انسان اپنی ساری عمر سجدے میں ہی لگا دیتا۔ ان (ہمہ وقت جاری رہنے والی) نعمتوں پر اور ان کے علاوہ دیگر نعمتوں پر شکر بجا لانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرماں برداری کی جائے۔
تشریح: العربية
يبين الحديث الشريف فعل النبي صلى الله عليه وسلم كلما جاءه أمر يسره أو بشارة بشيء حسن؛ أنه كان يخر ساجداً سجود شكر لله تعالى . سجود الشكر شرع عند النعم المتجددة، أما النعم المستمرة كنعمة الإسلام ونعمة العافية والغنى عن الناس ونحو ذلك فهذه لا يشرع السجود لها؛ لأن نعم الله دائمة لا تنقطع، فلو شرع السجود لذلك لاستغرق الإنسان عمره في السجود، وإنما يكون شكر هذه النعم وغيرهما بالعبادة والطاعة لله تعالى .
- هذا الحديث يدل على سجدة يقال لها: "سجدة الشكر"، وهي مستحبة عند تجدد نعمة، أو اندفاع نقمة، سواء أكانت النقمة، أو النعمة خاصة بالساجد، أم عامة للمسلمين.
- سجود الشكر لا يفتقر إلى طهارة واستقبال القبلة كسجود التلاوة.
- سجود الشكر من السنن المهجورة بين الناس في هذا الزمان، فينبغي للمسلم إحياؤها عند حصول سببها.